پاکستان کی پارلیمانی سفارتکاری  کے محاذ پر ایک اور بڑی کامیابی دولت مشترکہ کے ارکان پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و  کشمیر میں 5اگست کے بھارتی اقدام کے بعد کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔

  • IMG_20190929_153413.jpg

*پاکستان کی پارلیمانی سفارتکاری  کے محاذ پر ایک اور بڑی کامیابی*

*دولت مشترکہ کے ارکان پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و  کشمیر میں 5اگست کے بھارتی اقدام کے بعد کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔*

 کمپالا، یو گنڈا 29 ستمبر2019:دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن (سی پی اے) نے مقبوضہ کشمیر میں جاری محاصرے اور اس کی اسمبلی کے تحلیل کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیاہے جو دولت مشترکہ کا مستقل ممبر تھی۔ دولت مشترکہ کے اجلاس کو کمپا لا میں میں جاری تھا ۔اجلاس میں شریک پاکستانی مندوب سےبھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حثیت کے خا تمے کے معاملے کی تحقیقات کے لئے تحریری درخواست پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار  64 ویں دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کے جنرل اسمبلی کے صدر ریبیکا کداکا، یوگنڈا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور 64 ویں دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کے میزبان نے کیا ہے۔دولت مشترکہ کی پارلیمانی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے اُس وقت یہ بیان سامنے آیا جب پاکستانی  بین الصوبائی رابطہ کی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی سربراہی میں پاکستانی مندوبین نے بھارتی مظالم کے خلاف بھرپور آواز اُٹھائی اور مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشتگردی ، انسانیت سوز مظالم اور 56دن سے جاری مسلسل کرفیو کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیے کا ذکر کرتے ہوئے بھارت کا مکرو چہرہ   دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ۔

ڈاکٹر فہمید مرزا کےخطاب کے بعد پاکسانی مندوب ایم این اے ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے بھی بھارتی قابض افواج کے ذریعہ مقبوضہ وادی کشمیر کے مسلسل محاصرے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے وادی کشمیر کو “دنیا کی سب سے بڑی اوپن ایئر جیل” قرار دیا۔

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نےسی پی اےکی جنرل اسمبلی کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے بتایا کہ مقبوضہ ریاست کے گورنر کی جانب سے برخاستگی کی وجہ سے ہندوستان کا مقبوضہ کشمیر کی مقننہ ، جو سی پی اے کی شاخ تھا کو ایسوسی ایشن نے غفلت کا نشانہ بنایا۔ تاہم سی پی اے نے نہ تو ان وجوہات کی تحقیقات کی اور نہ ہی ان کا جائزہ لیا جس کے تحت قابض افواج کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر کے عوام سے بھی محدود نمائندگی چھین لی گئی ہے۔

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کانفرنس کے شرکاء کومطلع کرتے ہوئے کہا کہ “مقبوضہ کشمیر کے عوام 5 اگست سے مسلسل کرفیو میں محصور  ہیں اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے تمام منتخب نمائندے نظربند ہیں اور کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کے خلاف  کسی بھی قسم کی آواز اُٹھانے سے محروم ہیں ۔

 دوران خطاب بھارتی وفد کی جانب سے بلاوجہ مداخلت کرنے پر ڈاکٹرفہمیدہ مرزا نے بھرپور آواز میں کشمیری عوام سے چھینےگئے حقوق کے حق اور بھارتی ظلم جبر کے خلاف اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ بھارتی مندوبین کی جانب سے بے بنیاد مداخلت کے ذریعے  دوسرے ممبر ممالک کے مندوبین کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی جس کو پاکستانی وفد  نے ناکام بنا دیا۔

            ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے اپنے خطاب میں اس بات  پر افسوس کا اظہار کیا کہ دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت نے حقیقت میں لوگوں کی آواز کو دبا دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جہاں خواتین اور بچے مسلسل بھارتی جارحیت کا سب سے زیادہ شکار ہیں وہاں بھارتی مظالم کے خلاف دنیا کی تمام جمہوریتں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پی اے کا مطلب جمہوری حقوق اور اس کی ممبر شاخوں کے لوگوں کے آزادیوں کا دفاع کر نا ہے۔انہوں نے کہا کہ  مقبوضہ جموں و کشمیر کی اسمبلی کی معطلی اور مقبوضہ  علاقے میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموشی اختیار کرنا اس معزز ایوان کی کاروائی پر سوالیہ نشان جنم لے گا ۔

بعد ازاں سی پی اے اجلاس میں موجود بھارتی نمائندوں نے مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کو برخاست کرنے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی تو ایوان نے بھارتی جواز کو رد کر دیا اور چیئر نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی اے کی ایگزیکٹو کمیٹی کو حکم دیا کہ وہ اس معاملے کی تحریری شکایت پر تحقیقات کرے جیسا کہ پاکستان کے وفد نے اس سے کہا تھا۔ چیئر کی جانب سے اس  فیصلے کواجلاس میں شریک  شرکاء نےتالیاں بجاکر فیصلے کو قابل ستائش قرار دیا۔

پاکستان کی پارلیمنٹ کے آٹھ رکنی پارلیمانی وفد ، جس میں ایم این اے بشیر محمود ورک ، ایم این اے شندانہ گلزار خان ، ایم این اے عظمہ ریاض جدون ، ایم این اے شاہین سیف اللہ خان ، سینیٹر ثنا جمالی اور سینیٹر کیشو بائی کے علاوہ وزیر ڈاکٹر مرزا اور ایم این اے ڈاکٹر پاشا شامل ہیں۔ 64 ویں دولت مشترکہ  کانفرنس یوگنڈا کے دارالحکومت میں ہور ہی ہے جس میں پاکستانی پارلیمنٹرین کے علاوہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے وفود بھی یہاں موجود تھے ۔ کانفرنس میں دولت مشترکہ کے 54 ممالک کے 180 پارلیمانوں کے 600 سے زائد مندوبین ، مبصرین اور پارلیمانی ماہرین بھی شریک تھے ۔
*********************

Comments

comments