ملاکنڈ ڈویڑن کے 9 اضلاع میں اب تک 20 کروناوائرس کے کیس سامنے آئے ہیں

سوات کمشنر ملاکنڈ ڈویڑن ریاض خان محسود نے کہاہے کہ ملاکنڈ ڈویڑن کے 9 اضلاع میں اب تک 20 کروناوائرس کے کیس سامنے آئے ہیں،271 مشتبہ کیسوں میں سے 148 کیس نیگیٹو آئے ہیں،بیرون ممالک اور باہر سے 15166 افراد ملاکنڈ ڈویڑن میں داخل ہوئے ہیں جن میں سے12501 بیرون سے آنے والے افراد کی سکریننگ مکمل ہوچکی ہے،کرونا سے محفوظ اپرچترال اور لوئرچترال کو مکمل طور پر سیل کردیا ہے، چترالی مکین جہاں ہیں وہاں رہے، چترال آنے کی زحمت نہ کریں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے جرگہ ہال سیدوشریف میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم بھی موجود تھے،کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ریاض خان محسود نے کہاکہ ملاکنڈ ڈویژن کے نو اضلاع کی ایک کروڑ آبادی کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں سنجیدہ اقدامات اٹھارہی ہیں اور تمام اضلاع میں مجموعی طور پر 1420کمروں پر مشتمل 65قرنطینہ سنٹرز قائم کردئے گئے ہیں جبکہ 1226بیڈ پر مشتمل 47آئسو لیشن یونٹ بھی قائم کردئے گئے ہیں،انہوں نے کہاکہ اب تک 271کیسوں میں سے 20کیس مثبت آچکے ہیں جبکہ دیر لوئر میں ایک خاتون انتقال کرچکی ہے،اسی طرح 148کیس نیگٹیو آئے ہیں اور 103کے رزلٹ آنے باقی ہیں،انہوں نے کہاکہ بیرون ملک اور اندورن ملک سے 15166افراد ملاکنڈ ڈویژن میں داخل ہوئے ہیں جن میں سے 12501کی سکریننگ ہوچکی ہے اور دیگر افراد کی سکریننگ کے لئے ٹیمیں ان کے گھروں میں جارہی ہیں،انہوں نے کہاکہ اس وقت ملاکنڈ ڈویژن کے دو اضلاع اپر چترال اور لوئر چترال میں کورونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آسکا ہے اور اسی بنیاد پر دونوں اضلاع کو سیل کردیا گیا ہے اور کسی کو باہر آنے یا اندر جانے کی اجازت نہیں ہے انہوں نے کہاکہ چترال کے مکین جہاں پر ہیں وہیں پر رہیں کیونکہ چترال میں داخل ہونے والے افراد 14 روز تک قرنطینہ سنٹر میں رہیں گے انہوں نے کہاکہ غرباء اور مستحق افراد کو امداد پہنچانے کے لئے کمیٹیاں قائم کردی گئی ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ ان افراد کو باعزت طریقے سے ہی امداد پہنچائی جائے گی۔ادھر چیئرمین ڈیڈیک سوات فضل حکیم کی زیر صدارت کوروناوائرس سے پیدا شدہ صورتحا ل کی تناظر میں علماء کرام کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں شیخ الحدیث مولانافقیرمحمد صدر گورنمنٹ دارالعلوم سیدوشریف ،مولاناتاج احمد،مولانااکبرعلی،مولانا احسان اللہ،مولانااسماعیل،انچارچ سپیشل برانچ ملاکنڈڈویژن پیر زر باچا اور دیگر نے شرکت کی اس موقع پر کورونا وائرس کی روک تھام اور بچاؤ کے لئے اقدامات پر بھی غور کیا گیا، علماء کرام نے فضل حکیم کو یقین دلایا کہ اس مشکل کی گھڑی میں سوات کے علماء کرام حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں اور اس سلسلے میں جو بھی ضرورت پڑی اپنا کردار ادا کریں گے، اجلاس کے اختتام پر موذی وباء کے خاتمے اور ملک وقوم کی سلامتی کے لئے خصوصی دعا بھی کرائی گئی۔سوات میں دو دن سے جاری بارش سے موسم شدید سرد ہوگیا، لوگوں سردی کی وجہ سے گر م کپڑوں کے استعما ل اور گھروں تک محدود رہنے پر مجبور ہوگئے ، سوات کے میدانی وپہاڑی علاقوں میں گزشتہ دو دن سے شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے موسم انتہائی سرد ہوگیا ، موسم کی اچانک تبدیلی کی وجہ سے ایک جانب سردی کی شدت میں اضافہ ہوا تو دوسری جا نب کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈائون کے باعث جو لوگ گھروں میں بیٹھنے کی بجائے بازاروں میں نکلنے کی کوشش کرتے تھے وہ بھی گھروں میں رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ سردی میں اضافے کی وجہ سے لوگوں نے ایک بار پھر گرم کپڑوں کا استعمال شروع کردیا ہے ، محکمہ موسمیات کے مطابق سوات میں بارش کا موجودہ سلسلہ آج جمعرات تک ختم ہونے کا امکا ن ہے ۔

Comments

comments