50 گز کا فاصلہ کرکٹرز کیلیے زندگی کی بقا بن گیا

  • 1593177-khalidmashud-1552689492-575-640x480.jpg

لاہور:  50گز کا فاصلہ بنگلہ دیشی کرکٹرز کیلیے زندگی کی بقا بن گیا۔

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے منیجر خالد مشہود نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ کرائسٹ چرچ میں جو ہوا اس کی دنیا کے کسی حصے میں کوئی توقع نہیں کرسکتا، نہ ہی کوئی چاہے گا کہ کبھی اس طرح کے حالات کا سامنا کرے، 2کرکٹرز لٹن داس، نعیم حسن اور اسپن بولنگ کوچ سنیل جوشی کے سوا ٹیم اور اسٹاف کے 17 افراد بس میں سوار تھے، ہم مسجد سے صرف 50 گز کے فاصلے پر تھے، صرف 3 منٹ قبل بھی مسجد آ گئے ہوتے تو بچ نکلنا محال تھا،ہم خوش قسمت ہیں کہ تھوڑا فاصلے پر ہی رہ گئے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے بس میں بیٹھ کر جو دیکھا وہ کسی فلم کا منظر لگتا تھا، خون میں لتھڑے نمازی لڑکھڑاتے ہوئے مسجد سے باہر آرہے تھے، ہم سب8 سے 10 منٹ تک بس میں اپنے سر نیچے کیے بیٹھے رہے تاکہ کوئی گولی نہ لگ جائے، بعدازاں سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ شوٹر ہمیں نشانہ بنا سکتا ہے، بہتر ہے کہ یہاں سے بھاگ نکلیں، ہیگلے پارک سے ہوتے ہوئے ہم گراؤنڈ میں پہنچے بعد ازاں ہوٹل آگئے۔

انھوں نے بتایا کہ کرکٹ اپنی جگہ ایک انسان کے طور پر بھی ان لمحات کو دیکھنا ایک کربناک تجربہ تھا، بس میں کچھ کھلاڑی رو بھی رہے تھے۔

مسجد جاتے وقت بنگلہ دیشی ٹیم کے ساتھ کوئی سیکیورٹی اہلکار نہیں تھا

مسجد جاتے وقت بنگلہ دیشی ٹیم کے ساتھ کوئی سیکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھا، اس کا انکشاف کرکٹ بورڈ کے سربراہ نظم الحسن نے کیا، انھوں نے کہا کہ ٹریننگ گراؤنڈ میں سیکیورٹی پر مامور افراد ساتھ رہے جبکہ لائزن آفیسر، کوچ اور دیگر اسٹاف کے ہمراہ لنچ کرنے گئے تھے، مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلیے جانے والے کھلاڑیوں کے ساتھ کوئی سیکیورٹی آفیسر نہیں تھا۔ ہمیں ابھی اس بات پر معلومات حاصل کرنا ہوں گی کہ ہمارے پلیئرز نے مسجد جانے سے متعلق سیکیورٹی کو آگاہ کیا تھا یا نہیں۔

نظم الحسن نے کہاکہ نیوزی لینڈ میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ہمیں اپنی حفاظت کو خود بھی یقینی بنانا ہوگا، ہم صرف ان ممالک کے دورے کریں گے جو ہمیں سیکیورٹی فراہم کرسکتے ہوں، سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے۔

Comments

comments