جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ کے ہزاروں شرکاء کوپولیس نے دوارا ندی کے مقام پر روک دیا

  • D97DEEF9-F514-4EAF-A1D7-804CD4F07386.jpeg

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ کے ہزاروں شرکاء کوپولیس نے دوارا ندی کے مقام پر روک دیا پتھراؤ،آنسو گیس کا ا
ستعمال پولیس اہلکاران سمیت دو درجن سے زائد افراد زخمی

۔تفصیلات کے مطابق راولاکوٹ سے شروع ہونے والے احتجاجی مارچ کو پولیس کی بھاری نفری نے دوارا ندی کے مقام پر روک دیا اس دوران تصادم میں دو درجن سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما سردار صغیر اور دیگر کی قیادت میں مظاہرین نے دوارا ندی کے ہی مقام پر دھرنا دے رکھا ہے جبکہ تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر بھی سینکڑوں افراد کی جانب سے رات گئے تک دھرنے جاری رکھنے کی اطلاعات ہیں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما سردار صغیر دواراندی کے مقام پر شرکاء سے رات گئے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ رات آرام کریں اور آج صبح اتوار کے روز دوبارہ لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کیا جائیگا زرائع کے مطابق رات گئے بھی مختلف علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر ہیں اور پولیس کی بھاری نفری بھی انھیں روکنے کے لیے مورچے سنبھالے ہوئے ہے اتوار کے روز مظاہرین کی طرف سے ایک بار پھر آگے بڑھنے کی صورت میں بڑے تصادم کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے ہفتہ کے روز راولاکوٹ،ہجیرہ سمیت دیگر چھوٹے بازار بھی بند رہے شرکاء کا موقف ہے کہ انتظامیہ انھیں لائن آف کنٹرول کے سامنے دھرنا دینے دے تانکہ وہ بین الاقوامی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی جانب مبذول کروانے میں کامیاب ہوں

Comments

comments