ڈی جی آئی ایس پی آر کا جسٹس شوکت عزیز کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ

  • 7B4B863A-90E4-465B-9AE9-6312CFB49C40.jpeg
  • 3562CAE1-89F7-431A-83EB-1245C4654EE9.jpeg

راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیچیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی آج کراچی میں مقدمات کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ اسلام آباد کے ایک جج کا بیان پڑھا جس پر بہت افسوس ہوا، بطور عدلیہ سربراہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم پر کسی کا دباؤ نہیں۔قی کی جانب سے ریاستی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ 
3562cae1-89f7-431a-83eb-1245c4654ee9
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر پر ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج نے عدلیہ اور سیکیورٹی ایجنسیوں سمیت ملک کے اہم اداروں پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔

جسٹس میاں ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ ہم پوری طرح آزاد اور خود مختار کام کر رہے ہیں اور سختی کے ساتھ واضح کر رہا ہوں کہ ہم پر کوئی دباؤ نہیں۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے گزشتہ روز راولپنڈی بار سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ موجودہ ملکی حالات کی 50 فیصد ذمہ داری عدلیہ اور باقی 50 فیصد دیگر اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ملکی اداروں کے وقار اور تکریم کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرے۔

 

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ اُن سے کہا گیا کہ یقین دہانی کرائیں کہ مرضی کے فیصلے کریں گے تو آپ کے ریفرنس ختم کرا دیں گے اور انہیں نومبر کے بجائے ستمبر میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنوانے کی بھی پیش کش کی گئی۔

 

Comments

comments