خلیجی معززین کی آڑ میں قیمتی گاڑیوں کی کسٹمز ڈیوٹی چرانے کا انکشاف

  • IMG_20180213_134013.jpg

ملک میں شکار کیلئے آنے والے خلیجی معززین کی گاڑیوں کی آڑ میں قیمتی گاڑیاں لانے اور کروڑوں روپے کی کسٹم ڈیوٹی چرانے کا انکشاف ہوا ہے۔کسٹمز ذرائع کے مطابق ستمبر 2016 میں ایک قطری شہزادے کی شکاری پارٹی کے ہمراہ 22 قیمتی گاڑیاں تین ماہ کے خصوصی اجازت نامے پر پاکستان لائی گئیں۔2017 ماڈل کی ان گاڑیوں میں مرسیڈیز، ٹویوٹا لینڈ کروزر، وی ایٹ، اور رینج روور چیپیں شامل ہیں۔اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے باوجود یہ گاڑیاں واپس نہیں گئیں بلکہ پاکستان میں فروخت کردی گئیں۔ذرائع نے بتایا کہ ان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو خریدنے والوں میں ملک کی اعلیٰ شخصیات شامل ہیں، جو ملک بھر میں قطر کی ہی نمبر پلیٹ کے ساتھ سڑکوں پر چل رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق جب کسٹمز حکام نے کراچی میں قطری نمبر پلیٹ لگی تین نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو پکڑا تو انہیں اعلیٰ حکومتی اور سرکاری شخصیات کے زبردست دباؤ کا سامنا کرنا پڑا
درآمدی گاڑیوں کے لئے نئے قانون کی وجہ سے کئی گاڑیاں پورٹ پر پھس چکی ہیں۔ آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی جلد معاملے کو حل کرے۔ذرائع کے مطابق اس وقت پورٹ پر رکی گاڑیوں کی تعداد 8 ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔ آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ایچ ایم شہزاد نے بتایا کہ پورٹ پر کھڑی گاڑیوں پر ڈیمرج لگ رہا ہے، اس لئے اقتصادی رابطہ کمیٹی جلد از جلد تمام ان گاڑیوں کی کلیئر کرے۔ گاڑیوں کی کلیئرنس سے حکومت کو 10 سے 12 ارب روپے کی آمدن ہو گی۔دوسری جانب فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان نے بھی حکومت کو تجویز دی ہے کہ گاڑیوں کی قانونی درآمدات کے لئے حکومت کو قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے ڈالر کی طلب میں بھی کمی واقع ہو گی

Comments

comments