جج ویڈیو اسکینڈل میں نامزد تین ملزمان عدم شواہد کی بناء پر بری

  • IMG-20190907-WA0559.jpg

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل میں نامزد تین ملزمان کو بری کردیا۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت میں جج ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی جس دوران ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا لہٰذا انہیں کیس سے بری کردیا جائے۔

عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا پر کچھ دیر کے لیے فیصلہ محفوظ کیا جو بعد میں سناتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی درخواست منظور کرلی۔

عدالت نے ایف آئی اے کی سفارش پر جج ویڈیو اسکینڈل کے تین ملزمان ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور غلام جیلانی کو عدم شواہد کی بناء پر بری کردیا۔

جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل کا پس منظر

6 جولائی 2019 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو جاری کی جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا۔ اس بنیاد پر مریم نواز نے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ جج نے خود اعتراف کرلیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔

تاہم جج ارشد ملک نے ویڈیو جاری ہونے کے بعد اگلے روز ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنے اوپرعائد الزامات کی تردید کی اور مریم نواز کی جانب سے دکھائی جانے والی ویڈیو کو جعلی۔ فرضی اور جھوٹی قرار دیا۔

اس معاملے پر کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے مؤقف اپنایا کہ اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔ وزیراعظم کے بیان کے بعد جج ارشد ملک کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم قام چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات ہوئی، اس کے بعد قائمقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے ملاقات کی۔

ان اہم ملاقاتوں کے بعد 12 جولائی 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس عامر فاروق نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد وزرات قانون نے ان کو مزید کام سے روکتے ہوئے ان کی خدمات لاہور ہائیکورٹ کو واپس کردیں۔

اس دوران جج ارشد ملک کا ایک بیان حلفی بھی منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز نے انہیں رشوت کی پیشکش کی۔

جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں بتایا کہ وہ مئی 2019 کو خاندان کے ساتھ عمرے پر گئے، یکم جون کو ناصر بٹ سے مسجد نبویؐ کے باہر ملاقات ہوئی، ناصر بٹ نے وڈیو کا حوالہ دے کر بلیک میل کیا۔

بیان حلفی کے مطابق انہیں (ارشد ملک) کو حسین نواز سے ملاقات کرنے پر اصرار کیا گیا جس پر انہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، حسین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی، پورے خاندان کو یوکے، کینیڈا یا مرضی کے کسی اور ملک میں سیٹل کرانے کا کہا گیا، بچوں کیلئے ملازمت اور انہیں منافع بخش کاروبار کرانے کی بھی پیشکش کی گئی۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر2 کے جج ارشد ملک اہم کیسز کی سماعت کررہے تھے جن میں سابق صدر آصف زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کیس اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف ریفرنس بھی شامل ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کو جج ارشد ملک نے ہی العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جب کہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کیا تھا۔

xADVERTISEMENTلزمان مسمیان ناصر جنجوعہ، غلام جیلانی اور خرم شہزاد کو حراست میں پیش کیاگیا
تفتیشی افسر بھی ریکارڈ کے ہمراہ حاضر ہوا
ایف آئی اے کے معزز پراسیکیوٹر کلیم اللہ تارڑ
راجہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ ملزم ناصر جنجوعہ کی طرف سے پیش ہوئے
نوید رضا ایڈووکیٹ نے ملزمان غلام جیلانی اور خرم شہزاد کی پیروی کی
تفتیشی نے ملزمان کو ڈسچارج کرنے کی درخواست کی
ملزمان سے سماعت ہوئی۔ ریکارڈ کا جائزہ لیاگیا

ریکارڈ کا ملاحظہ بتاتا ہے کہ اگر چہ ملزمان کو اس مقدمے میں نامزد کردیاگیا ہے لیکن دوران کاروائی ان کے خلاف کوئی بھی ٹھوش شواہد ریکارڈ پر پیش نہیں کئے جاسکے۔ ان کی جسمانی تحویل کے دوران کچھ برآمد نہیں ہوا۔ متعلقہ تفتیشی کی معروضات کے مطابق وہ اس جرم کے ارتکاب میںملوث نہیں پائے گئے جو ان پر ایف آئی آر میں لگایاگیاتھا اور ان پر الزامات ثابت نہیں کئے جاسکے۔ ایف آئی اے کے معزز پراسیکیوٹر بھی حاضر تھے اور انہوں نے متعلقہ تفتیشی کے موقف کی حمایت کی کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ بجا طورپر اس لائق ہے کہ ملزمان کو اس میں بریت دی جائے کیونکہ ریکارڈ پر کوئی ثبوت میسر نہیں۔

لہذا فریقین کی معروضات اور ریکارڈ پر موجود شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ عیاں ہے کہ حاضر ملزمان کے خلاف ریکارڈ پر کوئی ایک ثبوت بھی دستیاب نہیں ہے۔ مقدمے میں جو برآمدگی دکھائی گئی ہے وہ بھی شریک ملزم سے ہوئی ہے اور حاضر ملزمان سے نہیں ہوئی۔ لہذا جیل بھجوانے کی مزید اجازت دینے کا کوئی جواز نہیں جیسا کہ استغاثہ قائل ہے کہ ایک بھی ثبوت یا ٹھوس شواہد ریکارڈ پر دستیاب نہیں۔ نتیجتا ملزم ناصر جنجوعہ ولد میاں امام دین، غلام جیلانی ولد غلام محمد اور خرم شہزاد ولد محمد یوسف کو مقدمے میں عائد کردہ الزامات سے بریت دی جاتی ہے اور ان کی فوری رہائی کا حکم دیاجاتا ہے کیونکہ اس مقدمے میں اب مزید ان کی ضرورت نہیں رہی۔

Comments

comments