جو بھی غفلت یا کوتاہی کا مرتکب ہو گا اسے مثالی سزا دی جائے گی، وزیر اعلیٰ محمود خان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے زیر تعمیر بس رپیڈ ٹرانزٹ پشاور کا اچانک دورہ کیا، صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر، آئی جی پی صلاح الدین محسود، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار ، سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور دیگر متعلقہ حکام بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے،وزیر اعلیٰ نے بی آر ٹی کی مقررہ وقت پر تکمیل میں تاخیر کا باعث بننے والی رکاوٹیں فوری طور پر دور کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ منصوبے پر تیز تر کام دیکھنا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں جلد اجلاس بھی بلا رہے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ اگر منصوبہ بروقت مکمل نہ ہوا تو حکومت سخت ایکشن لے گی، غفلت کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کو نکال باہر کیا جائے گا ، کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کیا جائے گا، کوئی بھی کسی قسم کی خوش فہمی میں نہ رہے ،جب حکومت ایکشن لے گی تو اسکی زد میں آنے والا کوئی بھی ہو بچ نہیں پائے گا،وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ آئندہ روز منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے اجلاس کریں گے،پورے منصوبے کی نگرانی وہ خود کریں گے جو بھی غفلت یا کوتاہی کا مرتکب ہو گا اسے مثالی سزا دی جائے گی، وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر فردوس، ہشت نگری اور گل بہار میں مختلف تعمیراتی سرگرمیوں اور پیش رفت کا معائنہ کیا اور موقع پر موجود لوگوں کی شکایات بھی سنیں، محمود خان نے متعلقہ حکام کو لوگوں کی شکایات دور کرنے کی ہدایت کی،انہوں نے منصوبے سے متاثرہ عوام کی بحالی کیلئے بھی اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے نئے قائم کئے گئے شیلٹر ہوم پجگی روڈ کا اچانک دورہ کیا،صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر، پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار اور سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعیدبھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔وزیر اعلیٰ نے شیلٹر ہوم کے مختلف کمروں اور سہولیات کا معائنہ کیا۔انہوں نے شیلٹر ہوم میں تمام سہولیات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پشاور بھر سے بے گھر افراد کو رات کے قیام کی سہولت دی جائے گی۔ جو لوگ کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں انہیں شیلٹر ہوم کی سہولت فراہم کرنا موجودہ حکومت کا اہم منصوبہ ہے وزیر اعظم پاکستان کے وژن اور سوچ کے مطابق بے گھر افراد کو شیلٹر کی فراہمی کیلئے بہتر انتظام ہونا چاہئے انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں پہلے سے موجود شیلٹر ہومز کو بھی بحال کر رہی ہے جبکہ پشاور میں تین نئے شیلٹر ہومز کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے میں سی پیک پراجیکٹس پر بھرپور توجہ مرکوز کرنے اور خصوصاً فلیگ شپ منصوبوں رشکئی سپیشل اکنامک زون ، حطار سپیشل اکنامک زون، گریٹر پشاور سرکلر ریلوے اور سی پیک کے متبادل روٹ ، گلگت ۔شندور۔چترال۔چکدرہ روڈ پر تیز رفتار پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، انہوں نے توانائی کے صوبائی منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کے استعمال کیلئے طریق کار وضع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اس سلسلے میں علیحدہ اجلاس کا عندیہ دیا، انہوں نے اس حکومتی عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں صنعتوں کو سستی اور بلا تعطل بجلی فراہم کریں گے، صوبے میں صنعت و تجارت کا مستقبل درخشاں ہے، ہم نے صوبے کے وسائل کو صحیح معنوں میں بروئے کار لانا ہے اور انہیں مجموعی معیشت میں استحکام کا ذریعہ بنانا ہے، اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں کو بھرپور محنت کرنا ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا، اجلاس میں صوبے کے مختلف شعبوں میں سی پیک کے تحت پراجیکٹس اور چینی سرمایہ کارکمپنیوں کی معاونت سے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا،سینئر صوبائی وزیر عاطف خان کے علاوہ صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا، شہرام خان ترکئی،اکبر ایوب، محب اللہ خان، معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، مختلف صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں رشکئی سپیشل اکنامک زون کے ترجیحی بنیادوں پر قیام کی ضرورت سے اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سی پیک میں شامل یہ صوبائی حکومت کا نہایت اہم منصوبہ ہے، اس منصوبے کا قیام ہماری بھی ترجیح ہے اور چین خود بھی اس منصوبے میں گہری دلچسپی لے رہا ہے، اس منصوبے سے صوبے کی برآمدات میں اضافہ ہو گا ، مقامی خام مواد کے استعمال کا ذریعہ ہو گا اور لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور مجموعی طور پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس منصوبے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے ، ٹائم لائن کے مطابق صوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کیلئے تمام تر انتظامات اور تیاریوں کو حتمی شکل دی جائے، انہوں نے حطار سپیشل اکنامک زون میں درپیش مسائل بھی حل کرنے کی ہدایت کی،سی پیک کے متبادل روٹ گلگت، شندور، چترال تا چکدرہ روڈ پر پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے اجلا س کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کا جو حصہ صوبے کے پاس ہے اس پر پیش رفت جاری ہے، ایکنک سے اسکی منظوری بھی ہو چکی ہے تاہم گلگت والے حصے پر بھی خصوصی توجہ دلانے کی ضرورت ہے،وزیر اعلیٰ نے اس مقصد کیلئے اسلام آباد میں متعلقہ حکام کے ساتھ اجلاس کا اہتمام کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس پورے منصوبے کی بروقت تکمیل ہماری ترجیح ہو گی،اس منصوبے کی وجہ سے نا صرف چترال اور ملحقہ علاقے سی پیک سے منسلک ہو جائیں گے بلکہ پورا صوبہ باہم مربوط ہو جائے گا،انہوں نے گریٹر پشاور ریجن سرکلر ریل منصوبے کی پراپر فیزیبلٹی کی بھی ہدایت کی اور واضح کیا کہ فنی اور مالی پیچیدگیوں سے بالا تر مکمل اور حقیقت پسندانہ فیزیبلٹی تیار کی جائے جس میں منصوبے کیلئے مناسب ماڈل کی بھی آپشن موجود ہو، اجلاس کو بتایا گیا کہ توانائی کے دو منصوبے بھی متعلقہ کمپنی کے حوالے کرنے جا رہے ہیں جن پر جلد کام شروع ہو جائے گا،وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں بجلی پیدا کرنے کی خاطر خواہ استعداد موجود ہے، جس کو بروئے کار لانے کے لئے صوبائی حکومت پہلے سے منصوبہ بندی کر چکی ہے،صوبے میں بجلی کے سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت کے حوالے سے وفاقی وزیر سے بات ہو چکی ہے، تاہم اس کے باوجود ہمیں اپنی بجلی کے استعمال کا طریق کار بھی نکالنا ہو گا، ہم وسائل خرچ کرتے ہیں تو ان کا فائدہ بھی عوام کو پہنچنا چاہئے، اس سلسلے میں علیحدہ اجلاس کرنے کی ضرورت ہے،اجلاس میں لفٹ ایریگیشن سکیم چشمہ رائٹ بنک کنال پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ منصوبہ مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے جس میں خاطر خواہ پیش رفت کی توقع ہے،اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ شعبہ اعلیٰ تعلیم کے تحت پشاور میں سیف سٹی کا ادارہ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے متعلقہ کمپنی اس منصوبے پر رضامند ہے اور اس نے فیزیبلٹی سٹڈی بھی مکمل کر لی ہے، اس ادارے کی وجہ سے ہم جہاں چاہیں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کر سکیں گے جو صوبائی حکومت کیلئے آمدن کا بہترین ذریعہ ہوگا،وزیر اعلیٰ نے اس منصوبے سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے اس سلسلے میں علیحدہ اجلاس کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے اعلیٰ تعلیم ، آئی ٹی، معدنیات، آبنوشی اور دیگر شعبوں میں بھی منصوبوں پر تیز رفتار پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
۔۔۔

محمود خان

محمود خان

۔۔

Comments

comments