وفاقی وزارت داخلہ میں تعینات سینئر آفیسر کی مداخلت ضلعی انتظامیہ کے ماتحت ریونیو ڈیپارٹمنٹس محصولات کے حصول میں مشکلات سے دوچار ہو گئے

  • IMG_20190916_194109.jpg

وفاقی وزارت داخلہ میں تعینات سینئر آفیسر کی مداخلت

ضلعی انتظامیہ کے ماتحت ریونیو ڈیپارٹمنٹس محصولات کے حصول میں مشکلات سے دوچار ہو گئے

وزارت داخلہ میں تعینات ڈپٹی سیکرٹری کی مداخلت سے ریوینو ڈیپارٹمنٹ اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد مالی مشکلات سے دوچار ہو گئے

مالی سال کے پہلے ماہ میں 2 ارب روپے سے زائد ٹیکس ریکوری کرنے والے ادارے گزشتہ 2 ماہ سے ٹیکس اہداف کے حصول میں ناکام ہو گئے۔زرائع

ڈپٹی سیکرٹری کی بے جا مداخلت سے اہداف کے حصول میں مشکلات سے دوچار ہیں۔زرائع ملازمین

ملازمین اور افسران کے خلاف بلا جواز کاروائیوں سے ریوینو کے حصول پر اثر پڑا۔زرائع ملازمین

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ میں یومیہ 50 لاکھ روپے سے زائد ٹیکس ریکوری میں کمی واقع ہو گئی۔زرائع

ایکسائز قوانین میں رہائشی ثبوت کی شرط نہ ہونے کے باوجود شہریوں سے وفاقی دارلحکومت میں رہائش کے ثبوت طلب کرنے پر ریونیو میں کمی ہوئی۔زرائع ایکسائز ڈیپارٹمنٹ

وزارت داخلہ میں تعینات افسران کی بے جا مداخلت بھی ریوینو میں کمی کا موجب بنی۔زرائع ایکسائز ڈیپارٹمنٹ

آن لائن رجسٹریشن،ون ونڈو بحالی اور کاونٹرز کی تعداد میں اضافے جیسی اصلاحات کے باوجود وزارتی مداخلت سمجھ سے بالاتر ہے۔زرائع ایکسائز ڈیپارٹمنٹ

ملازمین کی تعداد میں اضافے سے متعلق سمری گزشتہ 8 ماہ سے وزارت داخلہ کو بھجوا رکھی ہے جس پر عملدار نہیں ہو رہا۔ذرائع ایکسائز ڈیپارٹمنٹ

گزشتہ دو ماہ میں ٹاوٹس کے خلاف 37 سے زائد ایف آئی آرز کا اندارج کروایا گیا۔زرائع ایکسائز ڈیپارٹمنٹ

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے احاطے میں ایجینٹس کو داخلہ ممنوع ہے تمام ایجنٹس کو ایکسائز آفس کی عمارت کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔زرائع ایکسائز ڈیپارٹمنٹ

ملازمین اور افسران بے جا مداخلت سے ذہنی دباو کا شکار ہیں۔زرائع

ضلعی انتظامیہ کے ماتحت اداروں کے اکثر اہلکار صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک مختلف مقامات پر ڈیوٹیاں دینے پر مجبور ہیں۔زرائع ملازمین

ایکسائز اور ریوینو ڈیپارٹمنٹ کے افسران و اہلکار اپنے اداروں کے علاوہ،پناہ گاہوں،پرائس کنٹرول کمیٹیوں،ڈینگی مہم اور دیگر مقامات پر ڈیوٹیاں دینے پر مجبور ہیں،ذرائع

وزیر داخلہ اور وفاقی وزیر ریوینو ماتحت اداروں کے ملازمین کے مسائل کے حل پر بھی توجہ دیں اور محصولات کے حصول میں رکاوٹ بننے والے افسران کے خلاف کارروائی کریں۔

Comments

comments