نایاب عمرانی کیس’ ڈی سی جیکب آباد، نصیر آباد اور صحبت پور سے ایک ماہ تفصیلی رپورٹس طلب ڈی سی جیکب آباد مقتولین کی جائیداد کا تمام ریکارڈ اکٹھا کریں اور قبضہ بھی حاصل کریں، سپریم کورٹ

عدالت عظمی نے نایاب عمرانی توہین عدالت کیس میں ڈی سی جیکب آباد، نصیر آباد اور صحبت پور سے ایک ماہ تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔ جمعہ کوجسٹس عمر عطابندیال کی سربر اہی میں دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں نایاب عمرانی توہین عدالت کیس کی سماعت کی، اس دوران سماعت درخواست گزارہ نایاب عمرانی نے موقف اپنایا کہ6 جولائی 2018 کو سابق چیف کو درخواست دی تھی، ہماری جائیداد پر قبضہ کے لیے میرے خاندان کو قتل کیا گیا، سپریم کورٹ کے حکم پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کیا گیا، ڈپٹی کمشنر جیکب آباد نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کرایا، میں واپس اپنے گھر نہیں جا سکتی اور دو سال سے اسلام آباد میں رہنے پر مجبور ہوں، میں وہاں نہیں جا سکتی عدالت نے حکم دیا تھا ڈی سی میری جائیداد فروخت کرنے کے لیے کمیشن بنائیں،جیکب آباد میں میرا گھر، تین دوکانیں اور دیگر جائیداد جو ہمارے نام ہے عدالت وہ سیل کروا دے، پہلے گھر اور دوکانوں کا کرایہ مجھے ملتا تھا سوموٹو کیس ختم ہونے پر بند ہو گیا، بلوچستان میں نصیر آباد، جعفر آباد اور صحبت پور میں ہماری زمین موجود ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاجیکب آباد میں سوا تین ایکڑ زمین ہے جس میں دیگر حصہ دار موجود ہیں، ان کو سنے بغیر عدالت فیصلہ نہیں دے سکتی، عدالت اس زمین پر حکم امتناع دے چکی ہے، نایاب عمرانی نے کہامیرے والد نے پانچ شادیاں کیں جن میں چار بلوچ اور میری والدہ پنجابی تھیں باقی سارے میرے خلاف ملے ہوئے ہیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہازمین کی تقسیم کا فیصلہ سول جج نے کرنا ہے، ایڈوکیٹ جنرل بلوچستا ن نے کہا ان کی زمین کا تنازع نصیر آباد میں تھا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ایڈووکیٹ جنرل صاحب آپ متعلقہ ڈی سی تمام ریکارڈ منگوائیں، جو لوگ آپ کی جائیداد پر قابض ہیں ہم ان کو فارغ کروا دیں گے عدالت زیادہ سے زیادہ آپ کی جائیداد فروخت کروا سکتی ہے، اگر زمین کی تقسیم کا تنازع ہے تو وہ سول عدالت ہی فیصلہ کر سکتی ہے، عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ مقتول افراد کے نام جائیداد ضلع نصیر آباد، جعفر آباد اور صحبت پور میں موجود ہے،8اکتوبر 2018کے عدالتی حکم میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی تھی کہ مذکورہ جائیداد کی تفصیلات جمع کرائی جائیں پیٹشنر کے خاندان کے چار افراد کو جائیداد کے تنازع پر قتل کیا گیادرخواست گزار گزشتہ دو سال سے اسلام آباد میں پناہ لینے پر مجبور ہے، عدالت کی جانب سے سو موٹو کیس نمٹانے کے بعد کیس پر کوئی پیش رفت نہیں کی گئی،تاحال عدالتی احکامات پر کوئی رپورٹ پیش نہیں کی گئی، ڈی سی جیکب آباد مکمل رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں کہ عدالتی احکامات پر کتنا عمل ہواایڈووکیٹ جنرل بلوچستان متعلقہ حکام کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنائیں،تینوں ڈی سی صاحبان جس جس جائیداد میں درخواست گزار کا حصہ ہے اس کی رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائیں،ڈی سی جیکب آباد مقتولین کی جائیداد کا تمام ریکارڈ اکٹھا کریں اور قبضہ بھی حاصل کریں، عدالت نے توہین عدالت درخواست فوجداری پٹیشن میں تبدیل کر دی کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

Comments

comments