ریلوے اسٹیشن اٹک خورد منفرد اور تاریخی حیثیت کا حامل

ریلوے اسٹیشن اٹک خورد منفرد اور تاریخی حیثیت کا حامل ہے
قدرتی حسن سے مالامال ضلع اٹک اپنی مثال آپ ہے بہتے دریا ندی نالے سنگلاخ پہاڑ اور پہاڑوں کے دامن میں ریلوے اسٹیشن اٹک خورد انتہائی دلکش نظارہ پیش کرتا ہے 1884 میں تعمیر ہونے والا یہ ریلوے اسٹیشن فن تعمیر کا شاندار نمونہ ہے گورے نے اپنی ریاست کو افغانستان تک پھیلانے کے لیے اس ریلوئے اسٹیشن کی تعمیر کی تھی اور ریلوئے ٹریک پشاور سے افغانستان کے باڈر تک پہنچایا یہ ریلوئے اسٹیشن وکٹوریہ دور کی یاد کو تازہ کرتا ہے یہ پنجاب کا اخری ریلوئے اسٹیشن ہے یہ خیبرپختونخواہ اور پنجاب کو ملانے کے لیے پل کا کردار ادا کرتا ہے 2001 میں اس ریلوئے کو سیا حت کے لئے کھول دیا گیا ریلوے اسٹیشن کی سیر کرنے والے سیاحوں کا کہنا ہے

اٹک خورد ریلوے اسٹیشن

اٹک خورد ریلوے اسٹیشن


اگر حکومت اس طرف توجہ دے تو سیاحت میں بہتری کے ساتھ زر مبادلہ بھی کمایا جاسکتا ہے

Comments

comments