فیک نیوز کے حوالے سے خطرات موجود ہیں، مسئلہ بریکنگ نیوز نہیں صحت ،صفائی ،خوراک کی کمی جیسے بڑے مسائل ہیں ڈاکٹر عارف علوی

  • 28891.jpg

فیک نیوز کے حوالے سے خطرات موجود ہیں،ڈاکٹر عارف علوی
مسئلہ بریکنگ نیوز نہیں صحت ،صفائی ،خوراک کی کمی جیسے بڑے مسائل ہیں
خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی جھوٹی خبروں سے عوامی رائے بنائی جاسکتی ہے۔ پاکستانی قوم کو بڑی اور طاقتور قوم بنانا ہمارا فرض ہے
ہمیں اپنے بچوں کو مایوس نہیںکرنا چاہیے میڈیا سے گزارش ہے کہ حکومت پر تنقید کریں مگر مایوسی نہ پھیلائیں،
جو ملک ہمیں انسانی حقوق کے بارے میں کہتے ہیں وہ خود اس کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں،
ہماری سوچ اتنی چھوٹی ہے کہ میں نے دانت صاف کرنے کا طریقہ بتایا تو میرا مذاق اڑایا گیاہر قسم کے تعصبات کو ذہنوںسے نکالنے کی ضرورت ہے۔
صدرمملکت کا اے پی این ایس کی 24ویں تقسیم ایوارڈ کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا کہ فیک نیوز کے حوالے سے خطرات موجود ہیں ملک کے مسائل کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، ملک کا مسئلہ بریکنگ نیوز نہیں صحت ،صفائی ،خوراک کی کمی جیسے بڑے مسائل ہیں, خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی جھوٹی خبروں سے عوامی رائے بنائی جاسکتی ہے۔ پاکستانی قوم کو بڑی اور طاقتور قوم بنانا ہمارا فرض ہے ہمیں اپنے بچوں کو مایوس نہیںکرنا چاہیے میڈیا سے گزارش ہے کہ حکومت پر تنقید کریں مگر مایوسی نہ پھیلائیں،جو ملک ہمیں انسانی حقوق کے بارے میں کہتے ہیں وہ خود اس کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں، ہماری سوچ اتنی چھوٹی ہے کہ میں نے دانت صاف کرنے کا طریقہ بتایا تو میرا مذاق اڑایا گیاہر قسم کے تعصبات کو ذہنوںسے نکالنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ شب مقامی ہوٹل میں اے پی این ایس کی 24ویں تقیسم ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔صدرمملکت نے کہا کہ میں پریشان ہوں اور میری پریشانی کی وجہ میڈیا ہے، نئی نسل مروجہ میڈیا دیکھنے کی بجائے سوشل میڈیا استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ موجودہ بحران میں دو تین اخبارات کو مل کر ایک ہو جانا چاہیے، سابقہ حکومتیں اشتہارات کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتی تھیں ، 1700اخبارات ملک میں رجسٹرڈ ہیں ان کی چھان بین ہونی چاہیے تاکہ اصل لوگ سامنے آئیں اور ان سے بات اور ان کی مدد کی جاسکے۔ میں ملک کا نوکرہوں ریاست کے حوالے سے بات کروں گا۔ آج میں پریشان اور میری پریشانی کا تعلق آپ سے ہے۔ ریاست کی بات کروں گا دنیا بدل رہی ہے نئی نسل پرنٹ میڈیا کو نہیںپڑھتی، فیک نیوز کے حوالے سے خطرات موجود ہیں۔ رائے وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے اس میں کوئی بری بات نہیں۔ کسی کی بھی جہالت وقت کے ساتھ کم ہوتی ہے اپنی رائے بدل سکتا ہے ، فیک نیوز نئی بات نہیں ہے مگر اس دور میں فیک نیوز کے اثرات بہت زیادہ ہیں۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے امریکہ میں بھی رائے عامہ اثر انداز ہوئی ہے ۔ بھارت میں بھی مودی کے الیکشن کے دوران وٹس اپ پر چلنے والی 82فیصد خبریں جھوٹی تھیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی جھوٹی خبروں سے عوام کی رائے بنائی جاسکتی ہے۔ پاکستانی قوم کو بڑی اور طاقتور قوم بنانا میرا فرض ہے ہمیں اپنے بچوں کو مایوس نہیںکرنا چاہیے۔ میری گزارش ہے کہ حکومت پر تنقید کریں مگر مایوسی نہ پھیلائیں۔ جو ملک ہمیں انسانی حقوق کے بارے میں کہتے ہیں وہ خود اس کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں، پاکستان عظیم ملک ہے جس نے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی آج بھی27 لاکھ سے زائد مہاجرین پاکستان میں آباد ہیں۔ ہم کردار اور اخلاق کے حساب سے دوسری قوموں سے بہتر ہیں ہم نے دہشت گردی ، انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جو دوسری قومیں نہ کرسکیں۔ جن گڑھوں سے 30سالوں میں پاکستان نکل آیا دیگرقومیں اس کا شکار ہورہی ہیں۔ پولیو ، خواتین کو وراثت میں حق قومی فریضہ ہے اس پر بات ہونی چاہیے۔ وزیراعظم نے بچوں میں خوراک کی کمی کی طرف اشارہ کیا ، ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی بھی مسئلہ ہے آج ہمارے دور میں ماں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتی یہ فیشن بن گیا ہے جس سے دونوں کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ ہمارا مسئلہ بریکنگ نیوز نہیں ہے صحت کے حوالے سے قوم کو بتانا چاہیے اس طرح ہم قوم کی تعمیر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری سوچ اتنی چھوٹی ہے کہ میں نے دانت صاف کرنے کا طریقہ بتایا تو میرا مذاق اڑایا گیا۔ دنیا میں سب سے زیادہ پاکستان میں مریضوں کو انجکشن لگائے جاتے ہیں اوسط 12انجکشن فی مریض بنتے ہیں ۔ ہمارے ڈاکٹر جلد ٹھیک کرنے کیلئے ہر مریض کو اینٹی بائیٹک دے رہے ہیں جس سے دواؤں کیخلاف مدافعت بڑھ رہی ہے۔ صحافیوں کو تعصب اپنے ذہنوں سے نکالنا چاہیے۔ ملک کے مسائل حل کرنے کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔ قوم مل کر بنتی ہیں ایک بندھے سے قوم نہیں بنتی۔ معاون خصوصی اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم مالکان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں مگر مالکان کو بھی چاہیے کہ وہ میڈیاورکرز کو تنخواہیں دیں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں ورکر کی شکایات عام ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت میڈیا مالکان کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور ہمارے مسائل حل نہیںکررہی جو کہ اچھی چیز نہیں ہے۔ میڈیا مالکان کو بھی ورکرز کو ان کے حق دینے چاہیے تاکہ یہ مسائل حل ہوں۔ تشہیری پالیسی کے حوالے سے ابھی تک اے پی این ایس نے اپنا موقف نہیں دیا جس کا مجھے انتظار ہے۔مارچ ، جون میں ایک بڑی تشہیری مہم شروع کریں گے اور جون سے پہلے تمام میڈیا کے بقایا جات ادا کردیں گے ۔ وزیراعظم بھی چاہتے ہیں کہ میڈیا کے بقایا جات ادا کیے جائیں ۔ سوشل میڈیا ریگولیشن کے حوالے سے بات ہورہی ہیں جب اس سے کوئی اچھی تجویز آئے گی تو نظرثانی کریں گے۔ میڈیا کے بقایا جات ایک ارب سے زیادہ نہیں ہیں۔

Comments

comments