موجودہ وفاقی بجٹ اقتصادی استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے، ترجمان وزارتِ خزانہ*

  • IMG-20190624-WA0397.jpg
  • IMG-20190624-WA0393.jpg
  • IMG-20190624-WA0392.jpg

img-20190624-wa0393وزارتِ خزانہ کے ترجمان اور مشیر ڈاکٹر خاقان حسن نجیب نے کہا کہ اقتصادی استحکام معیشت کے لئے نا گزیر ہے اور موجودہ وفاقی بجٹ 2019-20 اقتصادی استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے ۔ یہ بجٹ سمت اور حکمت عملی کے لحاظ سے ایک مضبوط بجٹ ہے ۔ وہ ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے ز یرِ اہتمام ’ایس ڈی پی آئی کا بجٹ -20 -2019 پر تجزیہ ‘ کے عنوان سے ایک سیمینار سے کر رہے تھے ۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ نوازکی رومینا خورشید عالم، ڈاکٹر عابد قیوم سلہری اور ڈاکٹر وقار احمد نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ ڈاکٹر خاقان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ کا حدف ما الیاتی خسارے کو کم کرنا اور سول اور دفاعی اخراجات کو کنٹرول کرنا ہے ۔ 5555 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو کا ہدف بجٹ کی سمت کا تعین کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں احساس پروگرام کے لیے 120 ارب سے بڑھا کر 193 ارب روپے اور بجلی کی سبسڈی 168 ارب سے بڑھا کر 217 ارب روپے مختص کیے گئے جس سے غریب طبقے کا فا ئدہ ہو گا ۔ اس کے علاوہ 1650 اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی گئی جس سے مقامی صنعت کو فائدہ ہو گا ۔ تاہم، مارکیٹ کی ریگولیٹری سسٹم کو بہتر بنانے اور گلوبل ویلیو چین کا حصہ بننے کی ضرورت ہے ۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے وفاقی بجٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے ملک کی قتصادی صورتحال کو متوازن قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ وفاقی بجٹ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پچھلے پانچ بجٹ سے مختلف نہیں ہے ۔ تاہم اس دفعہ وفاقی حکومت کے پاس قومی فنانس کمیشن ایوارڈ (این ایف سی) کے تحت صو بوں کو حصہ ادا کرنے کے بعد صرف 3462ارب روپے ہی بچیں گے جو قرض کی ادائیگی میں چلے جائیں گے ، جبکہ باقی تمام اخراجات کو قرضے لے کر ہی پورا کیا جائے گا ۔ انہوں نے 5555 بلین کا حدف حاصل کرنے کے لیے براہ راست ٹیکس بڑھانے پر زور دیا جو ایف بی آر اور نادرا کے درمیان تعاون سے ممکن ہو گا ۔ پاکستان مسلم لیگ نوازکی رکن قومی اسمبلی رومینا خورشید عالم نے کہا کہ معیشت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے کیو نکہ ملک کی مضبوطی معیشت کی مضبوتی سے منسلک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے اعتماد کو حاصل کرے اور اعتماد کی فضا کو بحال کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں عوام کے لیے خاص طور پر سماجی شعبے میں کہیں کوئی ریلف نہی دیا گیا ، صحت اور تعلیم کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہی ہوا ۔ حکومت کی خراب پالیسیوں کی وجہ سے، سب کچھ مہنگا ہو گیا ہے، غریب اور درمیانی طبقے کے لوگ بہت پریشان حال ہیں ۔ img-20190624-wa0392

Comments

comments