اٹک سے لاپتہ ہونے والے ڈاکٹر انعام اللہ کی بازیابی کے لئے احتجاجی ریلی آمنہ مسعود جنجوعہ نے قیادت کی،

  • VideoCapture_20190417-024309.jpg

اٹک سے لاپتہ ہونے والے ڈاکٹر انعام اللہ کی بازیابی کے لئے احتجاجی ریلی نکالی گئی ،ریلی کی قیادت صدر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے کی، کچہری چوک سے فوارہ چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی ،شرکاء نے بینرزاور پلے کارڈزاٹھا رکھے تھے جن لاپتہ افراد کی بازیابی کے نعرے درج تھے ڈاکٹر انعام اللہ کے اہل خانہ اوردیگر لاپتہ افراد کے لواحقین کی احتجاجی ریلی میں شرکت کی، ڈاکٹر انعام اللہ کو 11روز قبل اپنی رہائش گاہ کے قریب سے اغواء کیا گیا تھا ۔۔۔رپورٹ لیا قت عمر اٹک
گیارہ روز قبل پر اسرار طریقہ سے اٹک کے ایم بی بی ایس ڈاکٹر ، نائب صدر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان ڈاکٹر انعام اللہ کے جبری گمشدہ ہونے کے خلاف ڈی ایچ آرکے زیر اہتمام صدر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کی قیادت میں ملک بھر سے دیگر جبری لاپتہ افراد کے اہل خانہ جن میں خواتین کی اکثریت شامل تھی نے کچہری چوک سے فوارہ چوک تک احتجاجی ریلی نکالی ،ڈاکٹر انعام اللہ کے اہل خانہ نے جبری طور پر لاپتہ ڈاکٹر انعام اللہ اور دیگر کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا
ساٹ
بیٹی ڈاکٹر انعام اللہ

آمنہ مسعود جنجوعہ نے اعلان کیا کہ انیس اپریل کو شام پانچ بجے ڈی چوک اسلام آباد میں ملک بھر سے جبری طور پر لاپتہ افراد کے بازیاب نہ ہونے کے خلاف ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان کے زیر اہتمام مظاہرہ کیا جائے گااور کہا کہ ڈاکٹر انعام اللہ کے جبری لاپتہ ہونے پر انہوں نے سات اپریل کو اقوام متحدہ میں باقاعدہ تحریری طور پر شکایت درج کرادی ہے اور اس سلسلہ میں ان کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ای میل کے ذریعہ رابطہ اور معلومات کا سلسلہ جاری ہے پاکستان اقوام متحدہ کے رکن ملک کی حیثیت سے بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کا پابند ہے اصل دہشت گرد احسان اللہ احسان اور دیگر کالعدم تنظیموں کے مستند دہشت گرد اداروں کے ریسٹ ہاؤسوں میں ان کے خصوصی مہمان کی حیثیت سے رہائش پذیر ہیں جبکہ ملک بھر میں شریف، بے گناہ اور بے قصور افراد کو گرے لسٹ اور دیگر الزامات کے تحت ماورائے عدالت جبری طور پر لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی حکومت نے محض اداروں کے ناراض ہونے کے خوف سے قانون سازی سے گریز کیا ہے

آمنہ مسعود جنجوعہ نے میڈیا کو بتایا کہ تحریک انصاف ، مسلم لیگ ن ،پی پی پی ، جے یو آئی، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتیں جب بھی اقتدار سے باہر ہوتی ہیں تو وہ ان کے کیمپوں میں نہ صرف شریک ہوکر اظہار یکجہتی کرتی ہیں بلکہ ان کے ہر قدم کے شانہ بشانہ چلنے کی یقین دھانی اور گم شدہ افراد کے بارے میں اقتدار میں آکر واضح قانون سازی کی بھی یقین دھانی کراتی رہی ہیں

سپریم کورٹ میں جبری طور پر لاپتہ افراد کے سات سو پچاس کیس داخل ہیں تیسرے چیف جسٹس تبدیل ہوگئے تاہم سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے کیسز کی شنوائی نہ ہوسکی وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ان کے احتجاجی کیمپ میں آکر وعدہ کیا تھاکہ جبری گمشدگی کو جرم قرار دے کر پارلیمنٹ سے قانون منظور کرایا جائے گا کئی ماہ گزر گئے یہ قانون کہاں ہے اور شیریں مزاری کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

Comments

comments