صادق سنجرانی کا اپوزیشن کو گول مول خط

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپوزیشن کے خط کا جواب دیتے ہوئے اس کے تحفظات کو مسترد کردیا۔ لیکن وہ چیرمینُکے عہدے پر رہنا چاہتے ہیں

بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان صادق سنجرانی کی حمائیت کررہے ہیں

‏جناب محترم، وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان صاحب بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں اور چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کا تعلق اسی جماعت سے ہے، کیا پارٹی سربراہ اپنے ایک رکن کی حمایت بھی نہیں کرسکتے؟

ایک صحافی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر اعتراض اٹھایا تھا کہ‏اپنی معلومات کے لئے یہ کم علم شخص ایک تجزیہ نگار لیاقت شاہوانی سے پوچھنا چاہتا کہ CM جام کمال کی حمائیت سے سینٹ میں کیا فرق پڑ سکتا ہے ؟ اسے میری جہالت سمجھیں کہ 3 CM تو حکومت کے ساتھ ہیں کیا CM بلوچستان کا بھی ووٹ ہے

صادق سنجرانی نے اپوزیشن کے 7 پارلیمانی رہنماوٴں کو تین صفحات پر مشتمل خط لکھا جس میں کہا گیا کہ اپوزیشن کی ریکوزیشن پر اجلاس بلانے کے لیے وزارتِ پارلیمانی امور کو خط لکھ چکا ہوں اور ریکوزیشن اجلاس سے متعلق 2016 کی رولنگ واضح ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میں اپنی ذات کی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ ایوان کے تقدس کے لیے لڑ رہا ہوں اور قرارداد کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔

واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی ہے جس کے بعد تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں نے پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف قرارداد جمع کرادی۔

نیشنل عوامی پارٹی کے سینیٹر حاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف 33 اراکین کی حمایت حاصل ہے اور اپوزیشن کے پاس 66 اراکین ہیں۔ 

اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینیٹر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ صادق سنجرانی حکومت اور میں اپوزیشن کی نمائندگی کر رہا ہوں اور چیئرمین سینیٹ کا معاملہ نہ بلوچ کا مسئلہ ہے نہ بلوچستان کا ہے، اجلاس بلایا جائے اور ووٹنگ کی جائے تاکہ پتا چلے اکثریت کا پتا چلے، حکومت کو صرف 33 اراکین کی حمایت حاصل ہے اور اپوزیشن کے پاس 66 اراکین ہیں۔

حاصل بزنجو نے کہا کہ ہماری تحریک منظور ہوئی یا نامنظور ہمیں نہیں بتایا گیا اور کل کی میٹنگ میں اپوزیشن کے 55سینیٹرز نے شرکت کی، کل پھر میٹنگ ہو گی، امید ہے ہم 60 سے زائد ووٹ لیں گے، چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں تاخیر آئین کی خلاف ورزی ہوگی، حکومت کوئی بھی حربہ استعمال

کرلے اپوزیشن نہ بکے گی اور نہ جھکے گی۔

ا

Comments

comments