٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت قانونی اصلاحات کے حوالے سے اجلاس

اسلام آباد،13ستمبر 2019:
٭ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت قانونی اصلاحات کے حوالے سے اجلاس
٭ اجلاس میں وزیرِ قانون ڈاکٹر فروغ نسیم، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، وزیرِ قانون پنجاب محمد بشارت راجا، وزیرِ قانون خیبر پختونخواہ سلطان محمد خان، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی و دیگر سینئر افسران شریک
٭ وزیرِ قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے معاشرے کے کمزور طبقوں خصوصاً عورتوں، بچوں اور غریب و نادار افراد کے حقوق کے تحفظ اور ان کو ریاست کی جانب سے قانونی معاونت فراہم کرنے، عوام الناس کی خون پسینے کی کمائی اور ملکی دولت چرانے والے وائٹ کالر جرائم میں ملوث افراد کو جیلوں میں مراعات دینے کی روش کے خاتمے، مختلف جرائم خصوصاً بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی میں ریاست کی معاونت کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی (وہسل بلوئر)، مقدمات کے جلد نمٹانے جانے اور عوامی مفاد کے دیگرمعاملات کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی پر اب تک کی پیش رفت سے وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا۔
٭ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو انصاف کی فراہمی پی ٹی آئی حکومت کے منشور کا سب سے اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی نہ صرف شہریوں کا حق ہے بلکہ اس سے ایک عام آدمی کی زندگی پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ عدل و انصاف کے بغیر نہیں چل سکتا۔
٭ معاشرے کے کمزور طبقات خصوصی طور پہ خواتین، بچوں اور غریب افراد کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی مثلاً خواتین کو جائیداد میں انکے حق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ضمن میں کی جانے والی قانون سازی پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض مقامات پر ابھی بھی خواتین کو ان کے قانونی حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس ضمن میں موجود قوانین اس لئے موثر ثابت نہیں ہو سکے کیونکہ ان پر عملدرامد کا طریق کار نہایت مشکل اور پیچیدہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اس عمل کو نہایت ہی آسان بنا رہی ہے تاکہ خواتین کو باآسانی ان کا حق میسر آسکے اور ریاست ان کا سہارا بنے۔
٭ مقدمات کے ایک مقررہ مدت میں فیصلے اور تکمیل کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ متعلقہ قوانین میں ترمیم کرکے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ سالہا سال اور نسل در نسل چلنے والے مقدمات کا ایک مقررہ مدت میں فیصلہ ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی انصاف نہ ملنے کے مترادف ہے۔
٭ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کمزور لوگوں کو انصاف تک رسائی میں مدد فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس ضمن میں قانون سازی کر رہی ہے تاکہ جہاں نادار اور غریب افراد کو ریاست کی جانب سے قانونی معاونت فراہم کی جا سکے وہاں ان افراد کی ہر ممکن طریقے سے مدد کی جا سکے جو معمولی جرائم میں جرمانہ ادا نہ کرنے کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔
٭ قومی دولت لوٹنے اور وائٹ کالر جرائم میں ملوث بااثر افراد کو جیلوں میں مراعات ملنے کی روش کی حوصلہ شکنی اور روک تھام کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایک ہی نوعیت کے جرم میں ملوث امیر اور غریب افراد کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جانا عدل و انصاف کے اصولوں کی نفی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام الناس کی خون پسینے کی کمائی اور ملکی دولت لوٹنے والوں سے یہ رقم واپس نکلوانا قوم کی آواز ہے اور حکومت اس مشن میں پرعزم ہے۔

Comments

comments