ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ عراقی ہوائی اڈے پر میزائل فائر کیے گئے جس میں امریکی فوجی رہ رہے ہیں*

No video URL found.

*ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ عراقی ہوائی اڈے پر میزائل فائر کیے گئے جس میں امریکی فوجی رہ رہے ہیں*
عراق کے اسد فضائی اڈے پر امریکی فوج کے رہائشی مکان پر سطح سے سطحی میزائلوں کو لانچ کیاگیا
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری اسٹیفنی گریشم نے کہا کہ وائٹ ہاؤس ان اطلاعات سے واقف ہے۔
اسٹیفنی گریشم نے کہا ، “صدر کو بریفنگ دی گئی ہے اور وہ اس صورتحال کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں اور اپنی قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کر رہے ہیں۔”
الاسد ایئر بیس عراق کے مغربی صوبہ انبار میں واقع ہے۔ اس کا استعمال پہلی بار امریکی فوج کے ذریعہ 2003 میں امریکی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد کیا گیا تھا عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے گروپ کے خلاف لڑائی کے دوران امریکی فوجیوں کو وہاں تعینات کیا جاتا ہے
*سرکاری ٹی وی نے بدھ کے اوائل میں اسے انقلابی محافظ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر تہران کی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔*
امریکی سینئر فوجی ذرائع “ایران کے میزائل حملے کے یہ تو کروز میزائل ہیں یا قلیل رینج بیلسٹک میزائل۔
واشنگٹن پوسٹ کے بیروت بیورو کے چیف نے ٹویٹ کیا ، “امریکی فوج نے اسد ایئر بیس پر جاری راکٹ حملے کی تصدیق کی ہے جہاں امریکی فوجیں مقیم ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکہ چلا گیا تو عراق کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
عراق میں امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے اسد ایئر بیس پر آج رات کم از کم اب تک چھ راکٹ حملے کی اطلاعات

Comments

comments