50 لاکھ روپے تاوان کیلئے اغواء کیے جانے والے مغوی کو 3 سفاک قاتلوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا

  • IMG-20190822-WA0212.jpg
  • IMG-20190821-WA0423.jpg

اٹک 50 لاکھ روپے تاوان کیلئے اغواء کیے جانے والے مغوی کو بولیاوال گاءوں کے 3 سفاک قاتلوں نے رقم نہ ملنے پر موت کے گھاٹ اتار کر اڑانگ گاءوں کے نزدیک ویرانے میں گڑا کھود کر دفن کر دیا پولیس نے جدید ذراءع استعمال کر کے تینوں سفاک قاتلوں کو گرفتار کر کے ان کے اقبال جرم پر لاش گڑے سے برآمد کر کے پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالہ کر دی مقدمہ قتل درج تفصیلات کے مطابق سوزوکی ڈرائیور اسرار احمد نے تھانہ صدر اٹک میں ایف آئی آر درج کرائی ہے کہ اس کی رہائش ڈھوک غلام خان نزد جھلا خان چوک کے قریب ہے اس کی عدم موجودگی میں 17 اگست کی رات 8 بجے کالے رنگ کی کار پر 2 افراد ان کے گھر آئے جنہوں نے میرے والد کے متعلق پوچھا تو والدہ نے بتایا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں اور والد کو فون پر اطلاع دی تو میرا والد محمد انور ولد صوبہ خان موٹر سائیکل پر آیا تو اس نے اپنا موٹر سائیکل کھڑا کیا اور ان نامعلوم افراد کے ساتھ کار میں بیٹھ کر چلا گیا رات کو ان کے گھر نہ آنے پر رابطہ کیا تو والد کا فون بند تھا جسے کالے رنگ کی کار میں نامعلوم افراد اغواء کر کے لے گئے ہیں پولیس نے زیر دفعہ 365 ت پ کے تحت مقدمہ درج کر لیا معاملہ کی سنگینی پر ایس ایچ او تھانہ صدر اٹک عابد شاہ کی نگرانی میں سب انسپکٹر سجاد احمد نے تفتیش شروع کی تو انتہائی مختصر وقت میں دن رات کی محنت اور کاوش سے 3 ملزمان یاسر خان ، ناراصت خان اور محمد تاج سکنائے بولیانوال نے ابتدائی تفتیش میں ہی اقبال جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ محمد انور کو کار میں اغواء کرنے کے بعد اٹک شہر کے نواحی گاءوں میں کار کے اندر ہی گھماتے رہے اور اسے تاوان نہ ملنے پر جو 50 لاکھ روپے تھا موت کے گھاٹ اتار دیا اور 19 اگست کی رات 11 بجے اڑانگ گاءوں میں ویران جگہ پر گڑا کھود کر دفن کر دیا پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر لاش برآمد کی جس کا پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد ورثاء کے حوالہ کر دی گئی جنہوں نے نماز جنازہ کے بعد آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دی ملزمان کے اقبال جرم اور لاش برآمد ہونے پر پولیس نے درج شدہ ایف آئی آر کو مقدمہ قتل میں تبدیل کر کے ملزمان کا عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے ۔

Comments

comments