آزادی مارچ کے حوالے سے جو فیصلہ رہبرکمیٹی کریگی وہی اے این پی کا فیصلہ ہوگا،اسفندیار ولی خان

آزادی مارچ کے حوالے سے جو فیصلہ رہبرکمیٹی کریگی وہی اے این پی کا فیصلہ ہوگا،اسفندیار ولی خان
اگر رہبر کمیٹی کوئی متفقہ فیصلہ نہیں کرتی تو پھر اے این پی آزاد ہے کہ وہ اپنا فیصلہ خود کریں
اے این پی کسی قسم کی انتہاپسندی پر بھی یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی اُسے ایک لمحے کیلئے برداشت کرسکتی ہے
ے این پی کسی غیر آئینی اور غیر جمہوری قدم کی حمایت نہیں کریگی
پاکستان میں ماسوائے دو الیکشنز کے سارے الیکشنز فوج کی نگرانی کے بغیر ہوئے ہیں
یہ عین ممکن ہے کہ پاکستان میں اس وقت فوج کے عمل دخل کے بغیر الیکشنز کا انعقاد ہو
کرتارپور کا کھلنا خوش آئند لیکن ایک طرف راہداریاں کھل رہی ہے اور دوسری طرف باڑ لگائے جارہے ہیں
پاکستان اور افغانستان میں بد اعتمادیاں موجود ہیں لیکن اس کا خاتمہ مل بیٹھ کر ہی ہوسکتا ہے
سابقہ قبائیلی علاقہ جات کے تمام مسائل کا حل سیاست میں ہی مضمرہے
بندوق اُٹھانے سے نئے ضم شدہ اضلاع کے مسائل حل نہیں ہونگے
نئے اضلاع میں اس وقت سیاسی اور قانونی خلا ہے اور خلا پھر شدت پسند ہی پُر کرتے ہیں

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی آزادی مارچ کی حمایت کرچکی ہے،آزادی مارچ کے حوالے سے جو فیصلہ رہبرکمیٹی کریگی وہی اے این پی کا فیصلہ ہوگا،کرتارپور کا کھلنا خوش آئند ہے، ملکوں کی پالیسیاں عوام کے میل میلاپ سے ہی بنتی ہیں لیکن ایک بات پر ہمیں افسوس ہے کہ ایک طرف راہداریاں کھل رہی ہے جبکہ دوسری طرف باڑ لگائے جارہے ہیں۔۔ولی باغ چارسدہ میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پرسوں اے این پی کے مشاورتی کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے اور اُس میں اے این پی نے اپنے نمائندے میاں افتخار حسین کو یہ مینڈیٹ دیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی آزادی مارچ کی حمایت کرچکی ہے،آزادی مارچ کے حوالے سے جو فیصلہ رہبرکمیٹی کریگی وہی اے این پی کا فیصلہ ہوگا۔اگر رہبر کمیٹی کوئی متفقہ فیصلہ نہیں کرتی تو پھر اے این پی آزاد ہے کہ وہ اپنا فیصلہ خود کریں۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کسی قسم کی انتہاپسندی پر بھی یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی اُسے ایک لمحے کیلئے برداشت کرسکتی ہے خواہ وہ انتہاپسندی دائیں جانب سے ہورہا ہو یا بائیں جانب سے،کیونکہ اے این پی ثبوت دے چکی ہے کہ انتہاپسندی اور دہشتگردی کی جنگ میں ہم نے جتنی قربانیاں دی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔اسفندیار ولی خان نے آزادی مارچ کے حوالے سے مزید کہا کہ ہم روز اول سے یہی کہہ رہے ہیں کہاے این پی کسی غیر آئینی اور غیر جمہوری قدم کی حمایت نہیں کریگی،نئے انتخابات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ انتخابات ایک سیاسی عمل ہے،ایک سیاسی پارٹی کیسے اس عمل سے اپنے آپ کو باہر رکھ سکتی ہے یا اُس کیلئے تیار نہیں ہوگی۔فوج کے بغیر پرامن انتخابات کے سوال پر اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پاکستان میں ماسوائے دو الیکشنز کے سارے الیکشنز فوج کی نگرانی کے بغیر ہوئے ہیں،یہ عین ممکن ہے کہ پاکستان میں اس وقت فوج کے عمل دخل کے بغیر الیکشنز کا انعقاد ہو۔کرتارپور راہداری کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی کرتارپور کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ اس راہداری کی حمایت کرتی ہے،کرتارپور راہداری کا کھلنا خوش آئند ہے کیونکہ عوام کے میل ملاپ سے ہی ملکوں کی پالیسیاں بنتی ہے لیکن اے این پی اس بات کی مذمت کرتی ہے کہ ایک طرف راہداریاں کھل رہی ہے جبکہ دوسری طرف باڑ لگائے جارہے ہیں،اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی لگائے گئے باڑ ہٹائے جائے اور کرتارپور کے طرز پر راہداریاں بنائی جائے۔آزادی مارچ کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پاک افغان تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں غلط فہمیاں موجود ہیں اور اُس کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب دونوں ملک آپس میں بیٹھیں گے،اسی طرح افغان مسئلے کا حل بھی صرف اور صرف مذاکرات ہی میں ہے کیونکہ تاریخ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جن لوگوں نے بھی مذاکرات کے دروازے بند کیے ہیں اُس کا نتیجہ کیا نکلا ہے؟اسفندیار ولی خان نے مزید کہا سابقہ قبائیلی علاقہ جات کے تمام مسائل کا حل سیاست میں ہی مضمرہے،بندوق اُٹھانے سے نئے ضم شدہ اضلاع کے مسائل حل نہیں ہونگے،نئے اضلاع میں اس وقت سیاسی اور قانونی خلا ہے اور خلا پھر شدت پسند ہی پُر کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا کو سابقہ قبائیلی علاقہ جات کا اختیار اپنے پاس رکھنے کے بجائے اسے گراس روٹ لیول تک منتقل کرنا چاہیے اسی طرح انضمام کے وقت قبائیلی عوام کے ساتھ جو وعدے کیے گئے ہیں اُس پر بھی من و عن عمل کیا جائے۔

Comments

comments