دہشت گرد چینی قونصلیٹ پر حملے کیلیے حب سے کراچی پہنچے، رپورٹ

  • Pic24-021.jpg

اب

کراچی: تحقیقاتی اداروں نے حملہ آوروں کا روٹ طے کرلیا، ممکنہ طور پر حملہ آور حب کے راستے کراچی پہنچے ہیں ، گاڑی کی کئی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرلی گئی ہیں ، زیر حراست افراد سے تفتیش کی روشنی میں خواتین سمیت مزید 12 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ، سی ٹی ڈی کی کئی ٹیمیں اندرون سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تفتیش کررہی ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق جمعے کی صبح کلفٹن کے علاقے میں چین کے قونصل خانے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار اورباپ بیٹا جاں بحق جبکہ ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوگیا تھا ، پولیس کی جوابی فائرنگ سے تینوں حملہ آور مارے گئے تھے ، واقعے کی تفتیش پولیس ، سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداریکررہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی اداروں نے حملہ آوروں کے چین کے قونصل خانے تک پہنچنے کا روٹ طے کرلیا ہے ، گاڑی بھی کرائے پر حاصل کی گئی تھی ، اس سلسلے میں تحقیقاتی اداروں نے قونصلیٹ کے اطراف لگے سی سی ٹی وی کیمروں ، قریبی گلیوں ، کلفٹن اور بوٹ بیسن کی شاہراہوں پر لگے کیمروں کی فوٹیجز حاصل کیں تو اس کے بعد مائی کلاچی ، ٹاور ، گلبائی اور شیرشاہ میں لگے کیمروں کی فوٹیج حاصل کی تو اس میں حملہآوروں کی گاڑی نظر آرہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شیرشاہ سے پہلے کی کوئی فوٹیج نہیں مل سکی ، شیرشاہ سے ملنے والی فوٹیج سے یہ بات صاف ظاہر ہورہی ہے کہ حملہ آور حب سے کراچی پہنچے اور حب ریور روڈ سے گزرتے ہوئے شیرشاہ ، مائی کلاچی روڈ ، ٹاور اور بوٹ بیسن سے ہوتے ہوئے قونصلیٹ تک پہنچے ۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ زیر حراست افراد سے بھی تفتیش جاری ہے اور کچھ اہم پیش رفت ہوئی ہے ، تفتیش میں کچھ خواتین کا بھی کردار سامنے آیا ہے اور زیر حراست افراد سے کی گئی تحقیقات کی روشنی میں مزید 12 افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی غرض سے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے ، حراست میں لیے جانے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں ، ذرائع نے مزید بتایا کہ سی ٹی ڈی کی مختلف ٹیمیں اس وقت اندرون سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں جوکہ تفتیش میں مصروف ہیں اور جلد ہی بریک تھرو کا امکان ہے۔

Comments

comments