عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، علی رضا سید

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے کہاہے کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کو ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتے کے روز جرمنی کے شہر سٹاٹگارت میں اقوام متحدہ کے عالمی دن برائے برداشت کے موقع پر ’’کشمیر میں خطرناک انسانی بحران‘‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا اہتمام جرمنی میں مقیم انسانی حقوق کی کشمیری خاتون علمبردار مس رفعت وانی نے کیا اور دیگر مقررین میں انسانی حقوق کی جرمن تنظیم کے مس پیٹریسیا، یونیورسل پیس فیڈریشن کے کارل کرسچن ھسمن، ڈاکٹر اسحاق اور لندن سے ظفرقریشی بھی شامل تھے۔
چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے کہاکہ آج ایک سو پانچ دن گزر چکے ہیں، مقبوضہ کشمیر کے مظلوم لوگ بھارتی محاصرے میں اپنے انسانی حقوق، بنیادی آزادی اور شہری آزادی سے محروم ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے آٹھ ملین لوگ زیرحراست ہیں، ان کی زندگی مفلوج ہوچکی ہے اور روز مرہ کا نظام تباہ و برباد ہوگیا ہے۔ انہیں عزت سے جینے، تعلیم حاصل کرنے اور صحت کی بنیادی سہولیات کا حق حاصل نہیں۔
علی رضا سید نے بتایاکہ کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام رواں ماہ کے پہلے ہفتے یورپی پارلیمنٹ میں سالانہ کشمیرای یو ویک کی تقریبات منعقد ہوئیں جن کا عنوان ’’انسانی حقوق ور شہری آزادیاں‘‘ تھا۔ اس دوران ساری توجہ انسانی حقوق خاص طور پر کشمیریوں کے شہری حقوق جنہیں عالمی قوانین کے مطابق تحفظ حاصل ہے، کی طرف مرکوز رہی۔
کشمیرای یو ویک میں اراکین پارلیمنٹ، دانشور، پالیسی ساز، سیاستدان اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور این جی اوز کے نمائندے شریک ہوئے جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش ظاہرکرتے ہوئے وہاں کرفیو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ وہ اس سے پہلے بھی مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین کے تحت قتل و غارت، گرفتاریوں، جنسی تشدد، بے جا حراست اور دیگر ماورائے عدالت کاروائیوں کی مذمت کرتے رہے ہیں۔ کشمیر ای یو ویک کے انعقاد سے مسئلہ کشمیر خصوصاً مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال یورپ میں اجاگر ہوئی ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایاکہ ہم اس وقت اراکین پارلیمنٹ سے مل کر مسئلہ کشمیر پر بحث کے لیے ایک قرارداد پر کام کررہے ہیں۔

رفعت وانی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو یہ بھی حق نہیں کہ وہ اپنی میتوں کو گھر سے باہر لے کر قبرستان میں دفنا سکیں۔ تین ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے، مقبوضہ کشمیر کرفیو کے باعث دنیا سے کٹ گیا ہے، مواصلاتی نظام منقطع ہے، میڈیا پر پابندی ہے، انٹرنیٹ بند ہے اور لوگوں کو خوراک اور ادویات کی تنگی سامنا ہے۔

ڈاکٹر اسحاق نے کہاکہ لوگوں کو ہستپالوں اور عبادتگاہوں تک رسائی نہیں۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر ایک انسانی پنجرے کی مانند ہے جہاں کشمیر کے مظلوم لوگ مقید ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، سیکورٹی فورسز تین ہزار کے قریب نو سے اٹھائیس سال کے کشمیری نوجوانوں کو اٹھا کر بھارت کے مختلف جیلوں میں ڈال دیا ہے۔

ظفر قریشی نے بتایاکہ بے شمار سیاسی کارکن اور رہنماء گرفتار ہیں، حتیٰ کہ زیرحراست لوگوں میں سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلٰی بھی شامل ہیں۔ بھارت نے اپنے سول سرونٹس کو جموں و کشمیر کے دونوں حصوں کے گورنرز تعینات کرکے انہیں حکومتی اور آئینی اختیارات دے دیے ہیں۔
مقررین نے بھارتی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں کے مقبوضہ کشمیر جانے پر پابندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں باہر سے کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں، حتیٰ کہ بھارتی اراکین پارلیمنٹ کو بھی مقبوضہ وادی تک رسائی نہیں۔
مقررین نے بھی عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ ختم کروانے اور مسئلہ کشمیر کا پرامن اور پائیدار حل تلاش کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔

Comments

comments