آزادی پسند قیادت کاوزیراعظم عمران خان کے مسئلہ کشمیر پر تازہ موقف کا خیر مقدم

  • IMG-20190105-WA0198.jpg

سری نگر مقبوضہ کشمیر کیمشترکہ آزادی پسند قیادت نے وزیراعظم عمران خان کے مسئلہ کشمیر پر تازہ موقف کا خیر مقدم کیا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس ع کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے ترکی میں عمران خان کے مسلہ کشمیر پر بیان کا خیر مقدم کیا ہے میر واعظ نے ٹویٹ کی ہے کہ عمران خان نے درست کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام اپنی آزادی کی تحریک جاری کئے ہوئے ہیں جسے دہشت گردی کے ساتھ جوڑا نہیں جانا چاہئے۔ یاد رہے کہ ترکی میں ترک صدر کے ساتھ میڈیا سے بات چیت میںوزیراعظم نے کہا کہ بھارت اس تناظر میں پاکستان کے ساتھ بات چیت سے گریز کر رہا ہے کہ جب تک پاکستان دہشت گردی میں پشت پناہی ترک نہیں کرتا وہ مذاکرات نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ بات چیت کے بغیر چیزیں بہتر نہیں ہو سکتیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ کشمیر کا ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین سید علی گیلانی نے بھارت کے وزیر داخلہ کے اس بیان، جس میں انہوں نے کہا کہ ’’اگر حریت والوں نے دروازے بند نہ کئے ہوتے تو مسئلہ کشمیر کا حل نکل آیا ہوتا‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان اس زمینی حقیقت کا برملا اعتراف ہے کہ کشمیر کا دیرینہ مسئلہ یہاں کی آزادی پسند قیادت کے بغیر حل نہیں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کے اس اعتراف سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں کے عوامی جذبات، احساسات اور اُن کی امنگوں کی ترجمانی یہاں کی آزادی پسند قیادت کرتی ہے۔ اس اعتراف کے بعد بھارت کے حکمرانوں کو اپنی رائتی ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اس کے تاریخی پسِ منظر اور عوامی خواہشات کے مطابق حل کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ بھارت کے حکمرانوں نے گزشتہ 7دہائیوں سے ریاست جموں کشمیر کے مظلوم عوام کوزیر کرنے کے لیے طاقت کا ہر وہ حربہ استعمال کیا جو ان کے دست رس میں تھا، لیکن جموں کشمیر کے عوام اپنی مبنی برحق جدوجہد سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ گیلانی نے بات چیت کے حوالے سے موصوف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فریب کاری اور مکاری کی اس سے بڑھ کر اور کیا انتہا ہوگی کہ حکومتی سطح پر کسی بھی ذمہ دار نے کسی بات چیت کا کوئی عندیہ نہیں دیا، بلکہ دہلی میں کشمیر کے لیے روانہ ہونے والے وفد کی میٹنگ میں اس
بات کا واشگاف الفاظ میں اعلان کیا گیا تھا کہ ہم کشمیر میں سرکاری اور منتخب لوگوں سے ملنے جارہے ہیں اور یہ کہ ریاست جموں کشمیر بھارت کا ’’اٹوٹ انگ‘‘ ہے۔

Comments

comments