مہمند ڈیم سے پشاور، چارسدہ اور نوشہر سیلاب سے محفوظ ہوجائیں گے

  • F0ABE8F9-70E0-4142-852D-83C73E2B8A21.jpeg

اسلام آباد: سابق چیئرمین واپڈا شکیل درانی نے کہا ہے کہ مہمند ڈیم درحقیقت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں کو سیلاب سے بچانے کا منصوبہ ہے، یہ پراجیکٹ 2002میں نجی شعبے کے حوالے کیا گیا جو ڈیم تعمیر کرنے میں ناکام رہا اور 7سال ضائع ہو گئے۔

گفتگو کرتے ہوئے شکیل درانی نے کہا کہ فرانس کی ترقیاتی ایجنسی (اے ایف ڈی) نے ڈیم کی فزیبلٹی کیلیے 80لاکھ ڈالر کی گرانٹ دی جبکہ ماحولیاتی اثرات پر تحقیق کیلیے مزید 10 لاکھ ڈالر دیے۔ مہمند ڈیم سے نا صرف بجلی پیدا ہو گی بلکہ آب پاشی کے لیے پانی بھی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ مہمند ڈیم کی فزیبلٹی اسٹڈی جاپان کی انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے تعاون سے مارچ 2000 میں مکمل ہوئی جبکہ اس کا تفصیلی انجنیئرنگ ڈیزائن اپریل 2017میں مکمل ہوا۔ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش1.2ملین ایکڑفٹ ہے اور اس کی تعمیر کے بعد ایک لاکھ ساٹھ ہزار ایکڑ سے زائد زمین سیراب کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ ڈیم پشاور کو 30کروڑ گیلن پینے کا پانی روزانہ فراہم کریگا۔

شکیل درانی نے کہا کہ اس ڈیم کے بننے سے پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ سیلاب سے محفوظ ہو جائیں گے۔ مہمند ڈیم سے 800میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی اور یہ نیشنل گرڈ کو ہر سال 2.86ارب یونٹ سستی اور ماحول دوست بجلی فراہم کریگا۔

واپڈا کے ایک افسر نے اl گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہمند ڈیم خیبرپختونخوا کے دورافتادہ علاقے میں تعمیر کیا جارہا ہے جہاں آبادی بہت کم ہونے کی وجہ سے بڑی نقل مکانی اور ماحولیاتی نقصانات کا بھی اندیشہ نہیں ہے۔ ڈیم کی تعمیر سے مختلف صوبوں میں پانی کے معاملات پر تنازعات میں بھی کمی آئیگی۔

Comments

comments