پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کی وزیراعظم عمران خان کے طلباء تنظیموں کو پرتشدد کہنے کی شدید مذمت

  • IMG_20191202_011851.jpg

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کی وزیراعظم عمران خان کے طلباء تنظیموں کو پرتشدد کہنے کی شدید مذمت

طلباء تنظیموں کو پرتشدد کہنے والے ان کی بہتری کا کون سا ضابطہ مرتب کرپائیں گے؟

پرتشدد تو حکمران ہیں جنہوں نے آزادی اظہار کے آئینی وجمہوری حق پر قدغن لگادی ہے

عمران صاحب ”پرتشدد“ طالب علم نہیں، منتخب وزیراعظم اورپارلیمان پر حملے کرنے والے آپ تھے

عمران صاحب کا ٹویٹر پر قول اور حکومتی فعل میں مکمل طورپر تضاد پایا جاتا ہے

ایک طرف طلباءیونین کی حمایت اور دوسری طرف اُن پر ایف آئی آر عمران صاحب کی سیاسی منافقت اور دوغلا پن ہے

ایک طرف عمران صاحب طالب علموں کی حمایت میں ٹویٹ کرتے ہیں دوسری طرف ان کی انتظامیہ پرچے کاٹ رہی ہے

عمران صاحب طلباءواساتذہ کے خلاف درج ایف آئی آر واپس فوراً واپس لیں

تمام گرفتار افراد کو فوری رہا کیاجائے، طلباء اور اساتذہ کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں

طلباءاور اساتذہ کو پرامن اظہار رائے کی آزادی سلب کرنا قابل مذمت اور آمرانہ رویہ ہے

آج ”پرتشدد“ کا لیکچر دینے والے گزشتہ کل پارلیمنٹ پر حملے، منتخب وزیراعظم کو گلے سے گھسیٹ رہے تھے

ایف آئی آر تو پارلیمنٹ پر حملے اور منتخب وزیراعظم کو گلے سے گھسیٹنے کا بیان دینے والوں پر ہونی چاہئے

عمران صاحب کی مافیا حکومت پارلیمان، میڈیا، سیاسی مخالفین سمیت ہر اختلافی آواز بند کررہی ہے

کنٹینر پر نوجوانوں کو میٹھی باتیں سنانے والے وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر جھوٹے مقدمے بنارہے ہیں

پرامن طلباءاور اساتذہ پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے

Comments

comments