نوازشریف اور مریم نواز کے مزید تین دن کے استثنی کی درخواست منظور کرلی

ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کے مزید تیندن کے استثنی کی درخواست منظور کرلی گئی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔پیر کو جب سماعت شروع ہوئی تو جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ ملزمان میں سے کوئی بھی نظر نہیں آرہا۔جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ کیپٹن(ر)صفدر تھوڑی دیر میں پیش ہوجائیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہنواز شریف اور مریم نواز بیرون ملک ہیں، اس حوالے سے درخواست جمع کرانی ہے۔جس کے بعد تھوڑی ہی دیر میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کمرہ عدالت میں پہنچ گئے۔سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی حاضری سے مزید 7 دن کے استثنی کی درخواست دائر کی گئی۔درخواست کے ساتھ بیگم کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔جس پر جج محمد بشیر نے نواز شریف اور مریم نواز کو حاضری سے 3 دن کا استثنی دے دیا۔اس موقع پر پراسکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ کلثوم نواز کی بیماری کے حوالے سے ڈاکٹر بہتر بتاسکتے ہیں۔ان کامزید کہنا تھا کہ جو میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی، اس پر کسی ڈاکٹر کے دستخط نہیں ہیں۔جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ بیگم کلثوم نوازمسلسل بیمار اور وینٹی لیٹر پر ہیں۔بعد ازاں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی مزید سماعت  کل منگل  تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ 19 جون کو سماعت کے دوران احتساب عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کو حاضری سے 4 دن کا استثنی دیا تھا۔سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ، کینسر کے مرض میں مبتلا اپنی اہلیہ بیگم کلثومنواز کی عیادت کے لیے لندن میں موجود ہیں، جو اس وقت وینٹی لیٹر پر ہیں اور ان کی حالت تشویش ناک ہے۔سماعت کے باقاعدہ آغاز پر خواجہ حارث نے حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی کی رپورٹ اور تفتیشی افسر کی رائے ناقابل قبول شواہد ہے۔خواجہ حارث کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاکے بیان کے دوسرے حصے کے حوالے سے دلائل دیں گے۔دلائل کے دوران خواجہ حارث نے نکتہ اٹھایا کہ کسی اور کی پیش کردہ دستاویزات کا متن نواز شریف کے خلاف کیسے استعمال ہوسکتا ہے؟خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی نے 2 خطوط میں تضادات کی بات کی ہے، خطوط میں تضادات کا بتانا جے آئی ٹی کا کام نہیں عدالت کا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر رائے دے کر اثر انداز ہو رہا ہے، واجد ضیا یہ خط پیش تو کرسکتے تھے مگر کوئی کمنٹس نہیں کرسکتے تھے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ قطری شہزادے کے 2 خطوط کا نواز شریف سے کچھ لینا دینا نہیں۔خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ واجد ضیا کے بیان کے صفحہ نمبر 28 پر نوازشریف کا ذکر آرہا ہے، جہاں واجد ضیا کہہ رہے ہیں کہ رقوم ادائیگی کی نوازشریف ، مریم ، حسن، حسین نواز اور طارق شفیع نیکوئی دستاویز نہیں دی۔اپنے دلائل کے دوران خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف پر جے آئی ٹی کے تحت فرد جرم عائد کی گئی، اس سیکشن کے تحت نوازشریف کا کوئی براہ راست تعلق استغاثہ نے نہیں بتایا صرف شریف فیملی کا ذکر ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ اپنے پورے بیان میں واجد ضیا پہلے دستاویز کا متن پڑھتے اور پھر رائے دیتے رہے، ان کے بیان میں ایک تہائی حصہ بار بار چیزیں دہرائی گئیں۔ نواز شریف کے وکیل کے مطابق واجد ضیا نے کہا کہ ہم نے شواہد کا معائنہ کیا، ساتھ ہی انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ کیا معائنہ کرنا تفتیشی افسر کا کام ہے؟ یہ عدالت کا کام ہے۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نےشریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کر رکھے ہیں، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنسمیں سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز ، بیٹی مریمنواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میںنواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیاہے۔

Comments

comments