طالبان اور کابل حکومت کا افغان امن مذاکرات میں خواتین نمائندوں کو بھی شامل کرنے کا اعلان

  • F92CDF43-089F-4E14-A22C-F09518A45F96.jpeg

دوحہ: قطر میں ہونے والے افغان امن مذاکرات میں طالبان اور کابل حکومت کی جانب سے خواتین نمائندوں کو بھی شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔  

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صحافیوں کو ٹیلی فون کر کے بتایا ہے کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان کے وفد میں خواتین بھی شامل ہوں گی۔ دوسری جانب کابل انتظامیہ نے بھی 150 اراکین پر مشتمل مذاکراتی وفد تشکیل دیا ہے جس میں درجنوں خواتین شامل ہیں۔

افغان امن مذاکرات کے طویل دور میں یہ پہلا موقع ہوگا جب فریقین کی جانب سے خواتین کو مذاکراتی ٹیم میں شامل کیا گیا ہو۔ امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے طالبان اور کابل حکومت کی جانب سے مذاکراتی عمل میں خواتین کو شامل کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے۔

واضح رہے کہ قطر طالبان اور امریکی نمائندے افغان امن مذاکرات کے سلسلے میں گزشتہ روز ہی دوحہ پہنچ گئے تھے جہاں ابتدائی بات چیت بھی ہوئی تاہم باقاعدہ طور پر امن مذاکرات کے عمل کا آغاز 19 اپریل سے ہوگا۔

Comments

comments