عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا فوری نوٹس لینا چاہیے، علی رضا سید

  • Ali-raza-syed-Chair-KC-EU.jpg

چیئرمین کشمیر کونسل یورپ (ای یو) علی رضا سید نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا فوری نوٹس لے۔

برسلز سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے بارے میں شائع ہونے والی ایک جامع رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے علی رضا سید نے کہاکہ عالمی برادری خصوصا اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو حقائق معلوم کرنے کے لیے اپنے خصوصی مشنز مقبوضہ کشمیر کو روانہ کرنے چاہیں۔

واضح رہے کہ گم شدہ افراد کے والدین کی تنظیم ’’اے پی ڈی پی‘‘ اور سول سوسائٹی کے اتحاد ’’جے کے سی سی ایس‘‘ نے ’’تشدد: بھارت کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں تسلط کے لیے ایک ریاستی ہتھیار‘‘ کے عنوان سے اپنی تازہ ترین تحقیقاتی رپورٹ میں کہاہے کہ تشدد جموں و کشمیر میں حکومت کی پالیسی کے طور پر سیسٹیمیٹک طریقے سے استعمال ہورہا ہے اور اس کام میں تمام ریاستی ادارے بشمول قانون ساز اور انتظامی ادارے، عدلیہ اور افواج باقاعدہ حصہ دار ہیں۔

چار سو بتیس کیس سٹدیز پر مبنی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت تشدد کے نت نئے طریقے استعمال کررہاہے۔ ایک مثال دیتے ہوئے رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس سال انیس مارچ کو انتیس سالہ سکول پرنسپل رضوان پنڈت کو جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ کے کارگو کیمپ میں غیرقانونی حراست کے دوران تشدد کرتے ہوئے مار دیا گیا۔

رپورٹ میں تشدد کے مختلف نوعیت کے واقعات کے بارے میں کہاگیا ہے کہ تشدد کے دوران استعمال ہونے والے غیرانسانی اور غیراخلاقی وحشیانہ ہتھکنڈے اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے استنبول پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا جس طرح کہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ حراست کے دوران تشدد کے بھارتی بھیانک طریقوں میں قیدیوں کو ننگا کرکے ان پر تشدد کرنا، ان پر لاٹھیاں برساناں، انہیں لوہے کے راڈوں اور چمڑے کے بلٹوں سے پیٹنا، واٹر بورڈنگ، قیدیوں کا سر پانی میں ڈبو کے رکھنا، چھت کے ساتھ الٹنا لٹکانا، لوہے گرم راڈوں سے جسم کو جلانا، سونے نہ دینا، قید تنہائی میں رکھنا اور جنسی تشدد کرنا بھی شامل ہیں۔

علی رضا سید نے تشدد کے ان وحشیانہ طریقوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کے ان کیسس کے زیادہ تر متاثرین میں خواتین، کم عمر نوجوان، سیاسی کارکن، انسانی حقوق کے علمبردار اور صحافی بھی شامل ہیں اور ان میں سے کئی افراد تشدد کے دوران جابحق ہوچکے ہیں۔

انھوں نے عالمی برادری خصوصاً یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن راٹس واچ سے اپیل کی کہ وہ بھارت پر دباو ڈٓالیں تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرے اور کشمیریوں کو ان کا دیرینہ حق خودارادیت دے۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے دو عظیم شہید حریت رہنماووں میرواعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون اور حوال کے شہداء کو ان کی برسی کے موقع پر زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہاکہ کشمیری شہداء کی قربانیاں رنگ لا کر رہیں گی۔

واضح رہے کہ کشمیرکونسل ای یو منگل اکیس مئی کو بلجیم کے دارالحکومت میں مسئلہ کشمیر کےحوالے سے خصوصاً مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے اپنے ایک ملین دستخطی مہم کے سلسلے میں ایک کیمپ لگائے گی۔

یورپ میں کشمیرکونسل ای یوکی طرف سے ایک ملین دستخطی مہم ایک عرصے سے جاری ہے۔ ابتک اس مہم کے دوران جس کا آغاز چند سال قبل بلجیم سے ہی ہوا تھا، یورپ کے متعدد ممالک میں لوگوں سے کشمیریوں کی حمایت میں دستخط لئے جاچکے ہیں۔ اس مہم کو یورپی ممالک میں متعدد مقامی این جی اوز اور انسانی حقوق کی دیگر تنطیموں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

یادرہے کہ اس ایک ملین دستخطی مہم کا مقصد یورپی ممالک سے دس لاکھ دستخط جمع کرکے مسئلہ کشمیرخصوصاً مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کے معاملے کو یورپی پارلیمنٹ کے اندر پیش کرناہے تاکہ اس تنازعے کو زیادہ سے زیادہ اجاگرکیاجاسکے اور مقبوضہ کشمیرمیں جاری بھارتی مظالم کو روکاجاسکے۔

Comments

comments