ارجنٹائن اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا میچ منسوخ کیا جاچکا ہے۔

  • 5b1572e906d43.jpg

برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق ارجنٹائن کے اسٹرایئکر گونزالو ہنگوئین نے کہا ہے کہ ’ہم نے ٹھیک فیصلہ کرلیا‘، ساتھ ہی تصدیق کی کہ ارجنٹائن اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا میچ منسوخ کیا جاچکا ہے۔

مذکورہ اعلان کے بعد فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن (پی ایف اے) کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں انہوں نے ارجنٹائن کے کپتان اور اسٹار فٹبالر لیونل میسی اور ان کی ٹیم کا میچ منسوخ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

پی ایف اے کے چیئرمین کی جانب سے جاری کردہ اس اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پی ایف اے ارجنٹائن کے کپتان اور کھلاڑیوں کا کھیلوں کے برخلاف مہم کا حصہ بننے سے انکار پر بے حد مشکور ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جبرائیل رجب کا کہنا تھا کہ ’آج وارم اپ میچ کی منسوخی سے کھیل، اخلاقیات اور اقدار کی فتح ہوئی جبکہ اسرائیل کو ریڈ کارڈ دکھا دیا گیا‘۔

دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ مقابلہ میچ کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے کی دھمکیوں کے پیشِ نظر منسوخ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل یہ اطلاعات سامنے آئیں تھیں کہ فٹبال ورلڈ کپ سے قبل ارجنٹائن اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے دوستانہ میچ پر فلسطینی بچوں نے احتجاج کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی سے یہ میچ نہ کھیلنے کی درخواست کی تھی۔

دونوں ملکوں کے درمیان جاری تاریخی تنازع اور حال ہی میں فلسطینی عوام پر کی گئی اسرائیلی فوج کے ظلم و ستم کے بعد 70 فلسطینی بچوں پر مشتمل گروپ نے ارجنٹائن کے فٹ بالر لیونل میسی کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ وہ اسرائیل کے خلاف دوستانہ میچ میں شرکت نہ کریں۔

مذکورہ خط 3 جون کو اسرائیل میں ارجنٹائن کے سفارتخانے کے حوالے کیا گیا جس میں فلسطینی بچوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ان خاندانوں کے بچے ہیں جن سے چھینی گئی زمینوں پر اب ٹیڈی اسٹیڈیم دوبارہ قائم کیا گیا ہے۔
خط کے متن میں مزید کہا گیا تھا کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ آپ ہمارے تباہ شدہ گاؤں پر تعمیر شدہ اسٹیڈیم میں اپنے دوستوں کے ساتھ میچ کھیلنا چاہتے ہیں جس پر ہماری خوشی اس وقت آنسوؤں میں بدل گئی اور ہمارے دل ٹوٹ گئے کہ ہمارا ہیرو میسی ہمارے آباؤ اجداد کی قبروں پر تعمیر ہونے والے اسٹیڈیم میں کھیلنے جا رہا ہے‘۔

فلسطینی بچوں نے کہا کہ 9 جون کو جب اسرائیل اور ارجنٹائن دوستانہ میچ کھیلیں گے تو یہ ہمارے لیے ایک اداس دن ہو گا اور خط کے اختتام کچھ یوں کیا کہ ‘آئیے، ہم خدا سے دعا کریں کہ میسی ہمارے دلوں کو نہ توڑیں‘۔

دوسری جانب فلسطین کی فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ جبریل رجب نے بھی میسی سے میچ نہ کھیلنے کی درخواست کرنے کے ساتھ ساتھ شائقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میسی یہ میچ کھیلیں تو فلسطینی شائقین ان کی شرٹ جلا دیں۔

خیال رہے کہ ارجنٹائن اور اسرائیل کے درمیان ورلڈ کپ 2018 کا وارم اپ میچ مقبضہ بیت المقدس میں واقع ٹیڈی سٹیڈیم میں 9 جون کو کھیلا جانا تھا۔

فٹ بال کی دنیا کے دو عظیم کھلاڑی لیونل میسی اور نیمار جونیئر ہر گول سکور کرنے پر ہزاروں بھوکے بچوں کے پیٹ بھرنے کا سبب بنیں گے۔

ماسٹر کارڈ نے اعلان کیا ہے کہ اب سے 2020 تک نیمار جونیئر اور میسی جب بھی گول کریں گے تو وہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت ان کے ہر گول کے عوض کمپنی لاطینی امریکا اور کریبیئن ریجن میں 10 ہزار طالبعلم بچوں کو مفت کھانا فراہم کرے گی۔

دونوں عظیم کھلاڑیوں نے اس مہم میں شرکت پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ان بچوں کے لیے مزید اور کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم میسی اور نیمار کا اس مہم کا حصہ ہونے کے باوجود عوامی سطح پر ماسٹر کارڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے تشہیری مہم قرار دیا ہے۔

ایک شخص نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ اگر ماسٹر کارڈ کے پاس اتنا ہی پیسہ ہے تو ویسے ہی دے دیں۔ بھوکے بچوں کی قسمت کا فیصلہ ارب پتی فٹبالرز پر نہ چھوڑیں۔

ایک اور شخص نے لکھا کہ یہ ایک بدترین طریقہ ہے۔ بھوکے بچوں کو تو کسی بھی صورت کھانا دینا چاہیے۔

دوسری جانب چند شائقین نے ان تحفظات کا اظہار کیا کہ اس مہم کے نتیجے میں دنیا کے دو بہترین فاورڈز پر ورلڈ کپ میں دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

قبل ازیں عالمی کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں ارجنٹائن اور اسرائیل کے درمیان 9 جون کو ایک دوستانہ میچ کھیلا جائے گا جس پر فلسطینیوں نے صدا احتجاج بلند کرتے ہوئے میسی سے میچ نہ کھیلنے کی درخواست کی ہے۔

یہ میچ مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں واقع ٹیڈی سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جو 70 برس قبل عرب اسرائیل جنگ میں تباہ ہو گیا تھا اور 1948 میں ہونے والے اس جنگ کے بعد اسرائیلی افواج نے فلسطینی عوام کو بے گھر کرتے ہوئے دربدر کر دیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان جاری تایخی تنازع اور حال ہی میں فلسطینی عوام پر کی گئی اسرائیلی فوج کے بربریت کے بعد 70 فلسطینی بچوں پر مشتمل گروپ نے ارجنٹائن کے فٹ بالر لیونل میسی کو خط لکھ کر درخوااست کی ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف دوستانہ میچ میں شرکت نہ کریں۔ یہ خط اتوار کو اسرائیل میں ارجنٹائن کے سفارتخانے کے حوالے کیا گیا جس میں فلسطینی بچوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان خاندانوں کے بچے ہیں جن سے چھینی گئی زمینوں پر اب ٹیڈی اسٹیڈیم دوبارہ قائم کیا گیا ہے۔

خط کے متن میں مزید کہا گیا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ آپ ہمارے تباہ شدہ گاؤں پر تعمیر شدہ اسٹیڈیم میں اپنے دوستوں کے ساتھ میچ کھیلنا چاہتے ہیں جس پر ہماری خوشی اس وقت آنسوؤں میں بدل گئی اور ہمارے دل ٹوٹ گئے کہ ہمارا ہیرو میسی ہمارے آباؤ اجداد کی قبروں پر تعمیر ہونے والے اسٹیڈیم میں کھیلنے جا رہا ہے۔

فلسطینی بچوں نے کہا کہ 9 جون کو جب اسرائیل اور ارجنٹائن دوستانہ میچ کھیلیں گے تو یہ ہمارے لیے ایک اداس دن ہو گا اور خط کے اختتام کچھ یوں کیا کہ ‘آئیے، ہم خدا سے دعا کریں کہ میسی ہمارے دلوں کو نہ توڑیں۔

دوسری جانب فلسطین کی فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ جبریل رجب نے بھی میسی سے میچ نہ کھیلنے کی درخواست کرنے کے ساتھ ساتھ شائقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر میسی یہ میچ کھیلیں تو فلسطینی شائقین ان کی شرٹ جلا دیں۔

انہوں نے رملہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ارجنٹینا کی حکومت کو خط لکھ کر اس میں درخواست کی ہے کہ وہ میسی کو 9 جون کو ہونے والے میچ میں شرکت نہ کرنے دیں۔

رجب نے کہا کہ میسی امن اور محبت کی علامت ہیں اور اسرائیل اس میچ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عرب دنیا اور مسلم ملکوں میں میسی کے کروڑوں چاہنے والے ہیں اور میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر میسی میچ میں شرکت کریں تو وہ ان کے نام کی حامل شرٹ جلا دیں۔

Comments

comments