دعا منگی اور حارث ڈیفینس میں ڈانس پارٹیاں ارینج کرتے تھے ۔

  • IMG-20191204-WA0138.jpg

دعا منگی نامی لڑکی اغوا ہوئے کئی دن گذر چکے ہیں ۔ میڈیا بھرپور کوریج دے رہا ہے ۔ اچھی بات ہے ۔ تاہم اینکر مراد عباس فراڈ و قتل کیس کی طرح اس اغوا کیس کے بھی نئے موڑ سامنے آئے ہیں ۔ اب تک کی تحقیقات کی مطابق دعا منگی اور حارث ڈیفینس میں ڈانس پارٹیاں ارینج کرتے تھے ۔ کورنگی کراسنگ کے علاقے میں رہنے والی اعجاز منگی کی رشتے دار خود ڈیفنس کی رئیس زادی ظاہر کرتی تھی ۔ ڈانس پارٹیوں میں جھگڑا عام سی بات ہے ، ڈیفنس یا ہاکس وے کاٹیج یا فارم ہاوس کی ہر ڈانس پارٹی کے بعد کسی لڑکی کا اغوا ہوجانا بھی معمول کی بات ہے دس بندرہ دن بعد وہ پھر کسی نئی ڈانس پارٹی میں ملتی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان فحش ڈانس پارٹیوں کی روک تھام پر مسلسل کوریج کی جائے ۔ لاہور میں کم عمر بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر اراباب اختیار کو جھنجوڑا جائے ۔
اب دعا جیسی بھی ہے ، اس کا اپنا کردار ، اس سے مجھے غرض نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ہمدردی ہے ، لیکن جس طرح اس کی کوریج کی جارہی ہے اس میں تصویر کا دوسرا رخ دکھانا بھی ضروری ہے ، ہمارا میڈیا ہمیشہ سرخ بتی کے پیچھے لگا ہوتا ہے ۔

Comments

comments