پنجاب کا رواں مالی سال کیلئے 20 کھرب 26 ارب 57 کروڑ روپے کا بجٹ پیش

  • 3F3CF96A-FB7F-4870-AA91-BA3D6E973344.jpeg

لاہور: پنجاب حکومت نے رواں مالی سال کے بقیہ مہینوں کیلئے 20 کھرب 26 ارب 57 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کردیا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم بخت نے رواں سال کے لیے بجٹ پیش کیا۔

وزیر خزانہ مخدوم ہاشم بخت کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کی وجہ سے قرضے لینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، پنجاب کا بجٹ نئے پاکستان کی راہ ہموار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کی ترقی اشتہارات تک محدود تھی لیکن ہم خوراک، تعلیم، اپنا گھر اور بنیادی سہولیات پر توجہ دیں گے، پی ٹی آئی حکومت مضبوط اور جامع بلدیاتی انتخاب پر یقین رکھتی ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے مطابق رواں مالی سال کے بجٹ کا حجم 20 کھرب 26 ارب 57 کروڑ روپے ہے جب کہ مالی سال میں عمومی محصولات کی مد میں 1652 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی محاصل پول سے پنجاب کو 1276 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے اور صوبائی محصولات کی مد میں 376 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جاری اخراجات کا کل تخمینہ 1264 ارب روپے ہے اور تنخواہوں کی مد میں 313 ارب روپے کی ادائیگی کا تخمینہ ہے۔

وزیر خزانہ پنجاب کے مطابق پینشن کی مد میں 207 ارب روپے، مقامی حکومتوں کے لیے 438 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سالانہ ترقیاتی اخراجات کے لیے 238 ارب روپے،  تعلیم کے شعبہ کے لیے 373 ارب اور صحت کے شعبہ کے لیے 284 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں انصاف صحت کارڈ متعارف کروایا جاریا ہے اور ہیلتھ انشورنس پروگرام کو 36 اضلاع میں جاری کیاجارہا ہے جب کہ کسانوں کو بلا سود قرضوں کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے ہیں اور زراعت کے شعبے کیلئے 93 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور اسپیکر کی ڈائس کے سامنے نعرے بازی کی گئی لیکن اس کے باوجود وزیر خزانہ نے تقریر جاری رکھی۔

Comments

comments