تبتیوں کے روحانی رہنما دلائی لامہ کی کسی بھی تقریب میں شرکت نہ کریں مودی حکومت کا وزرا، کو حکم

  • IMG_20180302_193817.jpg

بھارت اور چین کے مابین موجودہ نازک رشتوں کے مدنظر مودی حکومت نے اپنے وزرا، رہنماں اور اعلی حکومتی افسران کو ہدایت دی ہے کہ تبتیوں کے روحانی رہنما دلائی لامہ کی کسی بھی تقریب میں شرکت نہ کریں۔ مغربی نشریاتی ادارے کے مطابق اس غیر معمولی پیش رفت سے پیدا تنازع کے بعد بھارت نے صورت حال کو بگڑنے سے بچانے کے لئے آنا فانا قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا کہ تبت کے حوالے سے اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے اس تناظر میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا،دلائی لامہ کے حوالے سے بھارت کا موقف بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ قابل احترام دلائی لامہ بھارت کے لوگوں کے لئے ہمیشہ محترم اور قابل عزت ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ انہیں بھارت میں اپنی ہر طرح کی مذہبی سرگرمیاں انجام دینے کی پوری آزادی ہے۔دراصل یہ پورا تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب انڈین ایکسپریس نے ایک رپورٹ شائع کی ۔ اس رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ سکریٹری پی کے مشرا نے تمام محکموں کے اعلی افسران کو ایک تحریر بھیج کر ہدایت دی ہے کہ دلائی لامہ کی جلاوطنی کے ساٹھ برس مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریبات میں رہنماں اور حکومتی افسران کو شامل نہ ہونے کا حکم دیا جائے۔ ہدایت نامے میں مزید کہا گیا تھا کہ حکم عدولی کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکتی ہے۔یہ ہدایت نامہ چین میں بھارت کے سابق سفیر اور موجودہ خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے کے اس خط کی بنیاد پر جاری کیا گیا ،جس میں گوکھلے نے تمام وزارتوں اور حکومتی محکموں کے علاوہ صوبائی حکومتوں کو بھی یہ ہدایت جاری کرنے کی درخواست کی تھی کہ دلائی لامہ کے حوالے سے کسی بھی تقریب کا دعوت نامہ قبول نہ کیا جائے۔اخبار کے مطابق گوکھلے نے کہا تھا کہ چونکہ بھار ت اور چین کے تعلقات ان دونوں حساس دور سے گذر رہے ہیں اور دونوں ملک باہمی رشتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں اس لئے اس طرح کا کوئی بھی قدم سفارتی کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

Comments

comments