علی بابا چالیس چوروں کی کرپشن پر نیب بھیگی بلی بن گیا،حکومت کا جانا نوشتہ دیوار ہے، میاں افتخار حسین

  • IMG_20190624_191025.jpg

علی بابا چالیس چوروں کی کرپشن پر نیب بھیگی بلی بن گیا،حکومت کا جانا نوشتہ دیوار ہے، میاں افتخار حسین
خیبر پختونخوا میں گزشتہ6سال سے کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے،احتسابی ادارہ حکومت کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔
پی ٹی آئی کرپٹ مافیا کا ٹولہ ہے، احتساب کمیشن پر اربوں روپیہ لٹانے والوں کا اپنا احتساب کون کرے گا؟
قبائلی اضلاع میں سیکورٹی اہلکاروں کی پولنگ سٹیشنوں کے اندر تعیناتی پری پول رگنگ کی سازش ہے۔
نواز شریف کا احتساب ہو سکتا ہے تو عمران نیازی کا کیوں نہیں ہو سکتا؟اربوں روپیہ لوٹنے والوں پر ہاتھ ڈالا جائے۔
پشاور بیوٹی فیکیشن کے نام پر اربوں روپے لوٹ لئے گئے،پلاسٹک کے پھول اور گملے خرید کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی۔سردار حسین بابک
بی آر ٹی میں کمیشن کھانے کیلئے بیوٹیفیکیشن کو اکھاڑ دیا گیا،ملم جبہ اراضی اور بلین ٹری سونامی کرپشن کی داستانیں ہیں۔
پہاڑوں پر آگ لگا کر ریکارڈ ضائع کر دیا گیا،پرویز خٹک پر ہاتھ ڈالا جائے، نیب واضح کرے اس کی ڈور کون ہلا رہا ہے؟
وفاق سے ملنے والاخالص منافع سازش کے تحت صوبے میں خرچ ہونے کی بجائے واپس مرکز کو بھیجا رہا ہے۔
اے این پی بلا امتیاز احتساب چاہتی ہے، عمران نیازی کو ہیلی کاپٹر کیس میں گرفتار کر کے تفتیش کی جائے۔
مسلط حکمران ملک کیلئے سیکورٹی رسک بن چکے ہیں،نیب کی جانبداری کے خلاف حیات آئباد پشاور میں احتجاجی مظاہرے سے میاں افتخار حسین اور سردار حسین بابک کا خطاب

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کی سب سے بڑی کرپٹ پارٹی ہے، احتساب کمیشن پر اربوں روپیہ لٹانے والوں کا اپنا احتساب ضروری ہے، نیب نے میگا کرپشن سکینڈلز پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور حکومت کے باڈی گارڈ کا کردار ادا کر رہا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیات آباد پشاور میں نیب خیبر پختونخوا کی جانبداری اور کرپشن کیسوں پر خاموشی کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، پارٹی و ذیلی تنظیموں کے قائدین، عہدیداران و کارکنوں کی بڑی تعداد مظاہرے میں شریک تھی، مقررین نے خیبر پختونخوا میں حکومتی وزراء کی کرپشن اور لوٹ مار کے خلاف نیب کی مجرمانہ خاموشی کے خلاف نعرے لگائے،میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ نالائق اعظم اور اس کی پوری ٹیم چور ہے، سب کو کرسیوں سے ہٹا کر شامل تفتیش کیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ نیب کی آنکھیں بند ہیں لیکن قوم حساب مانگتی ہے، انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ اگر نواز شریف کا احتساب ہو سکتا ہے تو عمران نیازی کا کیوں نہیں ہو سکتا، کٹھ پتلی وزیر اعظم، پرویز خٹک اور دیگر کو گرفتار کر کے ان سے تحقیقات ہونی چاہئے، عمران علی بابا ہے اور باقی چالیس چور اس کی ٹیم میں شامل ہیں، تمام کرپٹ پی ٹی آئی کی چھتری تلے محفوظ کر لئے گئے، ملک میں چوروں کی حکومت ہے اور نیب نے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتی ہے، انتقامی احتساب ملک اور ادارے کے مفاد میں نہیں، نیب والے حکومت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں،انہوں نے کہا کہ ملک کے مسائل کا واحد حل شفاف انتخابات ہیں اور دوبارہ الیکشن کرا کے اقتدار منتخب لوگوں کے حوالے کیا جائے، قبائل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں انتخابات کیلئے پہلے سے دھاندلی کا آغاز کر دیا گیا ہے،فوج کی پولنگ سٹیشنوں میں تعیناتی کا کوئی جواز نہیں یہ صرف پری پول رگنگ ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے کی مثالی پولیس اب اتنی بیکار ہو چکی ہے کہ 20حلقوں کا الیکشن نہ کرا سکے؟انہوں نے کہا کہ مسلط حکومت اور اس کے پیچھے موجود قوتوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ملک کی حالت پر رحم کرتے ہوئے مسلط حکمرانوں کو ہٹاکر انصاف اور جمہوریت کیلئے راہ ہموار کی جائے، ہم میدان میں نکلے ہیں اور اب اس حکومت کو جانا نوشتہ دیوار ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی مولانا فضل الرحمان کی اے پی سی میں شرکت ضرور کرے گی تاہم ہمارا مؤقف واضح ہے کہ موجودہ حکومت ملک کیلئے سیکورٹی رسک بن چکی ہے اور اسے اب گھر جانا ہو گا۔
سردار حسین بابک نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چوروں اور ڈاکوؤں نے پشاور بیوٹی فیکیشن کے نام پر 6ارب روپے خزانہ سے لوٹ لئے،پلاسٹک کے پھول اور گملے خرید کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی اور جب احتساب کا گھیرا نظر آیا تو اسے اکھاڑ کر وہاں بی آر ٹی شروع کر دی گئی، انہوں نے کہا کہ جن ملازمین نے کرپشن بارے نشاندہی کی انہیں معطل کر دیا گیا جس پر احتسابی ادارے بھیگی بلی بنے بیٹھے ہیں،پارلیمانی کمیٹی کے دوروں کے بعد بلین ٹری سونامی کے لاکھوں درخت سمٹ کر سینکڑوں تک آ پہنچے جس سے خزانے کو ایک بار پھر اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا،انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل اور ذرائع آمدن گزشتہ6سال سے لوٹے جا رہے ہیں، پنجاب کے بلیک لسٹ ادارے این ٹی ایس کو خیبر پختونخوا میں کون لے کر آیا؟ این ٹی ایس نے نوجوانوں سے فیسوں کی مد میں 55ارب روپے ہتھیا لئے جس کا جواب ہمیں چاہئے جبکہ بلے کی تشہیر پر سرکاری خزانے کا ساڑھے گیارہ ارب روپے جھونک دیئے گئے، نیب بتائے ان تمام کرپشن کہانیوں پر کیوں خاموش ہے اور کس کے اشارے پر چوروں کو تحفظ فراہم کر رہا ہے؟انہوں نے کہا کہ ملم جبہ اراضی سکینڈل میں موجودہ وزیراعلیٰ، پرویز خٹک اور اعظم خان جیسے چوروں کے وارے نیارے ہو گئے،نیب نے اس پر کیوں خاموشی اختیار کر رکھی ہے؟انہوں نے کہا کہ اے این پی دور کے پراجیکٹس سے بھرتی ہونے والے پختونوں کو نکال کر باگ ڈور پنجاب کے ہاتھ میں دی جا رہی ہے،وفاق سے جو خالص منافع ملتا ہے وہ صوبے میں خرچ ہونے کی بجائے واپس وفاق کو مل رہا ہے اور یہ سب کچھ سازش کے تحت کیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتی ہے، احتساب سب کا ہونا چاہئے اور اس کا آغاز وزیر اعطم اور اس کے خاندان سے کیا جائے۔

Comments

comments