پی ٹی آئی کے ایک اہم وزیر فیصل واوڈا کی لندن کے مہنگے علاقوں میں 9 مزید جائیدادوں کا انکشاف

  • water-resources-min_press-conference.jpg

اسلام آباد (احمد نورانی) پی ٹی آئی کے ایک اہم وزیر فیصل واوڈا کی لندن کے مہنگے علاقوں میں 9 مزید جائیداتوں کا انکشاف ہوا ہے جو کہ پاکستان میں ٹیکس حکام سے خفیہ رکھی گئی تھیں۔ واضح رہے کہ ڈیلی بزنس ورلڈ کی تحقیقات کے مطابق جس وقت لندن کے اہم علاوقں میں یہ پرپرٹیز خریدی گئیں اس وقت فیصل واوڈا کے ٹیکس ریکارڈ کے مطابق انکی آمدن نہ ہونے کے برابر تھی۔ فیصل واوڈا جو کہ پی ٹی آئی حکومت کے ایک اہم وزیر ہیں اور وزیر اعظم
عمران خان کے قریب خیال کیے جاتے ہیں نے کئی ماہ بار ہا رابطہ کرنے کے باوجود لندن کی ان جائیداوں کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ کہا کہ آپ جو چھاپنا چاہتے ہیں چھاپ لیں۔ ان 9 خفیہ پراپرٹیز کے علاوہ بھی فیصل واوڈا کی لندن اور چند دوسرے ممالک جیسے یو اے ای اور ملائیشیا میں بھی پراپرٹیز ہیں جن پر پہلے بھی میڈیا میں رپورٹ کیا جا چکا ہے اور ان پہلے رپورٹ کی گئی جائیدادوں میں سے کچھ فیصل واوڈا نے 2018ءکے انتخابات کے کاغذاتِ نامزدگی اور ویلتھ سٹیٹمنٹ میں بھی ظاہر کیں۔ مگر یہ9 پراپرٹیز خریدتے اور بیچتے وقت خفیہ رکھی گئیں۔ ڈیلی بزنس ورلڈ کے پاس موجود حکومت برطانیہ کی سرکاری دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ 9 جائیدادیں فیصل واوڈا نے 2007سے 2016 کی درمیان خریدیں اور بیچیں اور اسی عرصے کے دوران ان کے ایف بی آر کے ٹیکس ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ سب جائیدادیں اور ان کو خریدنے کے ذرائع پاکستان میں ٹیکس حکام سے چھپائے رکھے۔
 

 
یو۔کے کے لینڈ رجسٹری ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری ریکارڈ سے واوڈا کی مشکوک جائیدادوں کی تفتیش میں بہت زیادہ مہینے لگے۔ چونکہ برطانوی حکومت کے لینڈ رجسٹری ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائیٹ سے مجوزہ فیس کی ادائیگی کے بعد کسی بھی پراپرٹی کی موجودہ ملکیت کا پتا چلایا جا سکتا ہے مگر ماضی میں ملکیت کس کے نام رہی جاننے کیلیے ”ہسٹوریکل ریکارڈ“کیلیے باقائدہ درخواست دینی پڑتی ہے۔ چونکہ واوڈا یہ والی جائیدادیں بیچ چکے تھے چنانچہ ان جائیداتوں کی ماضی کی ملکیت کا ریکارڈ نکلوانے میں وقت لگا، مگر جب جناب فیصل واوڈا سے ان پراپرٹیز کی ملکیت کا کاغذات اور مکمل ثبوتوں کی دستیابی کے ساتھ رابطہ کیا گیا تب بھی انہوں نے کوئی بھی جواب دینے سے اجتناب کیا۔یہ نو مشکوک جائیدادیں جن کی مارکیٹ ویلیو اربوں روپے ہے مگر فیصل واوڈہ کے ٹیکس ریکارڈ کے مطابق ان کی آمدن کبھی بھی اتنی نہیں رہی کہ وہ بنک سے مارگیج کر کے بھی یہ جائیدادیں خرید سکتے۔ سب سے اہم نقطہ یہی ہے کہ واڈہ نے نہ تو کبھی ان جائیدادوں کو خریدنے کے ذرائع پاکستان میں ٹیکس حکام کو ظاہر کیے، نہ ہی رقم پاکستان سے باہر منتقلی کا بتایا اور نہ ہی کبھی بھی یہ والی9 خفیہ جائیدادیں پاکستان میں اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیں اور نہ ہی ان کو بیچنے سے حاصل ہونے والی پوری رقم کو ظاہر کیا۔ یہ جائیدایں لندن کے درمیان میں واقع ہیں ان میں پانچ Edware Road، Water Garden اور دو میں ایک Stouicliff Streeth اور ایک Combridge Squareپر واقع ہیں۔صرف 2018ءمیں بغیر کوئی تفصیل دیتے ہوئے واوڈا نے اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں پاکستان سے باہر 18 کروڑ کی جائیدادوں کا بتایا۔ اس سے پہلے یہ بھی خفیہ رکھی گئی تھیں۔ تاہم واوڈا یہ واضح کرنے میں ہچکچاتے رہے آیا کہ 2018ءمیں ظاہر کی گئی جائیدادیں کہیں کالے دھن کو سفید کرنے کی سکیم (ٹیکس ایمنسٹی سکیم 2018) سے فائدہ ا±ٹھا کر تو ظاہر نہیں کی گئیں۔ جو جائیدادیں واوڈا نے دو ہزار اٹھارہ میں ظاہر کر دیں انکو خریدنے کے ذرائع آمدن کی تفصیلات بتائے بغیر وہ حلال ذرائع سے خریدنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم جب ان کو ایک تفصیلاً سوال نامہ بھیجا گیا اور ان کو غیرظاہر شدہ جائیدادوں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی بھی جواب دینے سے انکار کر دیا۔”بھائی، آپ کا شکریہ! میری طرف سے کوئی جواب نہیں چونکہ معاملہ عدالت میں ہے۔ یہی وکلاءنے کہا ہے“۔ یہ ان کا جواب تھا۔یہ یاد دِلوانے پر کہ عدالت میں ان کی کراچی کی جائیدادوں کا معاملہ ہے نہ کہ لندن میں خفیہ طریقے سے بنائی جائیدادوں کا، اس پر انہوں نے دوبارہ کوئی جواب نہ دیا۔ واڈا سے بار ہا ان مہنگی جائیدادوں کو خریدنے کے ذرائع آمدن پوچھے گئے لیکن انہوں نے ہر بار کوئی جواب نہ دیا۔ ٹیکس ماہرین کے مطابق ٹیکس ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ واوڈا کے خلاف منی لانڈرنگ، آمدن سے زائد اثاثوں اور ٹیکس چوری کا ممکنہ طور پر ایک مضبوط کیس بنتا ہے۔ ان کی ظاہری آمدنی ان کے اثاثہ جات کا جواز مہیا نہیں کرتی ہے کیونکہ ان کے جمع کرائے گئے ٹیکس ریٹنرز اتنے ہیں کہ ان سے پاکستان میں ایک اکیلا فلیٹ نہیں خریدا جا سکتا۔ جبکہ انہوں نے لندن کے پوش علاقے میں درجن سے زیادہ جائیدادیں بنائیں۔ واڈا کا ٹیکس ریکارڈ پاکستان سے باہر بھیجے جانے والی کسی بھی رقم کی عکاسی نہیں کرتا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے یو۔کے اور دوسرے ممالک میں فلیٹ منی لانڈرنگ اور غیرقانونی ذرائع سے بنائے۔”اسی طرح مالی سال 2017-18ءمیں وہ اپنے ٹیکس ریٹرنز میں 18 کروڑ مالیت کی جائیدادیں ملک سے باہر ظاہر کر چکے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف اگر ہم پانچ یو۔کے جائیدادیں دبئی اور ملائیشیا کے فلیٹ کو وہ اپنے نامزدگی کاغذات میں ظاہر کر چکے ہیں، کی مالیت کا اندازہ لگائیں تو ان کی قیمت تین سو تیرہ ملین سے زیادہ ہے جو کہ ایک کھلا تضاد ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے اپنی جائیداد کو چھپایا یا ان جائیدادوں کی ٹیکس چوری کیلئے کم قیمت ظاہر کی۔
ایک ٹیکس کے ماہر نے مزید اضافہ کیا۔ اب ان 9چھپائی گئی جائیدادوں کی طرف آتے ہیں جن کے واڈا 2007ءسے 2016ءکے درمیان مالک تھے لیکن ان کو ظاہر نہ کیا۔ ان میں مندرجہ ذیل جائیدادیں شامل ہیں۔
-1 ٹائٹل نمبر1: NGL 361763‘ Flat # 603‘ Park Wash‘ Edgware Road‘ London W22 K13‘ یو۔کے لینڈ رجسٹری آفس کے کاغذات (جن کی کاپی DWB کے ساتھ مہیا ہے) ظاہر کرتے ہیں کہ واڈا نے یہ جائیداد 2007ءمیں $320,000 کی قیمت پر خریدی۔ یو۔کے پراپرٹی ویب سائٹ Zoop کے مطابق 2007ءکے بعد اسی فلیٹ کو 2013ءمیں فروخت کر دیا گیا۔ اندازاً موجودہ وقت میں اس کی قیمت $460,00 ہے (Rs. 85.10 ملین)

2: ٹائٹل نمبر N612403293 ، Flat 466 ، West ،Edware Road ، London W22Ou یو۔کے لینڈ رجسٹری کاغذات ظاہر کرتے ہیں کہ واڈا نے یہ فلیٹ 23 جولائی 2017 ءمیں $285,00کی قیمت پر خریدا۔ یوکے کے رائیل اسٹیٹ Zoolraویب سائیٹ کے مطابق 2007 ءکے بعد 2016 ءمیں اس جائیداد کو فروخت کےلئے پیش کر کیا گیا۔ تاہم یہ جائیداد (Rs.91.575)میں اکتوبر 2016 ءمیں فروخت ہوئی۔

3 : ٹائٹل نمبر Ngl382324 ,Flat 368,West ،Edware Road ، London W22Ou
یو۔کے لنڈن رجسٹری جس کے سرکاری کاغذات ظاہر کرتے ہیں کہ واڈا نے یہ جائیداد 26 ستمبر 2009 ءمیں $320,00 مالیت میں خریدی۔ 2007 ءکے بعد فلیٹ ملکیت دسمبر 2012 ءہیں۔
یو۔کے رائیل اسٹیٹ ویب سائٹ آف Zoopar کے مطابق $340,00 قیمت پر فروخت ہوئے۔ اندازاً فلیت کی اصلی مالیت 505,00 (Rs.93.425 )ملین ہے۔

4: ٹائٹل نمبر: NGL400830 Flat No,489 Pacic West ، Edware Road، London W2 215
یو۔کے لندن رجسٹری کے سرکاری کاغذات یہ راز فاش کرتے ہیں کہ واڈا نے یہ فلٹ 5 مارچ 2008 ءکو 285,000 قیمت پر خریدا۔ یو۔ کے رئیل اسٹیٹ ویب سائیٹ آف Zooper کے مطابق ستمبر 2011 ءمیں یہ فلیٹ 296,00 کی قیمت پر فروخت ہوا۔ اندازاً فلیٹ کی اس وقت کی مالیت 518,00 (Rs, 95.830 )ملین ہیں۔
 

5 : ٹائٹل نمبر NGL 371378 ، Flat  NO. 567 ، Park West ، Edgware Road ، London W22RA
یو۔کے رجسٹری کی سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ فلیٹ25 ستمبر 2007ءمیں 295,000کی قیمت پر خریدے گئے۔ 2007 کے بعد یو۔کے پراپرٹی کی ویب سائیٹ بتاتی ہیں کہ یہ فلیٹ 2013 ءمیں 365,000 کی قیمت پر پروخت کردیا گیا۔ Zoopla ویب سائیڈ کے مطابق اس فلیٹ کی موجود ہ قیمت اندازاً 484,00 ہے (Rs89.540 ملین)
 
 

 
6 : ٹائٹل نمبر NGL773727، Flat  NO.24 Stoure Liffee Close، Stouschlifffe ،London WIH5AC یو۔کے لینڈ رجسٹری دستاویزات کے مطابق واڈا نے فلیٹ 13 ستمبر 2007 ءکو 640,00 کی قیمت پر خریدا۔ 2007 ءکے بعد فلیٹ کو نومبر2014 ءاور مارچ 2017 ءکو فلیٹ کو پیچتے کے لئے ویب سائٹ پر ڈال دیا گیا۔ 1.15 ملین قیمت کا مطالبہ کیا تاہم رئیل اسٹیٹ کی ویب سائیٹ کے مطابق فلیٹ جون 2017 ءمیں 1.1ملین کی قیمت پر فروخت ہوا۔ (RS 194.250 ملین)۔

7 : ٹائٹل نمبر NGL946951] ,Flat NO. 9 ،Water Gardans ، HA73Q1 Stanmore ،
یو۔کے لینڈ رجسٹری دستاویزات کے مطابق واڈا نے اس جائیداد کی ملکیت دسمبر 2014 ءمیں حاصل کی۔ رئیل سٹیٹ کی ویب سائیڈ کے مطابقاس جائیداد کی اندازاً قیمت 1.3 ملین ہے۔ ویب سائیڈ کے مطابق یہ جائیداد 2008 ءمیں 600,00 قیمت پر فروخت کر دی گئی اور اسے دسمبر 2014 ءمیں دوبارہ 1,200,000کی قیمت پر فروخت کردیا گیا۔ اس گھر کی موجودہ قیمت اندازاً 1,352,000ہے۔ ( Rs 250,120 ملین)

8: ٹائٹل نمبر NGL.947677، Flat 118 ,The Water Gardens، London ، W2 2DD London

9: ٹائٹل نمبر NGL.948683،Flat 28 CluadiongleTower,Flat ، Combridge Squre ، W22DL London

یو۔ کے ویب سائیڈ کے مطابق واڈا نے اس جائیداد کی ملکیت 27 جنوری 2015ءکو حاصل کی۔ فلیٹQuadrange Tower کی چوتھی منزل پر واقع ہے۔ رائیل اسٹیٹ کی ویب سائیڈ کے مطابق یہ فلیٹ 2007 ءمیں 550,00 کی قیمت پر فروخت ہوا۔ اور یہی فلیٹ دوبارہ فروری 2016 ءمیں 895,00 کی قیمت پر فروخت ہوا۔ اس فلیٹ کی اندازاًموجودہ قیمت 947,00 ہے۔ (175.195 ملین)
کیا واڈا پاکستان کے رہائشی ہیں یا جلاوطن :
DBW کی دستاویز ات عیاں کرتی ہیں کہ پی ٹی آئی منسٹر پاکستان کے رہائشی ہیں اور مالی سال 2010 ءکے بعد بھی چھ ماہ سے زائد ملک سے باہر نہیں رہا۔ انکم ٹیکس آرڈینس(ITO)کے سیکشن 82 کے مطابق ”ایک انفرادی شخص انفرادی طور پر ٹیکس کے لئے دینے کا مجاز ہوگا۔ اگر انفرادی شخص 183 دنوں یا اس سے زیادہ وقت کے پاکستان میں موجود ہوگا“۔
ٹیکس ماہرین کی رائے ہیں یہ سچ ہے کہ واڈا 2010 ءسے اب تک پاکستان کے رہائشی رہ چکے ہیں اس لئے وہ اس سے قطع نظر کہ ان کی جائیدادیں کہاں ہیں وہ ٹیکس دینے کے پابند ہیں۔ وہ اپنی ٹیکس ریٹرنز میں پوری دنیا میں جائیدادیں ظاہر کرنے کے پابند ہیں لیکن انہوں نے اس کو چھپا دیا اور ٹیکس کے محکمے کو دھوکا دیا۔
واڈا کا ٹیکس ریکارڈ:
DBW پر موجود واڈا کے ٹیکس ریکارڈ کچھ دلچسپ حقائق ظاہر کرتے ہیں 2017 ءسے 2013 ءتک واڈا کا آئن لائن کوئی ٹیکس ریکارڈ موجود نہd-\ DBW نے بھی 2014 ءسے 2018ءتک ان کی ویلتھ سٹیٹ منٹ حاصل کی تھی۔ 2014-15 ءمالی کے سال کے مطابق واڈا نے جو اپنی ویلتھ سٹیٹ منٹ ظاہر کی اس کے مطابق انہوں نے Rs 136,423,104 (136.42 ملین)کے اثاثہ جات ظاہر کئے۔ اسی طرح Rs 10,077,022 (10.07 ملین)بیرونی ترسیل رقم ظاہر کی۔ جبکہ Rs 6,550,000 (RS6.55 ملین ) ذاتی اخراجات ظاہر کئے۔ اسی طرح واڈ انے داخلی اورخارجی Rs11,140,199 (11.14 ملین) کی رقوم 2016-17 ءکے مالی سال میں ظاہر کیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ویلتھ سٹیٹ منٹ کے فارم 116(2)میں کوئی بیرونی جائیداد ظاہر ہی نہیں کی۔
اثاثہ جات اور قرضہ جات کی سٹیٹ منٹ 2016-17 ءکے مالی سال کی ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی منسٹر Rs149,892,335 (149.89 ملین) کے کل اثاثہ جات کے مالک ہیں جبکہ انہوں نے (RS7,050,000) ملین اپنے ذاتی اخراجات ظاہر کئے ہیں۔ انہوں نے اپنے اثاثہ جات کے بیان میں کوئی بیرونی جائیداد ظاہر نہیں کی۔
اس طرح مالی سال 2017-18 ءکے واڈا کے ٹیکس ریکارڈ جو کہ مستند قانوی ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ واڈا نے پہلی دفعہ RS188,361.2 قیمت کی جائیدادیں پاکستان سے باہرظاہر کیں۔ تاہر یہ غیر واضح تھا کہ ان کی یہ جائیدادیں دبی کی ہیں یا ملائیشیک کی یا یو۔کے کی جائیدادیں جو انہوں نے اپنے کاغذ نامزدگی میں ظاہر کئے ہیں۔
جبکہ واڈا نے مالی سال 2017-18 ءمیں اپنی ویلتھ سٹیٹ منٹ میں ظاہر کیا تھا کہ ان کے اثاثے Rs 149.89 ملین سے RS200.55 ملین تک بڑھ چکے ہیں۔ اپنی ویلتھ سٹیٹ منٹ کے مطابق واڈا نے RS 200.599 ملین قرم کا داخلی بہاﺅ ہوا ہے ان کی ویلتھ سٹیٹ منٹ عیاں کرتی ہیں کہ انہوں نے 6.41 ملین کا ترسیل زد وصول کیا ہے اور RS194 ملین دوسری مد میں ظاہر کئے ہیں اسی طرح انہوں نے پاکساتن میں RS130 ملین کے اثاثے ظاہر کئے ہیں۔
واڈا پاکستان میں 2004 ءمیں ٹیکس دینے والے صرد کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ تاہم 2007 ءسے 2013 ءسے ان کا انکم ٹیکس ریکارڈ صفر ہے۔ اسی طرح FBR کی سالانہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی ڈائرکلیٹری جو کہ ریونیو کی سرکاری ویب سائیڈ پر مہیا ہے دیکھاتی ہے کہ واڈا نے مالی سال 2012 ء2013 ئ،2014 ئ2015 ءمیں صفر ٹیکس ادا کیا تھا۔ FBR ڈائیریکٹری ظاہر کرتی ہیں کہ واڈا نے مالی سال 2016 ءمیں RS480,909 ءانکم ٹیکس ادا کیا اور انہوں نے سٹاک ایکس چینچ ذرائع آمدن کے طور پر ظاہر کئے۔ جبکہ اسی طرح 2017 ءمیں RS4,9,0,192 (RS4.09 ملین)انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ ان کی ذرائع آمدن اسٹاک ایکس چینچ تھی۔
کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر کی گئی واڈا کی جائیداوں کی تفصیل:
بڑی دلچسپی کی بات ہے کہ مسٹر واڈا جو کہ لندن کے پوش علاقوں میں کئی پر آشائش فلیٹوں کے مالک ہیں اپنے کاعذ نامزدگی میں ظاہر کرتے ہیں کہ وہ کل 7 جون 2018 تک RS298,103,384 (RS298.10) ملین قیمت کے منقولہ اور منقولہ جائیدادوں کے مالک ہیں۔ کاغذات نامزدگی کے مطابق وہ لندن میں پانچ جائیدادوں 19-20Hydo Park palace ایک فلیٹ 177 Quardrange Tower، جو کہ Edgware Road کے قریب ہیں کے مالک ہے۔ انہوں نے دو مزید جائیدادیں جن کی قیمت تو برطانوی پاﺅنڈ سیٹرلنگ ظاہر کی گئی ہیں۔ لیکن ان کے نام ظاہر نہیں کئے گئے۔
9غیر ظاہر شدہ جائیدادوں کی رقم فروخت کے عمل سے کہاں سے حاصل کی گئی:
نو غیر ظاہر ظدہ جائیدادیں 2007 سے 2016 ءواڈا کی ملکیت میں رہیں۔ یو۔کے لینڈ رجسٹری کے سرکاری دستاویزات کی تفصیل کے مطابق، DBW پر مہیا ریکارڈ کے مطابق دو جائیدادیں واڈا دسمبر 2014 ءتک ایک جائیداد کا جنوری تک اور ایک دوسری جائیداد کا فروری 2016 ءتک مالک رہے۔ تاہم حال میں ہیں ان جائیدادوں کی ملکیت تبدیل ہو چکی ہیں۔ تاہم اس بات کا تصدیق نہیں ہوئی کہ آیا واڈا نے ان جائیدادوں کو فروخت کر دیا ہے کہ یا کسی اور کے نم منتقل کردیا ہے (اگر یہ ان کی بیوی کے نام بھی نہیں) یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ اگر واڈا نے ان فلیٹوں کو فروخت کردیا ہے تو وہ رقم (فروخت کے عمل سے ان جائیدادوں سے حاصل ہوئی تھی) کہاں ہے کیونکہ ان کو ویلتھ سٹیٹ منٹ میں ظاہر نہیں کیا گیا۔
واڈا نے 9 پرآسائیش جائیدادیں خریدنے کے لئے رقم کہاں سے حاصل کی اور FVG کیا ہے:
پی ٹی آئی منٹسر نے ہمیشہ فیصل واڈا گروپ (FVG) کنسٹرکشن(Construction) کو اپنا بنیادی ذرائع آمدن کے طور پر پیش کیا ہے اور یہی انہوںنے اپنے کاغذات نامزدگی کی مد میں کاروباری وجود کے طور پر ظاہر کیا ہے۔ FVG کینسٹرکشن اتنی چھوٹی ہے کہ یہ نہ تو SECP کے ساتھ کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور نہ یہ کراچی میں اسوسی ایشن آف بلڈز اینڈ دیلویلپرز (ABAB) کی لسٹ میں کمپنی کے طور پر درچ ہے سرکاری ریکارڈ دکھاتا ہے کہ ان کی اس کمپنی نے 2007 ءمیں 2017 ءتک اور جولائی 2013 ءسے اب تک صفر ٹیکس ادا کیا ہے۔ اب FBR نے اس کمپنی کا انکم ٹیکس اکاﺅنٹ معطل کردیا ہے۔
یہ تمام باتیں سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہیں کہ ایک ایسے وقت میں لندن میں فلیٹس کیسے خریدے گئے جبکہ معلوم ذرائع آمدن صفر (FVG Construction)ٹیکس ادا کر رہی تھی۔
 
 
 

Comments

comments