جے یو آئی کاآزادی مارچ اور دھرنا۔وفاقی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی احتجاج یا دھرنا نہیں ہوسکتا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح کر دیا

  • IMG_20191009_174617.jpg

احتجاج اور دھرنے کے متعلق سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے قانون بن چکے۔وفاقی حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون پر عملدرآمد کروائے

2014میں پی ٹی آئی کو بھی یہی حکم دیا تھا کہ وہ وفاقی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر دھرنا نہیں دے سکتے۔احتجاج ہر شہری کا حق مگر اس سے دوسرے متاثر نہ ہوں۔عدالت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اسلام آباد)اسلام آباد ہائیکورٹ نے جے یو آئی کو حکومت مخالف آزادی مارچ اور دھرنے سے روکنے کے لئے دائر پٹیشن پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو وفاقی دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جے یو آئی سمیت کوئی بھی وفاقی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کوئی احتجاج یا دھرنا نہیں ہوسکتا،احتجاج اور دھرنے کے متعلق سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے قانون بن چکے ہیں،وفاقی حکومت اور اسلام آباد انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون پر عملدرآمد کروائے،عدالت نے پٹیشن کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام(ف)کو حکومت مخالف آزادی مارچ اور دھرنے سے روکنے کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر پٹیشن کی سماعت آج(بدھ)کو ہوئی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے شہری حافظ احتشام احمد کی جانب سے دائر پٹیشن کی سماعت کی،سماعت کا آغاز ہوا تو پٹیشنر حافظ احتشام احمد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ”مولانا فضل الرحمن نے 27اکتوبر کو حکومت کے خاتمے کے لئے آزادی مارچ اور دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے،اس سے قبل مولانا فضل الرحمن نے ملک بھر میں تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے عنوان پر پندرہ ملین مارچ کئے،مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے خاتمے کی بنیاد ختم نبوت ﷺ اور ناموس رسالت ﷺ کو بنایا کہ موجودوہ حکومت سے ختم نبوت ﷺ اور ناموس رسالت ﷺ کو خطرہ ہے،اس وقت ملک میں ختم نبوت ﷺ اور ناموس رسالت ﷺ کو کوئی خطرہ نہیں،مولانا فضل الرحمن ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ کے عنوان پر سیاست کررہے ہیں،فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آئین کے تحت شہریوں کو حاصل احتجاج اور اجتماع کے حق کی تشریح کر دی ہے،سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی قانونی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے کوئی بھی احتجاج یا اجتماع خلاف آئین و قانون ہے،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا ہے کہ پبلک مقامات اور روڈز پر احتجاج کرنا بھی خلاف آئین و قانون ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد میں احتجاج یا دھرنے کے لئے ڈیموکریسی پارک کو مختص کر رکھا ہے،جہاں ڈپٹی کمشنر کی اجازت سے احتجاج یا دھرنا دیا جاسکتا ہے،لہٰذا عدالت جے یو آئی کے حکومت مخالف آزادی مارچ اور دھرنے کو روکنے کا حکم دے“۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پٹیشنر سے استفسار کیا کہ کیا جے یو آئی نے وفاقی انتظامیہ سے احتجاج یا دھرنے کی اجازت مانگی ہے۔اس پر پٹیشنر نے جواب دیا کہ میری معلومات کے مطابق تاحال کوئی اجازت نہیں مانگی گئی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ”وفاقی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی نہ تو احتجاج کرسکتا ہے اور نہ ہی دھرنا دے سکتا ہے،جس نے بھی احتجاج کرنا ہے یا دھرنا دینا ہے وہ وفاقی انتظامیہ کو درخواست دے گا اور وفاقی انتظامیہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے گی،احتجاج اور دھرنے کے متعلق سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے قانون بن چکے،وفاقی حکومت اور وفاقی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون پر عملدرآمد کروائے،احتجاج کا حق ہر شہری کو ہے مگر اس سے دوسرے شہریوں کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیے،2014میں ہم نے پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کو بھی یہی حکم دیا تھا کہ وہ وفاقی انتظامیہ کی اجازت سے دھرنا دے سکتے ہیں ورنہ نہیں،ابھی تک جے یو آئی نے نہ اجازت مانگی اور نہ ہی وفاقی انتظامیہ نے اجازت دی،اس لئے ابھی یہ پٹیشن قبل از وقت ہے“۔اس پر پٹیشنر نے کہا کہ تحریک لبیک بھی اجازت کے بغیر اسلام آباد آگئی تھی۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیا کہ وفاقی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون پر عملدرآمد کرواتے ہوئے امن و امان برقرار رکھے۔پٹیشنر نے عدالت سے استدعا کی کہ میں وکیل کی خدمات حاصل کرنا چاہتا ہوں،لہٰذا عدالت مہلت دے۔عدالت عالیہ نے پٹیشنر کی استدعا منظور کرتے ہوئے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو حکم دیا کہ وہ احتجاج یا دھرنے کے متعلق کسی بھی درخواست پر فیصلہ قانون کے مطابق کرتے ہوئے اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھے“۔

Comments

comments