خیبر پختونخوا کو بجلی کا خالص منافع روکنا آئینی خلاف ورزی ہے، اسفندیار ولی خان

خیبر پختونخوا کو بجلی کا خالص منافع روکنا آئینی خلاف ورزی ہے، اسفندیار ولی خان
صوبائی حکومت وفاق سے پھیک نہیں مانگ رہی بلکہ اپنے آئینی حق کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے میں ناکامی کے بعد سلیکٹڈ اعظم نے پیٹھ پر وار کیا ہے۔
خیبر پختونخوا پرمسلط حکومت خود کو بچانے کیلئے صوبے کے حقوق پر سمجھوتہ کررہی ہے۔
اے این پی نے اپنے وسائل پر اختیار حاصل کر کے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔
جتنا کام اے این پی نے تین سال میں کیا،پی ٹی آئی چھ سال میں اس کا نصف بھی نہ کر سکی۔
نالائق حکمران وفاق کے سامنے بے بس ہیں،ولی باغ چارسدہ میں پارٹی عہدیداروں سے بات چیت

 اسفندیار ولی خان

اسفندیار ولی خان


پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کو بجلی منافع کی مد میں اپنا آئینی حصہ نہ دینا آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے،وفاقی حکومت سے صوبائی حکومت پھیک نہیں مانگ رہی بلکہ اپنے آئینی حق کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ولی باغ چارسدہ میں افغانستان سے واپسی پر پارٹی کارکنان سے ملاقات کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کافی عرصہ سے اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں،اب سلیکٹڈ اعظم کو کوئی اور راستہ نہیں ملا تو اُس نے پیچھے سے وار کرتے ہوئے یہ بہانہ بنایا ہے کہ وفاق اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ خیبر پختونخوا کو بجلی منافع کی مد میں اپنا آئینی حق دے سکے،انہوں نے کہا کہ اے این پی کسی صورت وفاقی حکومت کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ خیبر پختونخوا کے آئینی حق کو ہڑپ کرے،انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور صوبائی خودمختاری کیلئے اے این پی نے سالہا سال قربانیاں دی ہیں لیکن بدقسمتی سے آج خیبر پختونخوا پر ایک ایسی حکومت مسلط کردی گئی ہے جو خود کو بچانے کیلئے خیبر پختونخوا کے حقوق پر سمجھوتہ کررہی ہے۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم سے پہلے صوبوں کی حیثیت ایسی ہی تھی جیسے کوئی بندہ کرائے کے گھر میں رہتا ہو۔اپنے وسائل پر کسی کو اختیار نہیں تھا، اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ہم نے اپنے وسائل پر اختیار حاصل کیا،اے این پی نے اپنے دور حکومت میں اگر یونیورسٹیاں،کالجز،سینکڑوں سکول سپورٹس اور جوڈیشل کمپلیکسسز بنائے ہیں تو یہ وفاق سے خیبر پختونخوا کو اپنا آئینی حق ملنے کے بعد ممکن ہوا، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں آئینی ترمیم سے استفادہ اپنے دور حکومت میں صرف تین سال کیا ہے، تو کیا گزشتہ چھ سال میں تبدیلی سرکار اس کا نصف بھی نہیں بنا سکتی تھی؟
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اگر ہم تین سال میں 24سمال ڈیمز منظور کرسکتے تھے اور اُن میں سے دس کو فنڈز جاری کرسکتے تھے تو یہ چھ سالوں میں مزید دس نہیں بنا سکتے تھے؟اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اگر ہمارے بعد تسلسل کے ساتھ صوبے کے تعلیم پر بھی کام کیا جاتا تو آج پختونخوا کہاں سے کہاں تک پہنچ چکا ہوتا؟تبدیلی سرکار نے صوبے کو چھ سال میں ترقی دینے کے بجائے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا مقروض کردیا ہے،اس پر صرف افسوس ہی کیا جاسکتاہے۔بی آر ٹی کی شکل میں صوبے کے مرکز پشاور کے حلیے کو بگاڑ دیا گیا وہ بھی اربوں روپے قرض لیکر،اور اس کے باوجود بھی تبدیلی سرکار کے حکومت میں اُن کا لاڈلہ وزیراعظم کہتا ہے کہ وفاق اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ پختونخوا کو بجلی کے مد میں رائیلٹی دے سکیں۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہماری حکومت میں تعلیمی اداروں کے علاوہ جتنی سڑکیں،ہسپتال بنے اورجتنے فنڈز ہم نے دینی اداروں اور مساجدکو دیے ہیں یہ چھ سالوں میں بھی نہیں دکھا سکتے،تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ فنڈز ہم گھر سے لیکر آئے تھے؟نہیں ہم نے یہ فنڈز وفاق سے حاصل کئے اور صوبے میں اُس کو خرچ کردیا تھا،اب یہ ان کی نالائقی ہے کہ وفاق سے اول اپنے فنڈز نہیں لے سکتے اور بعد میں اُس کو خرچ نہیں کر سکتے۔

Comments

comments