رات کا رقص ’رت نٹ‘ اور پسند کی شادی کی اجازت

  • p06j130r.jpg

 

جیسے ہی جون میں گندم کے خوشے پک کر کٹائی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں تو کیلاش میں رت نٹ کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔ یہ 22 اگست کو اوچاؤ فیسٹیول شروع ہونے تک جاری رہتا ہے۔

تین وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریر پر مشتمل ضلع چترال کا حصہ کیلاش ایک خوبصورت علاقہ ہے۔ معدومیت کے خطرے کا شکار یہ قبیلہ اپنے منفرد مذہب، رسم و رواج اور لباس کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنی الگ شناخت رکھتا ہے اور ہر سال ہزاروں سیاح اندرون اور بیرون ملک سے یہی رنگ دیکھنے کھنچے چلے آتے ہیں۔

اس وقت بمبوریت اور بریر میں جہاں جوار اور مکئی کی فصل تیاری کے مراحل میں ہے وہیں اخروٹ، ناشپاتی، سیب اور خوبانی بھی تیار ہونے کو ہیں۔

  1. Image copyrightTOURISM CORPORATION KHYBER PAKHTUNKHWAچوماس

    Image captionایک وادی کے لوگوں کا دوسری وادی میں جا کر فیسٹیول منانا ضروری تو نہیں ہوتا لیکن یہاں بسنے والے دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزر کر نہ صرف خوشی بلکہ غم کے موقع پر بھی ایک جگہ اکھٹے ہوتے ہیں

اچاؤ فیسٹیول نہ صرف ان فصلوں کی کٹائی اور پکے پھلوں کو اتارنے کے آغاز پر ہوتا ہے بلکہ یہ موسم گرما کے خاتمے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر مویشیوں کی چراہ گاہوں میں ان کی دیکھ بھال کے لیے موجود کیلاشیوں کی اپنے گھروں میں واپسی کا اعلان بھی ہے۔

دیوادور جگہ ہے جہاں جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے۔ اچاؤ فیسٹیول سے پہلے چراہ گاہ سے آنے والے لوگ ساتھ لائی تازہ پنیر سے صدقہ نکالتے ہیں اور پھر وادی میں موجود گھروں میں جاتے ہیں۔

رت نٹ کا تہوار کیلاش کی تین میں سے دو بمبوریت اور رمبور کی وادی میں منایا جاتا ہے۔ تیسری وادی بریر میں ‘پوں’ نامی تہوار ہوتا ہے جو اکتوبر میں اس وقت منایا جاتا ہے جب اخروٹ اور انگور تیار ہو جاتے ہیں۔ اس سے پہلے اگر کوئی بھی مکین انھیں توڑے تو اسے جرمانہ دینا پڑتا ہے۔

رت نٹ بمبوریت اور رمبور میں جس جس مقام پر ہوتا ہے اسے’رت نٹ کاریکین’ کہتے ہیں۔

جب اگست کی 20 تاریخ ہوتی ہے تو یہ پھر بنا کسی رات کے وقفے کے دونوں وادیوں میں 22 اگست تک جاری رہتا ہے۔

22 اگست کی صبح بمبوریت اور بریر کے مکین رمبور جاتے ہیں اور دن بارہ بجے ڈانس کا آغاز ہوتا ہے جو شام پانچ بجے تک جاری رہتا ہے۔

Image copyrightFACEBOOKکیلاش
Image captionکیلاش میں ہونے والے فیسٹیولز میں ہمیشہ رنگ، رقص اور قبیلے کا اتحاد یکجا دکھائی دیتے ہیں

پھر جب رات کے آٹھ بجتے ہیں تو سب لوگ بمبوریت میں اکھٹے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ رت نٹ کی آخری رات کا آغاز ہے جو صبح سات بجے تک جاری رہتا ہے۔

رت نٹ میں جہاں ایک ہی وادی کے چھوٹے بڑے گاؤں کے لوگ ملتے ملاتے ہیں وہیں دیگر وادیوں سے بھی مختلف خاندان اکھٹے ہو کر روایتی رقص اور ڈھول کی دھاپ سے لطف اندو ز ہوتے ہیں۔ اس موقع پر کیلاش میں ہی بسنے والے مسلمان اور علاقے اور بیرون ملک سے آنے والے سیاح بھی رت نٹ کو دیکھ سکتے ہیں۔

لیکن یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اگر اس سے پہلے وادی میں کسی کی موت واقع ہو چکی ہو تو پھر فیسٹیول کے شروع ہونے سے ایک دو دن پہلے بڑے بزرگ اس کے خاندان والوں کے پاس جاتے ہیں انھیں پھول پیش کرتے ہیں تاکہ وہ سوگ کو ختم کریں اور خوشی میں شریک ہوں۔

عورتیں بھی اپنے سر سے کوپاس کو اتار کر معمول کی ٹوپی ’ششت‘ پہن لیتی ہیں اور مرد اپنی شیو کر لیتے ہیں۔

کیلاش

کسی کے مرنے کے علاوہ اگر وادی میں کوئی شادی ہو رہی ہو یا کسی مذہبی مقام کی افتتاحی تقریب ہو ایسے میں سوگ میں بیٹھے خاندان کے پاس جا کر اسے خوشی میں شریک ہونے اور غم سے نکلنے کو کہا جاتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مرنے والا اگر کیلاشی عقیدہ چھوڑ کر اسلام یا کوئی اور مذہب اپنا چکا ہو تو تب بھی اس کے کیلاشی رشتے دار اس کے جانے کا سوگ مناتے ہیں۔

رت نٹ کے دوران کیلاش کے لڑکے اور لڑکیاں اپنا جیون ساتھی بھی چنتے ہیں۔

Image copyrightISHPATA MUSICچوماس
Image captionکیلاشی سلام کے لیے’اشپاتا‘ لفظ استعمال کرتے ہیں اسی نام سے وہاں ایک مقامی نوجوانوں کا چینل بھی کام کر رہا ہے جو کیبل اور سوشل میڈیا پر اپنے پروگرام پیش کرتا ہے

یہ ایک موقع ہوتا ہے جب ایک لڑکا یا لڑکی ایک دوسرے کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ کبھی تو منگنی پہلا مرحلہ ہوتی ہے لیکن کبھی کبھار یہی رات ان کی شادی کی رات بن جاتی ہے۔ اس کا انحصار فقط دونوں کی رضامندی پر ہوتا ہے۔ پھر لڑکا لڑکی کو لے کر اپنے گھر چلا جاتا ہے۔

اس موقع پر لڑکے کے گھر میں لڑکی کو اور موجود مہمانوں کو تازہ پنیر بھی پیش کی جاتی ہے جو کہ کیلاش کی خاص ضیافتوں میں سے ایک ہے۔

جب یہ خبر والدین کو ملتی ہے تو وہ کسی رشتہ دار کو بھجواتے ہیں۔ سب سے پہلے لڑکی سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا تم نے یہ شادی اپنی مرضی سے کی اگر لڑکی کا جواب ہاں میں ہو تو والدین کوئی باز پرس نہیں کرتے اور ان کی خوشی کو قبول کر لیتے ہیں۔ اور یہی ان کی شادی بھی ہوتی ہے جس میں لکھت پڑت اور مذہبی رہنما کی موجودگی ضروری نہیں ہوتی۔

Comments

comments