وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق کو سپردخاک کردیا گیا

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق کو کراچی کے گزری قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔

گزشتہ روز تحریک انصاف کے رہنما و وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے نعیم الحق انتقال کرگئے تھے۔

جنوری 2018 میں نعیم الحق کو بلڈ کینسر تشخیص کیا گیا جس کے بعد سے ان کا علاج جاری تھا اور وہ سیاسی سرگرمیوں سے دور تھے۔

مرحوم رہنما کی نماز جنازہ مسجد عائشہ ڈیفنس میں ادا کی گئی جس میں گورنر پنجاب چوہدری سرور، گورنر سندھ عمران اسماعیل، وفاقی وزراء، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مولانا تنویرالحق تھانوی نے نعیم الحق کی نماز جنازہ کی امامت کی جس کے بعد انہیں گزری قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔

خیال رہے کہ قریبی ساتھی کے انتقال پر وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اپنے دیرینہ دوست نعیم الحق کے انتقال پر دھچکا لگا ہے، وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کے 10 بانی ارکان میں سے ایک اور سب سے وفادار تھے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی 23 سالہ جدو جہد میں نعیم الحق ہر مشکل میں میرے ساتھ کھڑے رہے اور ہر طرح پارٹی کی مدد کی۔

نعیم الحق کی زندگی کا پس منظر

نعیم الحق 11جولائی 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، انہوں نے جامعہ کراچی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز، ایس ایم لاء کالج سے ایل ایل بی کیا تھا۔

نعیم الحق پیشے کے اعتبار سے بینکر اور کاروباری شخصیت تھے اور وہ نیویارک کے یو این پلازہ میں نیشنل بینک کی شاخ قائم کرنے والی ٹیم کا حصہ رہے، انہوں نے 1980 میں بطور مرچنٹ بینکر لندن میں رہائش اختیار کی۔

نعیم الحق نے 1984 میں ائیرمارشل اصغرخان کی تحریک استقلال جوائن کی اور کراچی آگئے، انہوں نے 1988 میں تحریک استقلال کے ٹکٹ پر اورنگی ٹاؤن سے الیکشن بھی لڑا تاہم بعدازاں 1996 میں عمران خان کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔

2012 میں نعیم الحق تحریک انصاف چیئرمین کے چیف آف اسٹاف بن کر اسلام آباد منتقل ہوگئے، نعیم الحق پارٹی کی کور کمیٹی کا حصہ اور انفارمیشن سیکریٹری بھی رہے۔

وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد انہیں وزیراعظم عمران خان نے معاون برائے سیاسی امور مقرر کیا اور آخری وقت تک پارٹی کے ساتھ منسلک رہے۔

Comments

comments