پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرگئی

IMG-20200519-WA0004.jpg

ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ جاری
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے
پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرگئی
گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ کیسز رپورٹ
گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونی والی اموات ایک دن میں سب سے زیادہ
پاکستان میں مجموعی کیسز کی تعدا 50 ہزار 694 ہوگئی
گذشتہ 24 گھنٹوں میں 50 اموات ہوئیں ، ترجمان
گذشتہ 24 گھنٹوں میں 2603 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، ترجمان
سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 19924، پنجاب میں 18455ہو گئی
کے پی میں کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کی تعداد 7155، بلوچستان میں 3074ہو گئی
اسلام آباد میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1326، آزاد جموں و کشمیر 158، گلگت میں 602ہو گئی، نیشنل کمانڈ سینٹر

‏‎#بلوچستان میں ‎#کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 3198 ہوگئی

آج 495 ٹیسٹ رپورٹس موصول ہونے، 124 مثبت اور371 منفی۔

762 افراد صحتیاب و 39 افراد جاں بحق ہوئے۔

صحتیاب ہونیوالےمریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ بہت بڑی خوشخبری ہے 8%اضافہ کیساتھ 24%ہوگیا
اموات میں 1% کمی کیساتھ 1% ہوگیا

آزادکشمیر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید13افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی جبکہ 15کرونا کے مریض صحت یاب ہو گئے اور209افراد کے کرونا کے شبہ میں ٹیسٹ لیے گئے۔ نئے سامنے آنے والے کیسز میں سے08کا تعلق مظفرآباد ،03 کا میرپور جبکہ 2کا کوٹلی سے ہے ۔ آزادکشمیر میں اب تک4868 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے4806 کے رزلٹ آچکے ہیں اور171افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے جن میں سے94 افراد صحت یاب ہو چکے ہیںاور انہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے جبکہ76مریض زیر علاج ہیں اور ایک مریض کی موت ہوئی ہے۔ محکمہ صحت عامہ کی جانب سے جاری کردہ شام4بجے تک کی رپورٹ کے مطابق آئسولیشن ہسپتال مظفرآباد سے 24،ڈی ایچ کیو راولاکوٹ سے12،ڈی ایچ کیو باغ سے04،ڈی ایچ کیوسدھنوتی سے 10،نیو سٹی ہسپتال میرپور سے 12،03 ٹی ایچ کیو ہسپتال ڈڈیال میرپور ،ڈی ایچ کیو بھمبر سے 16جبکہ ڈی ایچ کیو کوٹلی سے 13مریض صحت یاب ہوئے جنہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔کرونا کے76مریضوں میں سے59آئسو لیشن ہسپتال مظفرآباد،سی ایم ایچ راولاکوٹ میں 3، ڈی ایچ کیو باغ میں 03، ڈی ایچ کیو میرپور میں9اور ڈی ایچ کیو کوٹلی میں دومریض زیر علاج ہیں ۔رپورٹ کے مطابق4534 افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی اور62افراد کے ٹیسٹ کے رزلٹ آنا باقی ہیں۔نئے افراد کے کرونا کے ممکنہ کیسز کے حوالہ سے لیے گے ٹیسٹ کی رپورٹ ایک دو روز میں آجائے گی۔ رپورٹ کے مطابق تمام اضلاع میں 58قرنطینہ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ تمام انٹری پوائنٹس پر محکمہ صحت کا عملہ موجود ہے جو ہمہ وقت مسافروں کی سکریننگ کررہا ہے۔ویرالوجی لیب عباس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میرپوراور سی ایم ایچ راولاکوٹ میں پی سی آر ٹیسٹنگ ہو رہی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے آزادکشمیرمیں قائم تمام آئسولیشن سنٹرز میں انفکیشن ، پری وینشن اینڈ کنٹرول (IPC)ٹریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تمام انٹری پوائنٹس پر ضلعی ریپڈریسپانس ٹیمیں اور صحت کا عملہ کرونا سے متاثرہ علاقوں سے آنے والے لوگوں کی مکمل سکریننگ کر رہا ہے ۔آزادکشمیر کے اضلاع سدھنوتی، بھمبر ، کوٹلی ، میرپور ، نیلم، باغ، اور مظفرآباد کی ریپڈ ریسپانس ٹیمیں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ افراد سے رابطہ میں رہنے والے افراد سے رابطہ کر کے انہیں قرنطینہ سنٹرز اور ہوم قرنطینہ کر رہی ہیں۔

سوات میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 24 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ‘متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد653 ہوگئی، محکمہ صحت کے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ضلع بھر میں اب تک 3055افراد کے ٹسٹ کئے گئے جن میں سے 2095افراد کے ٹسٹ نیگیٹیو آئے ہیں ، کورونا بیماری میں مبتلا 295 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں اس کے علاوہ سوات کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 31 افراد جاں بحق بھی ہوچکے ہیں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوںسے تعلق رکھنے والے 24 افراد کے ٹسٹ رپورٹ مثبت آنے کے بعد محکمہ صحت کے حکام نے عید کے دنوں میں سماجی فاصلے رکھنے کی پابندی پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

وزیراعظم کے معان خصوصی برائے صحت کی پریس کانفرنس

وزیراعظم کے معان خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ عوام نے اگر احتیاطی اقدامات پر عمل نہیں کیا تو ملک میں وائرس کے پھیلاو کی صورتحال بگڑنے کا اندیشہ ہے اور اس کے ذمہ دار بھی وہ خود ہوں گے۔اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے جتنے کیسز گزشتہ 24 گھنٹوں میں سامنے آئے وہ ملک کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ اموات کی تعداد بھی ایک روز میں سامنے آنے والے سب سے بڑی تعداد ہے جو 50 ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹیسٹنگ کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہے اور اب تک کے سب سے زیادہ ٹیسٹ بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کیے گئے۔تاہم اگر صورتحال کو دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاو کی صورتحال تشویشناک ہے اور یہ ایک ایسے موقع پر ہورہا ہے جب حکومت نے تمام عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے لاک ڈاون میں نرمی کی۔ان کا کہنا تھا کہ نمازوں اور مساجد کے حوالے سے ایس او پیز تیار کیے ہیں انہیں جمعتہ الوداع کے موقع پر بھی اختیار کریں اور کوشش کریں کہ جمعہ کی نماز گھر میں ادا کریں لیکن جانا ضروری ہے تو احتیاطی اقدامات کریں۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد دیگر نمازوں کے ساتھ عید کی نماز کے اجتماع میں جانے سے گریز کریں اور کوشش کریں گھر میں نماز ادا کریں۔ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون میں نرمی اس لیے کی گئی تا کہ غریبوں کو روزگار کے حوالے سے پریشانی نہ ہو لیکن اس کے ساتھ بیماری بڑھ رہی ہے پھیل رہی ہے اور اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔گفتگو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ لاک ڈاون میں نرمی کی گئی تا کہ عوام احتیاطی تدابیر مدِ نظر رکھتے ہوئے عید کے سلسلے میں خریداری کرسکیں اسی طرح عید کے موقع پر سفر کے لیے ٹرانسپورٹ کھولی گئی اور اس کے لیے تفصیلی ایس او پیز بھی جاری کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ تاہم مشاہدے میں یہ بات آئی کہ گزشتہ کچھ ہفتوں میں جو صورتحال سامنے آئی وہ انتہائی غیر تسلی بخش ہے لوگ ہجوم کی صورت میں باہر نکلتے ہیں خاص کا افطاری سے قبل یہ صورتحال مزید خراب ہوجاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو یہ صورتحال بہت زیادہ بگڑ سکتی ہے اور اس کے لیے کسی اور کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے بلکہ عوام خود اس کے ذمہ دار ہوں گے کیوں کہ ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے بار ہا یہ بتایا جارہا ہے کہ اس وبا کو صرف سماجی فاصلے سے روکا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ زندگی کے معمولات جاری و ساری رکھیں لیکن ساتھ ہی ساتھ تمام احتیاطی اقدامات کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام کو شاپنگ اور پر ہجوم مقامات پر جانے سے قبل ماسک پہننے کی ہدایت کی تھی اور اس پر عملدرآمد کا جائزہ لے کر اب ماسک کو ہر ایک کے لیے لازم قرار دے دیا گیا ہے۔یوں پبلک ٹرانسپورٹ، عوامی مقامات، بازاروں میں جاتے ہوئے عوام کو لازمی ماسک پہننا ہوں گے اور یہ کوئی انتخاب نہیں بلکہ لازم ہوگا تا کہ آپ اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں اور دوسرے بھی آپ سے محفوظ رہیں۔عید کی نماز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ رمضان میں دیگر پنجگانہ اور نماز تراویح کے لیے جو ہدایات جاری کیں تھیں نماز عید کے لیے بھی ان پرعمل کیا جائے اور بہتر ہے کہ گھروں میں نماز عید ادا کریں۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ صاحبِ حیثیت لوگ لاک ڈان سے متاثر افراد کی اس طرح مدد کریں کہ ان کی عزت نفس متاثر نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ یہ عید بالکل مختلف ہے اور اس عید پر ایک دوسرے کے گلے نہیں ملنا بلکہ فاصلہ رکھ کر مبارکباد دیں اور فاصلہ برقرار رکھیں کیوں کہ گلے ملنے سے بہت تیزی سے وبا پھیلنے کا امکان ہے

Comments

comments