نئےسوشل میڈیا قوانین کے خلاف ملک گیر سخت احتجاج رنگ لےآیا،وفاقی حکومت نےعملدرآمد فوری روک دیا۔

No video URL found.

سوشل میڈیا قوانین کے خلاف ملک گیر سخت احتجاج رنگ لےآیا،وفاقی حکومت نےعملدرآمد فوری روک دیا۔

وفاقی کابینہ نے جنوری کے آخری ہفتے میں خاموشی سے نئے سوشل میڈیا قوانین کو منظور کرکے سائبر کرائم ایکٹ 2016 کا حصہ بنادیا ،بارہ فروری کو میڈیا اس خبر کے بریک ہونے کےبعد پی ایف یو جے نے اس کو پاکستان اور اس کے عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے کر مذمت اور ملک گیر احتجاج اور کانفرنسز کا انعقاد شروع کردیا جس میں آر آئی یوجے ،انسانی حقوق کمشن، سپریم کورٹ بار، پاکستان بار کونسل اور سول سوسائیٹی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بھی حصہ لیا۔ پی ایف یوجے کا حکومت سے ایک ہی مطالبہ تھاکہ ان کالے قوانین پر عمل درآمد فوری روکا جائے اور اگر ریگولیشنز لانے ضروری ہیں تو اس پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے فوری مشاورت کرے۔ جس کو حکومت کو بلاآخر تسلیم کرلیاہے ۔
پی ایف یوجے کے ملک گیر سخت احتجاج کا آغاز وفاقی دارالحکومت اور اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں پریس کانفرسز سے کیا گیا۔
پی ایف یو جے اور آر آئی یوجے نے بڑی احتجاجی تحریک کے آغاز کے لئے چار مارچ کو وسیع البنیاد گول میز کانفرنس اسلام آباد میں طلب کررکھی ہے۔جس کی تیاریوں کیلئے اسلام آباد جمعہ 28 فروری کو میڈیا اینکرز، کالم نگاروں کے ساتھ مقامی ہوٹل میں اہم مشاورتی نشست بھی کی گئی۔
پی ایف یوجے /آر آئی یوجے کی گذشتہ تین ہفتوں کی دن رات ان انسانی وصحافتی آزادیوں کےخلاف قوانین کی مخالفت میں احتجاج اور مذاکروں کے نتیجہ میں وزیراعظم نے ان قوانین پر فوری عمل درآمد روک دیا اور
نظرثانی اورمتعلقہ پلیٹ فارمزسےمشاورت کیلئے4رکنی کمیٹی قائم کردی ہے،چیئرمین پی ٹی اے عامرعظیم باجوہ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے،کمیٹی میڈیا سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے وسیع مشاورت کرے گی اور 2ماہ میں حتمی رپورٹ تیار کرکے وزیراعظم کو پیش کرے گی،مشاورتی عمل میں شیریں مزاری اور بیرسٹر علی ظفر کو بھی شامل ہوں گے۔

Comments

comments