اسلام آباد رانا ثناء اللہ اور شہریار آفریدی کے درمیان قرآن پر حلف اٹھانے کے معاملے پر گرما گرمی

  • IMG_20200115_015435.jpg

اسلام آباد
رانا ثناء اللہ اور شہریار آفریدی کے درمیان قرآن پر حلف اٹھانے کے معاملے پر گرما گرمی

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیرمملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ کے کیس سے متعلق گفتگو کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کو احساس ہونا چاہیے کہ عدالت کا فیصلہ عدالت میں ہوگا، انہوں نے سات ماہ میں حیلے بہانے بنائے، ویڈیو کی بات کی گئی، رانا مشہود اور ایان علی کے کیس میں بھی ویڈیو تھی۔

منشیات برآمدگی: رانا ثناء کی قومی اسمبلی میں بددعائیں
ان کا کہنا تھا کہ ایوانوں میں کسی کو ٹارگٹ کرنے نہیں آئے، میں نے کسی بھی جگہ کوئی قسم کھائی ہو جو چور کی سزا وہ میری سزا، میں نے کہا جان اللہ کو دینی ہے اس پر مذاق اڑایا گیا، رانا ثناء اللہ قرآن ہاتھ میں اٹھاتے ہیں اس پر عمل بھی کیا کریں، حکومت اور وزارت آپ کو اس کیس سے بھاگنے نہیں دے گی۔

شہریار آفریدی کی تقریر کے دوران رانا ثناء ایوان میں آئے تو لیگی ارکان نے ڈیسک بجاکر خیرمقدم کیا۔

وزیر مملکت کی تقریر کے بعد پینل آف چیئرمین کے ممبر سید فخر امام نے رانا ثناء اللہ کو تقریر کا موقع دیا۔

ایوان سے خطاب میں لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ میں نے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کہا جو جھوٹ بولے اس پر قہر ہو، اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہہ رہا ہوں، زندگی میں کسی منشیات فروش سے تعلق نہیں رکھا۔

اس دوران انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہریارآفریدی بھی اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہیں کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو اللہ کا قہر ہو۔

قومی اسمبلی اجلاس میں قرآن پر حلف اٹھانے کے معاملے پر گرما گرمی
اس دوران قومی اسمبلی اجلاس کی صدارت کرنے والے پینل آف چیئرمین کے ممبر سید فخر امام نے ایوان میں قرآن پر حلف سے منع کیا۔

Comments

comments