نقیب اللہ کیس، عدالت کا راؤانوار سمیت 10 ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور ملزم شکیل فیروز کو دو مئی تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے جبکہ ڈی ایس پی قمر سمیت دس ملزمان کے عدالتی ریمانڈ میں بھی توسیع کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ قتل کیس میں پولیس نے گرفتار سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو 30 تیس روز کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا، ملزم کو انتہائی سخت سیکیورٹی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت لایا گیا۔اس موقع پر تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے ابھی تفتیش مکمل نہیں ہوئی، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جے آئی ٹی کی سفارشات کے بعد ہی حتمی رپورٹ پیش کی جائے گی،ڈاکٹر رضوان نے راؤ انور کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کرتے ہوئے حتمی چالان پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی۔عدالت نے تفتیشی افسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے پر ملزم راؤ انوار اور شکیل کو دو مئی تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا جب کہ ڈی ایس پی قمر احمد سمیت دیگر 10 ملزمان کے عدالت ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت بھی دو مئی تک ملتوی کردی ہے۔احاطہ عدالت میں صحافیوں کی جانب سے راؤ انوار سے سوال کیا گیا کہ کیا نقیب اللہ دہشت گرد تھا؟ اس پر راؤ انوار نے جواب دیا پہلے حتمی چالان جمع ہونے دیں، بعد میں بتاؤں گا۔واضح رہے کہ کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بائیس مارچ کو راؤ انوار کو تیس روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالیکیا تھا، جبکہ نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت 10 ملزمان گرفتار ہیں۔دوسری جانب سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار احمد کو نقیب اللہ محسود اور تین3 دیگر نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے پولیس افسر راؤ انوار کو معصوم شخص نقیب اللہ محسود کو جعلی انکاؤنٹر میں قتل کرنے کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ڈاکٹر آفتاب پٹھان کی سربراہی میں کام کرنے والی جے آئی ٹی اپنی تحقیقات مکمل کرچکی ہے اور رپورٹ متعلقہ حکام کو جلد جمع کرائی جائے گی ،سپریم کورٹ نے 21 مارچ کو کیس میں نئی ‘جے آئی ٹی’ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے کئی اجلاس ہوئے جن میں راؤ انوار کے بیان قلمبند کیے گئے، اراکین نے ان مقامات کا دورہ بھی کیا جہاں سے نقیب کو اغوا کیا گیا اور شاہ لطیف ٹاؤن میں جہاں اس کا انکاؤنٹر کیا گیا۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر جے آئی ٹی بننے کے بعد واقعے کی تحقیقات کرنے والے ایس پی انویسٹی گیشن عابد قائم خانی کا تبادلہ کردیا گیا ،اس کے بعد جے آئی ٹی کی منظوری سے ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر محمد رضوان احمد کو واقعے کے تین مقدمے کا تحقیقاتی افسر مقرر کیا گیا تھا۔اس سے قبل سات اپریل کو نقیب اللہ قتل کیس میں گرفتار سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے اپنی ٹیم کے ارکان پر سارا ملبہ ڈالا تھا، ذرائع کے مطابق بیان میں انہوں نے کہا کہ سہراب گوٹھ چوکی انچارج اکبر ملاح سمیت میری ٹیم کے 5 اہلکار نقیب اللہ معاملے میں ملوث ہیں۔ سندھ پولیس کے کچھ افسران میرے خلاف سازش کر رہے ہیں۔جے آئی ٹی ٹیم نے سہراب گوٹھ میں واقع ہوٹل کا دورہ کیا اور ملازمین سے پوچھ گچھ کی۔ ملازمین نے بیان دیا کہ چوکی انچارج اکبر ملاح چند اہلکاروں کے ساتھ گاڑی میں آیا تھا، یہ اہلکار نقیب اللہ کو اپنے ساتھ گاڑی میں لے گئے، راؤ انوار ان کے ساتھ نہیں تھا۔ جے آئی ٹی کے ارکان شاہ لطیف ٹاؤن کا بھی دورہ کریں گے۔واضح رہے کہ پانچ اپریل کو نقیب اللہ قتل کیس میں نامزد معطل ایس ایس پی راؤ انوار نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے خلاف نظر ثانی کی اپیل سپریم کورٹ میں دائر کردی ہے جس میں انہوں نے جے ا?ئی ٹی پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔راؤ انوار نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سندھ پولیس کی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد نہیں رہا۔ پولیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی توقع ناممکن ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی شق 19 کو نظرانداز کیا گیا جبکہ قانون کے تحت جے آئی ٹی پولیس، خفیہ اداروں اور فوج کے نمائندوں پرمشتمل ہوتی ہے۔ یہ ایک ہی ادارے کے نمائندوں پر تشکیل نہیں دی جاسکتی۔واضح رہے کہ راؤ انوار 21 مارچ کو اچانک سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے جہاں عدالتی حکم پر انہیں گرفتار کرکے کراچی منتقل کردیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے راؤ انوار سے تفتیش کیلئے ایڈیشنل ا?ئی جی سندھ ا?فتاب پٹھان کی سربراہی میں جے ا?ئی ٹی تشکیل دی تھی جس میں صرف پولیس افسران کو شامل کیا گیا تھا

Comments

comments