صحافی نصر اللہ چوہدری نے مبینہ ممنوعہ لٹریچر رکھنے کے الزام میں سنائی گئی سزا سندھ ہائی کورٹ میں چیلنچ

  • IMG_20191230_221148.jpg

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ممبر کراچی پریس کلب و سینئر صحافی نصر اللہ چوہدری نے مبینہ ممنوعہ لٹریچر رکھنے کے الزام میں سنائی گئی سزا کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنچ کردیا ہے، اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ انسداددہشت گردی عدالت کا فیصلہ بنیادی قانون کے اصول کے برخلاف اور حقائق کے منافی ہے، سینئر صحافی کی جانب سے اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ سادہ لباس میں ملبوس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار7نومبر 2018کو کراچی پریس کلب میں غیر قانونی داخل ہوئے، صحافیوں کو ہراساں اور دھمکایا گیا تاہم صحافیوں کے احتجاج کے بعد 8نومبر 2018کی شب انہیں سادہ لباس میں ملبوس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے گھر سے غیر قانونی حراست میں لے لیا جس پر کراچی پریس کلب اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے بھرپور احتجاج کے باعث سی ٹی ڈی نے تین روز تک غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں نامزد کردیا، اپیل میں مزید کہا گیا کہ استغاثہ اپناکیس ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا اور ان کے خلاف ممنوعہ لٹریچر سے متعلق کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے، نصر اللہ چوہدری نے اپیل میں کہاکہ ان کی گرفتار ی اور غیر قانونی حراست پر نہ صرف ملکی بلکہ عالمی میڈیا پر نشر ہونے والی خبریں ریکارڈ کا حصہ ہیں اور عدالت نے ان کی غیر قانونی حراست کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے سزا سنائی، یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جج منیر بھٹو نے 26دسمبر 2019کو سینئر صحافی نصر اللہ چوہدری کو مبینہ ممنوعہ لٹریچر رکھنے کے الزام میں 5سال قید، 10ہزار جرمانہ جبکہ عدم ادائیگی پر مزید ایک ماہ سزا کا حکم دیا تھا، جبکہ عدالت نے انہیں مبینہ طور پر کالعدم تنظیم سے رابطہ کرنے پر 6ماہ قید، 5ہزار جرمانہ اور عدم ادائیگی پر 15
روز مزید سزا کا حکم دیا تھ

سینئر صحافی کو ممنوعہ لٹریچر پر سزا سنانے کا معاملہ

صحافتی تنظیموں کا ردعمل سامنے آگیا

پاکستان یونین آف جرنلسٹس اور کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کا مشترکہ اعلامیہ جاری

صحافی کو ممنوعہ لٹریچر رکھنے پر سزا قابل مذمت ہے، پاکستان یونین آف جرنلسٹس دستور

صحافی کو ممنوعہ لٹریچر رکھنے پر سزا دنیا کی منفرد مثال ہے، کراچی یونین آف جرنلسٹس

نام و نہاد ممنوعہ لٹریچر رکھنے کا الزام جھوٹا اور بے بنیاد ہے، صحافتی تنظیمیں

کراچی پریس کلب ہمیشہ آزادی اظہار رائے کا نگہبان رہا، صحافتی تنظیمیں

حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے آزادی اظہار رائے کو دبانا چاہتی ہے، اعلامیہ

رکن کراچی پریس کلب کو 8 نومبر 2018 کو غیر قانونی تحویل میں لیا گیا، اعلامیہ

بھرپور احتجاج پر جھوٹا مقدمہ بنا کر پیش کر دیا گیا، صحافتی تنظیمیں

صحافیوں کو ہراساں کرنا، دھمکیوں اور تشدد پر سخت تشویش ہے، صحافتی تنظیمیں

صحافیوں پر تشدد کے واقعات سندھ کے متعدد اضلاع میں رپورٹ ہوچکے، اعلامیہ

چیف جسٹس پاکستان، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نوٹس لیں، صحافتی تنظیمیں

اعلی عدلیہ انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلے کا نوٹس لیں، صحافتی تنظیمیں

آزادی صحافت کے لیے ایسے واقعات کا تدارک ناگزیر ہے، صحافتی تنظیمیں

Comments

comments