پاکستان میں میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے کو بھی میڈیا کے با اثر افراد کس طرح ریگولیٹ کرتے ہیں

  • IMG-20200229-WA0136.jpg


کچھ عرصہ قبل مشہور زمانہ کئے گئے اسد کھرل نے بول ٹی وی پر پنجاب کے دو منسٹرز کے حوالے سے ایک پروگرام کیا جس میں ان منسٹرز کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے کچھ انکشافات کئے گئے – اس پروگرام کے بعد ان منسٹرز نے کونسل آف کمپلینٹس ( سی او سی ) پمرا پنجاب میں تحریری طور پر شکایت کی – بول ٹی وی اور اسد کھرل کو نوٹس ایشو ہوا اور وہ سی او سی ممبران کے سامنے پیش ہو کر اپنی خبر کی تائید میں کوئ ثبوت پیش نہ کر سکے – نتیجتا سی او سی پنجاب نے اسد کھرل اور بول ٹی وی کو پانچ لاکھ کا جرمانہ ریکمنڈ کیا – آر جی ایم پنجاب مسٹر اکرام برکت نے سی او سی کی وہ ریکمنڈیشن ڈی جی آپریشن محمد فاروق کی وساطت سے چیئرمین پمرا سلیم بیگ کو بھیجی -چیئرمین نے اسے اپروو کیا اور اُسی روٹ سے یہ منظوری واپس آر جی ایم لاہور کو بھجوا دی گئ- بول ٹی وی اور اینکر اسد کھرل کو 13 فروری کو جرمانے کی ادائیگی کا لیٹر لکھا گیا – جب وہ لیٹر انہیں ملا تو پچھلے جمعہ یعنی 13 فروری کو اسد کھرل آٹھ دس بندوں کے ساتھ پمرا پنجاب کے آفس برج روڈ لاہور کینٹ پر دھاوا بولا – یہ لشکر سبز نمبر پلیٹ کی وائٹ کرولا گاڑی میں آیا جس کا نمبر تھا 123 جو ظاہر ہے کہ ایک جعلی نمبر پلیٹ تھی – اس لاؤ لشکر میں وردی میں ملبوس وہ تین پولیس اہلکار بھی شامل تھے جو موصوف کو ان کی ملکی سیکورٹی کے حوالے سےبے مثال خدمات کے صلے میں مہیا کئے گئے ہیں، مین گیٹ بند کرنے کے بعد شورو غوغا کیا گیا – دفتر میں نصب کیمروں کو توڑنے کی کوشش کی گئ – آر جی ایم اکرام برکت اس وقت اپنے دو مہمانوں کے ساتھ اپنے آفس میں موجود تھے – وہ یہ شور سن کر مہمانوں سمیت باہر آ گئے اور اس مہان غازی اینکر سے درخواست کی انہیں جو کچھ بھی کہنا ہے وہ ان کے آفس میں آ کے کہیں – اسد کھرل ان کے دفتر میں داخل ہوا جہاں دیگر افسران بھی بیٹھے ہوئے تھے – اس دفتر کو بھی اندر سے کُنڈی لگائ اور پمرا افسران کی آر جی ایم سمیت وہ بے عزتی کی کہ رہے نام اللہ کا – پھر وہیں سے اسد کھرل نے اپنے موبائل سے چیئرمین سلیم بیگ کا نمبر ملایا اور سپیکر کھول کے پمرا افسران اور اپنے مہم جو لوگوں کے سامنے ان سے پوچھا کہ “ اوئے سلیم منوں ایہہ دس کہ توں نوکری کرنی اے یا نئیں ؟ “ تابعدار سلیم بیگ نے انتہائ لجاجت سے جواب دیا کہ بالکل کرنی ہے – دوسرا سوال تھا “ جے میں تینوں آکھاں کہ اپنے سارے اختیارات منوں ڈیلیگیٹ کر دے ، تے توں کریں گا یا نئیں ؟” – جواب تھا جی بالکل کرانگا – تیسرا سوال تھا کہ “ میں جے تینوں اک گھنٹہ فون ہولڈ کرا نواں تے توں ہولڈ تے رہیں گا یا نئیں ؟ “ جواب تھا جی بالکل رہوانگا –
اس کے بعد سلیم بیگ کا منت ترلا پروگرام تین چار منٹ اور چلتا رہا جس میں اینکر موصوف کو یقین دلایا گیا کہ سب کچھ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا جس کی تلافی لاہور آ کے کی جائیگی – اسد کھرل کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور چیئرمین کے بھیگی بلی بننے کے بعد اسد کھرل نے اپنے ہی بندوں کو پمرا آفس میں آٹھ دس پزے اور دیگر اشیائے خوردونوش لانے کو کہا – کچھ دیر بعد سامان خوردونوش آ گیا- آر جی ایم اور دیگر افسران نے یہ رزق حلال اسد کھرل کے بندوں کے ساتھ مل کے کھایا – یہ مہم سر کر نے کے بعد اسد کھرل فاتحانہ وہاں سے لاؤ لشکر سمیت کسی اور مہم پر روانہ ہو گئے –

آر جی ایم پمرا پنجاب مسٹر اکرام برکت نے اس واقعہ کے حوالے سے تین صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ چیئرمین پمرا کو لاہور سے اسلام آباد آ کر بہ نفس نفیس ان کے حوالے کیا – اس رپورٹ کو خفیہ رکھا جا رہا ہے – پمرا قوانین کے مطابق اتھارٹی یا چیئرمین اپنے فیصلے کو رویو نہیں کر سکتے اور اس کے خلاف صرف اور صرف کس بھی ہائ کورٹ میں فرسٹ اپیل اگینسٹ آرڈر ( ایف اے او ) ہی ہو سکتی ہے – اب دیکھنا یہ ہے کہ بول انتظامیہ اور اسد کھرل وہ جرمانہ ادا کرتے ہیں یا اس “ غلط فہمی “ کا کوئ اور حل نکالا جاتا ہے –
بتانا یہ مقصود تھا جہاں اسد کھرل جیسے محب وطن اینکر کو “حصول انصاف “ کے لئے خود متحرک ہونا پڑے وہاں ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کا پمرا سے گلہ کیا معنی رکھتا ہے ؟

روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی عمر چیمہ کی رپورٹ کے مطابق 13؍ فروری کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے ایک سینئر عہدیدار کو واٹس ایپ پر ایک ٹی وی اینکر نے فون کال کی۔ اس اینکر نے پیمرا لاہور کے دفتر میں دھاوا بولتے ہوئے چیخ و پکار کی اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ دفتر کا محاصرا کر لیں اور دفتر کے دروازے بند کر دیے اور کہا کہ کسی کو اندر یا باہر جانے نہ دیا جائے۔ اینکر کی سیکورٹی پر مامور تین پولیس اہلکاروں نے لاہور دفتر پر قبضے میں اس کی مدد کی۔ اینکر کے ساتھ سادہ لباس میں بھی دو افراد موجود تھے جو ٹویوٹا کرولا گاڑی میں آئے تھے جس پر ہرے رنگ کی نمبر پلیٹ تھی۔ اس اینکر نے چیخ و پکار کرتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کا دریافت کیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس کا ڈیٹا قبضے میں لے لیا جائے۔ جس وقت لوگوں کو مغوی بنایا جا رہا تھا اس وقت پیمرا لاہور کے ریجنل جنرل مینیجر (آر جی ایم) اپنے دفتر سے باہر آئے اور پریشانی کا ماحول پیدا کرنے والے اس اینکر سے کہا کہ وہ ان کے دفتر میں آ کر بیٹھیں اور بات چیت کرکے شکایت بتائیں۔ اینکر آر جی ایم کے دفتر میں ان کے ساتھ پہنچا اور اپنے ساتھ آئے پولیس والوں سے کہا کہ دروازہ اندر سے بند کر دیں اور ہتھیاروں کے ساتھ چوکس کھڑے رہیں۔ بالآخر آر جی ایم کو ان کے دو مہمانوں کے ہمراہ یرغمال بنا لیا۔ یہیں سے اس اینکر نے اسلام آباد میں پیمرا افسر کو فون لگایا اور اسپیکر فون کھول کر ان سے بات شروع کی۔ اینکر نے سوال کیا، ’’تم اپنی ملازمت برقرار رکھنا چاہتے ہو یا نہیں۔‘‘ جواب آیا، ’’جی میں کام کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ دوسرا سوال: ’’اگر میں تم سے کہوں کہ اپنے اختیارات مجھے دے دو تو کیا تم ایسا کرو گے؟‘‘ جواب: ’’جی میں کر دوں گا۔‘‘ تیسرا سوال: ’’اگر میں تمہیں فون کال پر ایک گھنٹے کیلئے انتظار کرائوں تو کیا تم کال کاٹ دو گے یا انتظار کرو گے؟‘‘ جواب: ’’جی میں انتظار کروں گا۔‘‘ اس کے بعد اس سینئر عہدیدار نے اینکر سے درخواست کی کہ وہ پیمرا کو معاف کر دیں اور ان کیخلاف کی گئی کارروائی غلطی سے ہوئی تھی۔ سینئر عہدیدار نے وعدہ کیا کہ وہ خود لاہور آ کر اینکر سے معافی مانگیں گے۔ اس کے بعد بات چیت ختم ہوئی اور اس تمام واقعے کے دوران آر جی ایم پیمرا لاہور خاموش تماشائی بنے رہے۔ اس واقعے کا پس منظر یہ ہے کہ پیمرا کی شکایت کونسل (کونسل آف کمپلینٹس) نے دو صوبائی وزراء کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے اس اینکر پر پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ اینکر نے اپنے ٹی وی پروگرام میں ان دونوں وزراء پر کرپشن کا الزام عائد کیا تھا لیکن ثابت نہیں کر پایا۔ چیئرمین پیمرا نے جرمانے کی منظوری دی اور جرمانے کی دستاویز اس اینکر تک اُسی دن پہنچی جس دن اس نے کوئی قانونی راستہ اختیار کرنے کی بجائے پیمرا لاہور کے دفتر پر دھاوا بول دیا۔ چونکہ معاملہ سینئر پیمرا عہدیدار کی یقین دہانی پر ’’حل ہوگیا‘‘، اینکر نے اس خوشی کا جشن پیمرا لاہور کے دفتر میں ہی منانے کا فیصلہ کیا اور وہ وہاں سہ پہر تین بجے سے شام 6؍ بجے تک موجود رہا۔ اس نے اپنے ساتھ آئے پولیس والوں سے کہا کہ وہ 10؍ پیزا لے کر آئیں جو فوراً پیش کر دیے گئے۔ یہ پیزا وہاں بیٹھے تمام افراد نے کھائے اور اس دوران اینکر نے سب سے پریشانی کیلئے معذرت کا اظہار کیا۔ آر جی ایم اکرام برکت نے اپنی رپورٹ میں چیئرمین پیمرا کو لکھا ہے کہ اس کے بعد اس اینکر نے ’’وہاں یرغمال افراد کو اپنی طاقت اور اثر رسوخ کا بتایا، عدلیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں میں بڑے بڑے لوگوں کے نام لیکر اس اینکر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی وہ بہت ہی با اثر شخص ہے اور اسے مذکورہ اداروں کی حمایت حاصل ہے۔‘‘ آر جی ایم کی رپورٹ کو انتہائی خفیہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’اس اینکر نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ اسے سپریم کورٹ نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی جگہ کو سیل کر سکتا ہے اور اس کے پاس ایسا کرنے کیلئے گاڑی میں مہریں بھی موجود ہیں۔ حوالے کے طور پر اس نے ایک واقعے کا ذکر کیا جس میں اس نے تین دن قبل ایک اسپتال کو سیل کر دیا تھا۔

Comments

comments