کورونا رنگ ،نسل ، مذہب نہیں دیکھتا ، عالمی ادارے مل کر مسئلے کا حل تلاش کریں،سفیر یورپی یونین

اسلام آباد پاکستان میں متعین یورپین یونین کی سفیراینڈرولا کمینارا نے کہا ہے کہ کوروناوائرس انسان کی رنگ، نسل اور مذہب نہیں دیکھتا،ساری دنیا کو یکجہتی کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے ۔ علم اور سائنس کی بنیاد پر مل کر اس مسئلہ کا حل ڈھونڈیں گے، ہمارا مئوقف ہے کہ بین الاقوامی ادارے مل کر اس مسئلہ کا حل تلاش کریں۔ یورپین یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کے بڑے ممالک سے ترقی پذیر ملکوں کے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے مطالبہ کی حمایت کرے گی، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جب ہمارے شراکت دار ممالک جو بہت زیادہ مقروض ہیں اگر انہیں ہماری حمایت کی ضرورت ہو گی تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ نہ صرف کوروناوائرس کے پھیلائو کے بعد بلکہ اس سے قبل بھی یورپین یونین نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کشمیر اور دیگر جگہوں پر انسانی حقوق کا احترام کیا جانا چاہئے ۔ ان خیالات کا اظہار اینڈرولا کمینارا نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپین یونین سمجھتی ہے کہ کوروناوائرس کا بحران ایک ایسا بحران ہے جس کی مثال نہیں ملتی اور کے خلاف دنیا کے ممالک اور خطوں میں کام صلح، سائسنس، علم اور تعاون کی بنیا د پر ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ سے کا حل کثیرالجہتی کوششوں سے نکالاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وائرس کسی بارڈر کی عزت نہیں کرتا اور بارڈرز کو بند کرنا اور تجارت کو بند کرنا اور لوگوں کی نقل و حرکت کو بند کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اتنے بڑے بحران سے نمٹنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مل کرکام کریں اور اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت ، عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ اور یورپین یونین کے شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کی امداد روکنے کے فیصلہ پر یورپین یونین کو افسوس ہے۔ اس وقت ہمیں ایک مضبوط عالمی ادارہ صحت کی ضرورت ہے جو اقوام متحدہ کی چھتری تلے اس قسم کی عالمی وبائوں کا مقابلہ کرسکے، کوروناوائرس کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے چند روز قبل یورپین یونین کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کے لئے 15.6 ارب یوروز کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپین یونین کوروناوائرس کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد بھی کررہی ہے، یورپین یونین پاکستان کو دوطرفہ طریقہ سے 100ملین یوروز کی امداد فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپین یونین مقبوضہ کشمیر میں کوروناوائرس کے پھیلائو کے رجحان کے حوالہ سے فکرمند ہے اور پاکستان سمیت اپنے پارٹنرز سے بات کررہی جبکہ بھارت سے بھی بات کی جار رہی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ کوروناوائرس بحران کے خلاف ریسپانس انسانی حقوق کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے اور انسانی حقوق کے حوالہ سے مثبت سوچ کے ساتھ ردعمل دیا جائے گا اور ہمیں اس چیز کی توقع ہے۔ ZS

Comments

comments