آئندہ چند برسوں میں حج مزید مہنگا ہوجائے گا، وفاقی وزیر مذہبی امور

  • 7165E598-4391-42A5-9EE7-AF6B8918A1A1.jpeg

اسلام آباد / پشاور: وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ سعودی وزارت حج کی خواہش ہے کہ تمام ممالک حج کے معاملات 3 سے 4 سال میں بتدریج نجی شعبے کو منتقل کریں، آئندہ چند برس میں حج مزید مہنگا اور نجی شعبے کے تحت ہی ممکن ہو سکے گا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا سعودی حکام چاہتے ہیں کہ حج مکمل نجی شعبے کے حوالے کیا جائے اور وہ مرحلہ وار حج نجی شعبے میں منتقل کرنے کا کہہ رہے ہیں اور ان کی حج پرائیوٹائز کرنے کی بات ماننا پڑے گی۔

وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں حج عمرہ مفت نہیں ہوتا، حج اخراجات میں اب کوئی تبدیلی نہیں ہو گی، حج سبسڈی کی سمری وفاقی کابینہ میں پیش کی گئی اور اس کے حق میں دلائل بھی دیے تھے تاہم کابینہ نے حج سبسڈی پر اتفاق نہیں کیا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بدحال معیشت میں سبسڈی دینے پر ان کا دل نہیں مانتا، مسلم لیگ (ن) نے الیکشن کی وجہ سے سبسڈی دی تھی نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے سبسڈی کو جائز قرار دیا تھا لیکن انھوں نے مرحلہ وار سبسڈی ختم کرنے کی تجویز دی تھی، انھوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے دنیا بھر کیلیے حج اخراجات میں اضافہ کیا اور اسے اخراجات میں کمی کا نہیں کہیں گے، سعودی ولی عہد سے بھی اخراجات میں کمی کا مطالبہ نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے 63 ہزار کا فرق پڑا، سعودی عرب کی حکومت نے بھی بعض چیزوں پر ٹیکس لگا دیے ہیں جس کی وجہ سے وہاں ہمیں 1200 ریال اضافی دینا پڑ رہے ہیں جو 45 ہزار روپے بنتے ہیں، گزشتہ سال 42 ہزار کی سبسڈی دی گئی تھی، وہ اس دفعہ اٹھا دی گئی ہے، انھوں نے کہا کہ کاش ہماری خوشگوار شروعات ہوتی اور ہماری معیشت مستحکم ہوتی تو شاید ہم اس سے بھی اچھا پیکیج دیتے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی محمد نور الحق قادری نے جامعہ امانیہ گجر آباد ہزار خوانی پشاور میں شباب اہلسنت کے زیر اہتمام حضرت پیر شیخ گل صاحب مبارک کی یاد میں منعقدہ ’’شیخ المشائخ کانفرنس‘‘ میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہرزہ سرائی کی جا رہی ہے، ہم اپنے ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Comments

comments