اے این پی کامرکز کے ذمے صوبے کے واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ اے جی این قاضی فارمولے کے تحت گذشتہ تین سال کے بقایا جات پانچ سو ارب سے تجاوز کرگئے ہیں،سردارحسین بابک

  • IMG-20200122-WA0346.jpg

اے این پی کامرکز کے ذمے صوبے کے واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ
اے جی این قاضی فارمولے کے تحت گذشتہ تین سال کے بقایا جات پانچ سو ارب سے تجاوز کرگئے ہیں،سردارحسین بابک
موجودہ حکومت بقایاجات کی ادائیگی بارے خاموش تماشائی کا کردار اداکررہی ہے
گیس جنوبی اضلاع میں پیدا ہورہی ہے لیکن یہاں کے عوام کو میسر ہی نہیں
پشتونوں پر تجارتی راستے بند کیے جارہے ہیں،طورخم ،چمن سمیت دیگر راستے کھول دیے جائیں
یہ جنگ اسلام یا پاکستان کا نہیں، بلکہ وسائل پر اپنے اختیار کی جنگ ہے
اس جنگ کو پشتون اے این پی کے چھتری تلے جیت کر دکھائیں گے
اے این پی کے ”لویہ جرگہ” میں پشتونوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے لائحہ عمل بنائیں گے
پشتونوں کو درپیش مسائل کا واحد حل ان کے اتفاق میں مضمر ہے
بنوں میں باچاخان ،ولی خان برسی تقریب کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ پشتونوں کو درپیش مسائل کا واحد حل ان کے اتفاق میں مضمر ہے، آج ان کے اپنے وسائل پر انکا اختیار تسلیم نہیں کیا جارہا، سات سال سے اقتدار میں رہنے والی حکومت مرکز سے اپنے بقایا جات تک نہیں مانگ سکتے۔ اے جی این قاضی فارمولے کے تحت گذشتہ تین سال کے بقایا جات پانچ سو ارب سے تجاوز کرگئے ہیں لیکن موجودہ حکومت صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔ بنوں کے میراخیل کیمپ گرائونڈ میں فخرافغان باچاخان اور رہبرتحریک خان عبدالولی خان کی برسی تقاریب کے سلسلے میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سردارحسین بابک نے کہا کہ صوبائی حکومت بجلی کے خالص منافع پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے، تین سالوں کے بقایاجات پانچ سو ارب سے تجاوز کرچکے ہیں لیکن سات سال تک اس صوبے پر حکمرانی کرنیوالے اپنے وسائل اور اپنے حق کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھا سکتے۔عوامی نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ اے جی این قاضی فارمولے کے مطابق صوبے کے بقایا جات فوری طور پر ادا کیے جائیں۔سردارحسین بابک نے کہا کہ گیس جنوبی اضلاع میں پیدا ہورہی ہے لیکن یہاں کے عوام کو میسر ہی نہیں، فیصل آباد، سیالکوٹ، ملتان،گجرات اور گجرانوالہ تک یہ گیس پہنچادی گئی ہے لیکن یہاں کسی کو نہیں دی جارہی۔ پشتونوں پر تجارتی راستے بندکیے جارہے ہیں۔طورخم،چمن سمیت افغانستان کو جانیوالے تجارتی راستے بند کردیے گئے ہیں، ملک کے موجودہ سلیکٹڈ وزیراعظم صاحب برآمدات کی کمی کا رونا رورہا ہے لیکن یہاں خیبرپختونخوا سے جانیوالے تجارتی راستے بند کیے جارہے ہیں کیونکہ اگر یہ راستے کھل گئے تو ان کو خطرہ ہے کہ پشتونوں کا خطہ بڑی تجارتی منڈی بن جائیگی جس کا فائدہ پہلے پشتونوں اور پھر دوسرے پاکستان کو ہوگا۔انہوں نے تمام پشتونوں پر زور دیا کہ آج حالات پوری قوم سے اتفاق اور اتحاد کا تقاضا کررہی ہے کیونکہ اب یہ جنگ وسائل پر اپنے اختیار سیاسی طریقے سے حاصل کرنے کا ہے۔سردارحسین بابک نے کہا کہ پشتونوں کو کبھی اسلام اور کبھی پاکستان کے نام پر ورغلایا گیا،پشتون مسلمان ہیں جنہوں نے کبھی بھی پاکستان کی شناخت سے انکار نہیں کیا،یہ جنگ اسلام کا ہے نہ ہی پاکستان کا بلکہ یہ وسائل پر اپنے اختیار کی جنگ ہے جو عوامی نیشنل پارٹی کے سرخ جھنڈے تلے پشتون لڑیں گے اور جیت کر دکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بنوںسمیت پورے جنوبی اضلاع تاریخی اہمیت کے حامل ہیں، صوبائی صدرایمل ولی خان ایک بار پھر جنوبی اضلاع کا دورہ کریں گے اور تمام خدائی خدمتگاروں کے قبروں پر حاضری دینے کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات کریں گے اور تمام پشتونوں کو ایک جھنڈے تلے جمع کریں گے۔اسکے ساتھ ساتھ اے این پی کے اعلان کردہ ”لویہ جرگہ” میں پشتونوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے بھی مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں گے۔

Comments

comments