لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت دے دی۔ ای سی ایل سے نام نکالنے کا حکم

  • 20191116_201831.jpg

*لاہور ہاٸی کورٹ ____*

اگر عدالتی حکم کو ڈرافٹ کاحصہ بنالیا جاے تو ہمیں کوئی اعتراض نہہں ۔ ۔
وکیل وفاقی حکومت

اپ کی طرف سے جو اعتراض لگایا کیا کہ وہ ملک واپس نہیں آئیں گے ۔ ۔
لاہور ہاٸی کورٹ

سب جانتے ہیں کہ نواز شرہف شدید بیمار ہیں اللہ انہیں صحت دے ۔ ۔
لاہور ہاٸی کورٹ

اگر آٹھ ہفتوں میں کی ضمانت کی میعاد ختم ہوجاے توعدالت ہی اسےدیکھے گی ۔ ۔
لاہور ہاٸی کورٹ

میاں شہباز شریف کی بیان حلفی میں سہولت کار کا لفظ ٹھیک نہیں ۔ ۔
لاہور ہاٸی کورٹ

اپ اس لفظ کی تبدیلی کا حکم دیں، عدالت کی نواز شریف کے وکلاء کو ہدایت،
سہولت کار کی بجاے یقینی دہانی کا لفظ شامل کیاجاے ۔ ۔
لاہور ہاٸی کورٹ کی ہدایت

نواز شریف بیرون ملک کو علاج کے لیےجاسکتے ہیں، ڈرافٹ وفاقی حکومت

معیاد ختم ہونےکے بعد حکومت سے اجازت لینا ہوگی ۔ ۔
وکیل وفاقی حکومت

حکومت کی اجازت میڈیکل رپورٹس سے مشروط ہوگی ۔ ۔
وکیل وفاقی حکومت

نواز شریف کے بیان حلفی میں شامل ہو کہ جو بھائی شہباز نے گارنٹی دی اس کو تسلیم کرتے ہیں ۔ ۔
وکیل وفاقی حکومت
*دوران سماعت عطا اللہ تارڑ کا مریم نواز سے رابطہ*
سماعت میں وقفے کے موقع پر لیگی رہنما عطااللہ تارڑ نے مریم نواز سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں کیس کی صورتحال سے آگاہ ک *وفاقی حکومت اور نیب کا تحریری جواب*
گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں حکومت اور نیب کی جانب سے جوابات جمع کرائے گئے جس میں حکومت کا جواب 45 اور نیب کا جواب 4 صفحات پر مشتمل تھا۔

وفاقی حکومت اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے اپنے تحریری جواب میں عدالتی دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا، جواب میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست کی سماعت کا اختیار نہیں۔

حکومت نے نوازشریف کے بغیر بانڈ کے باہر جانے کی مخالفت کی
وفاقی حکومت نے تحریری جواب میں انڈیمنٹی بانڈ کے بغیر نوازشریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کی اور شہباز شریف کی درخواست مسترد کرنے اور انڈیمنٹی بانڈ کی شر ط لاگو رکھنے کی استدعاکی تھی۔

حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ نواز شریف کے خلاف مختلف عدالتوں میں کیسز زیر سماعت ہیں، ان کا نام نیب کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔
شہباز شریف کی ایماء پر ڈرافٹ تیار کیا گیا

ڈرافٹ میں شہباز شرہف کی طرف سے واپسی کی یقین دہانی
ڈرافٹ کی کاپی وفاقی حکومت کے وکیل کے حوا میں گارنٹی دیتا ہوں کہ نواز شریف صحت یاب ہوتے ہی وطن واپس ایین گے ,شہباز شریف ,ڈرافت
لاہور: حکومت نے نوازشریف کی بیرون ملک روانگی کے لیے شورٹی بانڈ حکومت کے بجائے عدالت میں جمع کرانے کی پیشکش کردی جب کہ عدالت نے نوازشریف کی واپسی کے لیے شہبازشریف سے تحریری ضمانت طلب کرلی جو انہوں نے وکلا کے ذریعے عدالت میں جمع کرادی۔

گزشتہ روز درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر لاہور ہائیکورٹ نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ شہباز شریف کی جانب سے دائر کی گئی درخواست قابل سماعت ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے دورکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت یہیں ہوگی۔

فیصلہ سنانے کے بعد عدالت نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے حکومتی شرائط کے خلاف شہبازشریف کی درخواست کو آج سماعت کے لیے مقرر کیا۔

درخواست پر سماعت
جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ درخواست پر سماعت کررہا ہے جس میں نیب پراسیکیوٹر، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور شہبازشریف کے وکیل درخواست پر دلائل دے رہے ہیں۔

درخواست پر سماعت

سماعت کے موقع پر (ن) لیگ کے صدر شہباز شریف، پرویز رشید، امیر مقام، ملک احمد خان اور عطا تارڑ بھی عدالت میں موجود ہیں۔

سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اشتیاق احمد نے مؤقف اپنایا کہ نواز شریف کی صحت تشویشناک ہے، چاہتے ہیں کہ وہ بیرون ملک علاج کیلئے جائیں، اگر وفاقی حکومت کو بانڈ جمع کرانے کا مسئلہ ہے تو (ن) لیگ اسی رقم کے برابر بانڈ عدالت میں جمع کرادے، یہ عدالت کو مطمئن کر دیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مؤقف پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے اور حکم کی تعمیل کے لیے تیار ہیں جس کے بعد عدالت نے 7 سوال فریقین کے سامنے رکھے۔

عدالت کے فریقین سے 7 سوالات
کیا کسی سزا یافتہ شخص کا نام ای سی ایل سے نکالا جاسکتا ہے؟
کیا ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے یک طرفہ شرائط قائم کی جاسکتی ہیں؟
ضمانت پرہونے، سزا معطلی کے بعد عدالتی حکم کی موجودگی میں کیا قانونی صورتحال ہوگی؟
کیا حکومت،درخواست گزارانڈیمنٹی بانڈ کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کرسکتے ہیں؟
کیا کوئی چیز میمو رنڈم میں شامل یا نکالی جاسکتی ہے؟
کیا میمو رنڈم انسانی بنیادوں پر جاری کیا گیا ہے؟
کیا فریقین اپنے بانڈز میں کمی کرسکتے ہیں ؟
جسٹس باقر نجفی نے استفسار کیا کہ بانڈز کے حوالے سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟ جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ مؤکل عدالت میں موجود ہیں، مشورےکیلئے وقت دیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ نوازشریف کےوکیل بتائیں کیا نوازشریف شورٹی کے طورپر کچھ دینا چاہتے ہیں یا نہیں، نواز شریف سے ہدایات لے کرعدالت کو آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے شہباز شریف کے وکیل کی درخواست پر سماعت میں 20 منٹ کا وقفہ کردیا جس کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز کیا گیا اور مختصر سماعت ہوئی۔

لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کے وکلا سےتحریری ضمانت طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف واپس آنے سے متعلق لکھ کردیں۔

عدالت کی جانب سے ضمانت طلب کیے جانے پر شہبازشریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ڈاکٹرزکی سفارش پر نواز شریف کو بیرون ملک بھجوایا جانا ہے، وہ یقین دہانی کروانے کو تیار ہیں جب بھی صحت مند ہوں گے واپس آئیں گے اور عدالتی کیسز کا سامنا کریں گے۔

*عدالت نے شہبازشریف سے بیان حلفی کا مسودہ طلب کرلیا*

اس موقع پر عدالت نے شہبازشریف سے سوال کیا کہ آپ کا کیا کردارہوگا ان (نوازشریف ) کو واپس لانے کیلئے؟ آپ کس قسم کا بیان حلفی دیتے ہیں اس کا مسودہ دیں۔

سرکاری وکیل نے مؤقف اپنایا کہ العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل سماعت کیلئے مقرر ہوئی ہے، ہم صرف ایک تحریری بیان مانگ رہے ہیں جو قانون اجازت دیتا ہے۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ جو بیان حلفی دینا چاہ رہے ہیں آپ دیکھ لیں، ہم دونوں فریقین کی رضا مندی سے معاملہ حل کروانا چاہتے ہیں، یہ بیان حلفی 3 بار کے وزیراعظم اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے ہو گی۔

عدالت نے امجد پرویز سے مکالمہ کیا کہ ہمیں ڈرافٹ بنا کردیں ہم ان الفاظ کو دیکھ لیں گے۔

عدالت نے شہبازشریف کے وکلا سے ضمانت کا تحریری مسودہ طلب کرنے کے بعد دوسری بار سماعت میں وقفہ کردیا۔

*ڈرافٹ کا متن*
عدالت کے طلب کرنے پر تھوڑی دیر بعد وکیل امجد پرویز نے نوازشریف اور شہبازشریف کی طرف سے بیان حلفی کا ڈارفٹ دیا گیا جو 2 صفحات پر مشتمل ہے۔

ہاتھ سے لکھے ہوئے ڈرافٹ کے متن میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف پاکستان کےڈاکٹروں کی سفارش پر بیرون ملک جارہے ہیں، بیرون ملک ڈاکٹرجیسے ہی اجازت دیں گے اور نواز شریف صحت مند ہوتے ہی وطن واپس آئیں گے، وہ واپس آکر اپنے عدالتی کیسز کا سامنا کریں گے۔ْ
لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت دے دی۔ ای سی ایل سے نام نکالنے کا حکم

Comments

comments