ملک اور صوبے پر مسلط حکومتیں سرکاری اداروں کو پرائیویٹائز کرنا چاہتے ہیں،ایمل ولی خان

  • IMG-20191009-WA0229.jpg

ملک اور صوبے پر مسلط حکومتیں سرکاری اداروں کو پرائیویٹائز کرنا چاہتے ہیں،ایمل ولی خان
اداروں کی نجکاری سے بوجھ سارا غریب عوام پر پڑے گا
حکومت تمام مسائل ڈنڈے کے زور پر حل کرنا چاہتی ہے جس سے افراتفری کا خدشہ ہے
حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سرکاری ملازمین کو سنے اور اُن کے مسائل حل کرے
ڈاکٹروں کو پکوڑے بیچنے والے یا سیاسی کہنے سے مسائل حل نہیں ہونگے
صوبائی خودمختاری کی شکل میں پختونوں نے جو حقوق حاصل کیے تھے آج وہ واپس لیے جارہے ہیں
اٹھارہویں آئینی ترمیم پر اصل معنوں میں عمل کیا جائے تو خیبر پختونخوا غریب اور پسماندہ صوبہ نہیں رہے گا
بونیر سے واپسی پر ولی باغ چارسدہ میں پارٹی وفود سے ملاقاتیں

چارسدہ(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملک اور صوبے پر مسلط حکومتیں سرکاری اداروں کو پرائیویٹائز کرنا چاہتی ہیں،عوام حکومتی جھوٹ و پراپیگنڈے پر کان نہ دھریں، صوبائی حکومت ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے بل کے ذریعے ہسپتالوں کو ٹھیکیداروں کے حوالے کرنا چاہتی ہے،اسی طرح واپڈا کو بھی پرائیویٹائز کرنے کی باتیں شروع ہوچکی ہیں، اے این پی کسی صورت اداروں کی نجکاری نہیں ہونے دیگی۔ بونیر سے واپسی پر پارٹی کارکنان اور قائدین سے ولی باغ چارسدہ میں ملاقات کے دوران ایمل ولی خان نے کہا کہ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اداروں کی نجکاری سے وقتی طور پر اسے یہ فائدہ ہوگا کہ ناقدین کی تنقید کا رخ کسی اور طرف مڑ جائیگا لیکن اس کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑے گا،انہوں نے اپنے حقوق کیلئے دھرنے دینے والی ڈاکٹرز برادری پر حکومتی جبر کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ جب بھی سرکاری ملازمین کو اے این پی کی ضرورت پڑے گی تو اے این پی اُن کے شانہ بشانہ کھڑی ہوکر اُن کے حقوق کیلئے جدوجہد کریگی۔ ایمل ولی خان نے یہ بھی کہا صوبے کے اساتذہ سے لیکر وکلاء برداری، ڈاکٹرز، انجینئرز سب احتجاج کررہے ہیں جبکہ مسلط کردہ حکومت کی یہ حالت ہے کہ وہ تمام مسائل کو ڈنڈے کے زور پر حل کرنا چاہتی ہے، اگر حکومت کا رویہ احتجاج کرنے والوں کے حوالے سے یہی رہا تو خدانخواستہ یہ صوبہ خانہ جنگی کی طرف بھی جاسکتا ہے۔ انہوں نے حکمرانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں یا دیگر طبقات پر الزامات لگانے کے بجائے حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سرکاری ملازمین کو سنے اور اُن کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے، ڈاکٹروں کو پکوڑے بیچنے والے یا سیاسی کہنے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔ ایمل ولی خان نے یہ بھی کہا کہ پختونوں کو معاشی طور پر بھی بہت سی مشکلات درپیش ہیں، اے این پی نے اٹھارہویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کی شکل میں پختونوں کیلئے جو حقوق حاصل کیے تھے آج کٹھ پتلیوں کے ذریعے اُن حقوق کو واپس لیا جارہا ہے یا وہ حقوق نہ دینے کی باتیں ہورہی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان خیبر پختونخوا میں آکر غیر آئینی اعلان کرتا ہے کہ وفاق اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ خیبر پختونخوا کو بجلی رائلٹی دے سکے، اگر وزیراعظم پاکستان خیبر پختونخوا میں اُٹھ کر غیر آئینی اعلان کرتا ہے تو پھر اے این پی سے بھی خیر کی توقع نہ رکھیں کیونکہ اسی صوبائی خودمختاری اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کیلئے اے این پی نے قربانیاں دی ہیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے اگر اٹھارہویں آئینی ترمیم کی روح پر اصل معنوں میں عمل درآمد کیا جائے تو کسی طور پر بھی خیبر پختونخوا غریب اور پسماندہ صوبہ نہیں رہے گا کیونکہ سارے پاکستان سے زیادہ معدنیات اور قدرتی وسائل خیبر پختونخوا میں ہیں اور یہی معدنیات پختون دشمن قوتوں کو ہضم نہیں ہورہیں جس کیلئے ایک طرف ہمارا قتل عام کیا جارہا ہے تو دوسری طرف کٹھ پتلیوں کے ذریعے ہمارے اُن حقوق پر قابض ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں جو اے این پی کو کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔

Comments

comments