مقبوضہ کشمیر میں شناخت سے محروم پاکستانی خواتین نے ایل او سی توڑنے کا اعلان کر دیا

  • IMG-20190517-WA0040.jpg

Kashmir

جنوبی جنوبی ، شمالی کشمیر اور ڈوڈا میں بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی کی الگ الگ کارروائیوں میں 6 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے۔ سابق حکمران جماعت پی ڈی پی کا کارکن بھی مارا گیا ہے جبکہ ایک بھارتی فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔ پلوامہ میں نوجوانوں کی شہادت کے بعد کرفیو لگا دیا گیا ہے جبکہ شوپیاں ضلع میں ہڑتال سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔ جمعرات کوبھارتی فورسز نے ضلع پلوامہ کے علاقے ڈلی پورہ میں نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر گھر گھر تلاشی لی اور 5 نوجوانوں کو فائرنگ کر کے شہید کردیا۔شہید نوجوانوں کی شناخت نصیر، عمر میر، خالد احمد اور رئیس احمد ڈار کے ناموں سے ہوئی جب کہ بھارتی فورسز کی فائرنگ سے ایک نوجوان یونس احمد ڈار بھی شدید زخمی ہوا ، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کو عسکریت سے روکنے کے لیے نئی سرنڈر پالیسی جاری کرے گی ۔نئی سرنڈر پالیسی جاری کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کی گورنر انتظامیہ بھی پالیسی کا جائزہ لے رہی ہے۔ سرنڈر پالیسی کو حتمی شکل دینے کے بعد بھارتی وزارت داخلہ اور نیشنل سیکورٹی کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر کے سکیورٹی ماہرین نے نئی سرنڈر پالیسی کے پہلے سے تیار شدہ مسودے میں کئی نئی تجاویز شامل کی ہیں ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عسکریت پسندوں کو خود سپردگی (سرنڈر) کے لئے لبھانے کی خاطر ان کے لئے کچھ مراعات کا بھی اعلان کیا جائے جو نوجوان عسکریت چھوڑنے پر آمادہ ہوں انہیں ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ وہ محفوظ اور خوشگوار زندگی گزار سکیں۔ نوجوانوں کو عسکریت پسندی سے روکنے کے لئے سرنڈر پالیسی میں معافی سرفہرست ہو گی۔ ایسے نوجوان جو سرنڈر کر لیں گے ان کے کیس ختم کر دیئے جائیں گے اور انہیں معافی دی جائے گی۔ 
مقبوضہ کشمیر میں شناخت سے محروم پاکستانی خواتین نے ایل او سی توڑنے کا اعلان کر دیا
مقبوضہ کشمیر میں شناخت سے محروم پاکستانی خواتین نے لائن آف کنٹرول کے راستے پاکستان واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔ ان خواتین نے اعلان کیا ہے کہ ان کے پاس کوئی شناختی یا سفری دستاویز موجود نہیں چنانچہ لائن آف کنٹرول کے راستے اپنے بچوں کے ہمراہ پاکستان جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کے پی آئی کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے دور میں بھارتی حکومت نے 2010ء میں سرنڈر پالیسی کا اعلان کیا تھا اس پالیسی میں آزادکشمیر اور پاکستان میں مقیم کشمیری نوجوانوں کو واپسی کی صورت میں عام معافی، ان کی بحالی کا اعلان کیا گیا تھا۔ پاکستان اور آزادکشمیر میں مقیم مقبوضہ کشمیر کے کئی نوجوانوں نے اس دوران پاکستان اور آزادکشمیر میں شادیاں کر لی تھیں۔ 2010ء کی پالیسی کے تحت تقریباً پانچ سو پچاس خاندان واپس مقبوضہ کشمیر گئے تھے۔ مقبوضہ کشمیر واپسی کے لئے نیپال اور دوسرے راستوں کو اختیار کیا گیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر واپسی پر سرنڈر پالیسی کے تحت نوجوانوں کو بحالی میں کوئی مدد نہیں کی گئی جبکہ کشمیری نوجوانوں کی پاکستانی اور آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والی بیویوں کو مستقل شہریت دینے سے انکار کر دیا گیا۔

Comments

comments