نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیكٹ شدید مالی بحران کا شکار

  • DB0CD03C-6689-460C-83D3-7C28D332D180.jpeg

اسلام آباد:  نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیكٹ كے شدید مالی بحران سے دوچار ہونے كا انكشاف ہوا ہے۔

وزارت آبی وسائل نے ٹھیكیداروں  كو بلوں  كی ادائیگیوں  اور دیگر ضروریات كیلئے حكومتی خود مختار گارنٹی پراسكوک بانڈز جاری كركے 55 ارب روپے كاا انتظام كرنے كی اجازت مانگ لی ہے اور ان اسكوک بونڈز كے اجراءپر ٹیكس سے چھوٹ بھی مانگ لی ہےجب کہ سمری تیار كركے منظوری كیلئے كابینہ كی اقتصادی رابطہ كمیٹی كو بھجوادی ہے۔

دستیاب دستاویز كے مطابق ای سی سی كو بھجوائی جانیوالی سمری میں  كہا گیا ہے كہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیكٹ كے چاروں  یونٹس مرحلہ وار آپریشنل  ہوچكے ہیں اور نیلم جہلم میں  پانی كی دستیابی كے مطابق بجلی پیدا كررہے ہیں۔

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیكٹ كے نظر ثانی شُدہ چوتھے پی سی ون كیلئے فنڈز میں  شدید قلت كا سامنا ہے اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیكٹس كی مد میں  ٹھیكیداروں  كے بلوں  كی ادائیگیوں  اور دیگر اخراجات كیلئے فوری طور پر 55 ارب روپے كی ضرورت ہے، لہٰذا نیلم جہلم ہائیڈرو كمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ كو مقامی بینكوں كے ذریعے حكومتی خودمختار گارنٹی پر اسكوک بونڈ جاری كركے 55 ارب روپے اكٹھے كرنے كی اجازت دی جائے اور ان اسكوک كو ٹیكس سے چھوٹ دی جائے تاكہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیكٹ كیلئے دركار فنانسنگ پوری كی جاسكے۔

سمری میں  یہ بھی كہا گیا ہے كہ بینكنگ كمپنیز آرڈیننس 1962 كی سیكشن 13 اور 29 كے تحت بطور ایس ایل آر اہل منظور شُدہ سیكورٹی بھی قرار دیا جائے۔

Comments

comments